میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ریلوے پولیس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا بحران ۔۔تبادلے سے ٹکٹ چیکنگ تک فیصلوں پر عمل درآمد میں ابہام

ریلوے پولیس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا بحران ۔۔تبادلے سے ٹکٹ چیکنگ تک فیصلوں پر عمل درآمد میں ابہام

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

افتخار چودھری

٭ آئی جی کے احکامات کاغذی، ماتحت افسران بااختیار؟ اسپیشل برانچ کے اختیارات اور ڈویژنل کمانڈ کے درمیان انتظامی کھینچا تانی، اہم فیصلے جاری ہونے کے بعد واپس لینے کی صورتحال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان ریلوے پولیس میں نئے آئی جی کی تعیناتی کے بعد گزشتہ چھ ماہ کے دوران سامنے آنے والے انتظامی فیصلوں، تبادلوں اور خصوصی کارروائیوں نے محکمانہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو نمایاں کردیا ہے ، جہاں ایک جانب آئی جی کی سطح سے واضح احکامات اور مراسلات جاری ہوتے رہے ، وہیں دوسری جانب بعض احکامات پر عملدرآمد، افسران کی تعیناتی، اسپیشل برانچ کے انتظامی دائرہ کار اور ٹکٹ چیکنگ کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں کے حوالے سے فیصلوں میں تبدیلی کی صورتحال بھی سامنے آتی رہی۔ ان واقعات کے تسلسل نے ریلوے پولیس کے انتظامی ڈھانچے ، اختیارات کی مرکزیت اور ڈویژنل سطح پر فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو اہم بنا دیا ہے ۔ محمد وصال فخر سلطان نے 30 مارچ 2026 کو بطور 29ویں آئی جی پاکستان ریلوے پولیس چارج سنبھالا۔ ان کی تعیناتی کے بعد ریلوے پولیس میں جرائم، اسمگلنگ، ریلوے املاک کی چوری اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ فورس کے اندر انتظامی کنٹرول کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر احکامات جاری کیے گئے ۔ تاہم ان احکامات پر عملدرآمد کی صورتحال اور بعض فیصلوں میں بعد ازاں تبدیلی نے محکمانہ نظم و نسق کو زیر بحث رکھا۔ اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال کراچی ڈویژن اسپیشل برانچ کے انچارج سب انسپکٹر شہباز خان کا تبادلہ ہے۔

آئی جی ریلوے وصال فخر سلطان

دستیاب سرکاری احکامات کے مطابق 29 اگست 2026 کو شہباز خان کو کراچی سے کوئٹہ ڈویژن منتقل کرتے ہوئے انہیں فوری طور
پر ریلیز کرکے نئی جائے تعیناتی پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ متعلقہ حکام سے تعمیلی رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ تاہم بعد کی صورتحال
میں شہباز خان کے کراچی میں موجود رہنے اور اسپیشل برانچ سے متعلق ذمہ داریاں انجام دینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسی دوران
کراچی میں ریلوے لائن کے سات ٹکڑوں کی چوری کے مقدمے میں بھی ان کی مدعیت سامنے آئی، جس سے تبادلے کے حکم اور عملی ذمہ
داریوں کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال محکمانہ انتظامی عملدرآمد کا اہم معاملہ بن گئی۔ کراچی ڈویژن میں انتظامی صورتحال صرف اسپیشل
برانچ تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض اہم ریلوے پولیس اسٹیشنز کے انتظامی معاملات بھی مستقل تعیناتی کے بجائے اضافی چارج کے ذریعے
چلائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔ کراچی سٹی اور کراچی کینٹ جیسے اہم مقامات پر افرادی قوت اور افسران کی تعیناتی کا معاملہ
ایسے وقت میں سامنے آیا جب ریلوے پولیس کو مسافروں، ریلوے املاک اور اسٹیشنوں کی سکیورٹی کے ساتھ جرائم کی روک تھام کی اضافی
ذمہ داریاں بھی نبھانا ہوتی ہیں۔ اس انتظامی صورتحال کے بعد 15؍ستمبر 2026کو آئی جی پاکستان ریلوے پولیس کی جانب سے تمام
ڈویژنل ایس ایس پیز کو ایک اہم مراسلہ جاری کیا گیا۔ مراسلے میں اسپیشل برانچ کے معاملات میں مداخلت اور اس کے اہلکاروں پر سرکاری
معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے سے روکا گیا جبکہ واضح کیا گیا کہ اسپیشل برانچ براہ راست آئی جی پاکستان ریلوے پولیس کے
انتظامی کنٹرول میں کام کرتی ہے ۔مراسلے کے اجرا سے اسپیشل برانچ اور ڈویژنل کمانڈ کے درمیان اختیارات کے دائرہ کار کو واضح کرنے کی
ضرورت سامنے آئی، جس کے بعد اسپیشل برانچ کے انتظامی معاملات کو مرکزی کمانڈ کے تحت رکھنے کی پالیسی مزید نمایاں ہوگئی۔ اسی دوران
کراچی ریلوے پولیس کے ایس ایس پی محمد خرم خورشید نے 14ستمبر 2026کو یونٹ انچارجز کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے ٹرانسفر اور
پوسٹنگ سے متعلق درخواستیں دفتر کو ارسال نہ کرنے کی ہدایت کی۔ مراسلے میں آئی جی ریلوے پولیس کے 8مئی 2026 کے احکامات کا
حوالہ دیتے ہوئے ٹرانسفر و پوسٹنگ پر پابندی کی یاد دہانی کرائی گئی اور خلاف ورزی کی صورت میں محکمانہ کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم
اسی عرصے میں بعض تبادلوں پر عملدرآمد اور افسران کے سابقہ مقامات پر موجود رہنے کی اطلاعات نے انتظامی نظام میں عملی سطح پر پیدا ہونے
والے فرق کو نمایاں کیا۔

ریلوے پولیس کے انتظامی فیصلوں میں تبدیلی کی ایک اور نمایاں مثال ٹکٹ لیس مسافروں کی چیکنگ کے لیے خصوصی ٹیموں کی تشکیل کا
معاملہ ہے ۔17اور 18ستمبر 2026کو جاری احکامات کے تحت ریلوے پولیس کی چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہیں ریلوے
کمرشل برانچ، ایس ٹی ایز اور ٹی ٹی ایز کے ساتھ مل کر ٹکٹ کے بغیر سفر کرنے والے مسافروں کے خلاف کارروائی کرنا تھی۔تاہم چند روز
بعد یہ ایس او پی واپس لے لی گئی اور ریلوے پولیس کو معمول کی ٹکٹ چیکنگ سے الگ کردیا گیا۔ نئے طریقہ کار کے تحت ٹکٹ چیکنگ اور
کرایہ وصولی ریلوے کے کمرشل عملے کی ذمہ داری قرار دی گئی جبکہ پولیس کو صرف اس صورت میں طلب کیا جانا تھا جب کوئی مسافر
مزاحمت، بدتمیزی یا امن و امان کی صورتحال پیدا کرے ، وہ بھی ایس ٹی ای یا ٹی ٹی ای کی درخواست پر۔اس طرح چند روز کے اندر خصوصی
پولیس ٹیموں کی تشکیل سے انہیں معمول کی سکیورٹی ذمہ داریوں تک واپس لانے کا فیصلہ سامنے آیا، جس سے ریلوے پولیس کی بنیادی ذمہ
داریوں اور کمرشل امور کے درمیان دائرہ کار بھی واضح ہوا۔جرائم کی روک تھام، اعدادوشمار سے کارکردگی کا تعین ہوگاریلوے پولیس کے
لیے انتظامی معاملات کے ساتھ اصل چیلنج ریلوے مسافروں، ٹرینوں اور املاک کا تحفظ، چوری و جرائم کی روک تھام اور غیرقانونی اشیا کی نقل
و حمل کے خلاف کارروائی ہے ۔

رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ریلوے پولیس کی جانب سے ہزاروں مقدمات درج کرنے اور ملزمان کی گرفتاریوں کے اعدادوشمار سامنے آچکے ہیں۔ریلوے پولیس میں موجودہ انتظامی صورتحال کا ایک اہم پہلو ڈویژنل ایس ایس پیز کے اختیارات کا دائرہ کار بھی ہے۔ تبادلے اور تعیناتی کے معاملات کو مرکزی سطح پر رکھنے ، اسپیشل برانچ کو براہ راست آئی جی کے انتظامی کنٹرول میں رکھنے اور خصوصی ٹکٹ چیکنگ ٹیموں کے فیصلے میں تبدیلی جیسے اقدامات سے فورس میں فیصلہ سازی کا مرکز زیادہ نمایاں ہوا ہے ۔ ایسے نظام میں مؤثر کمانڈ کے لیے ضروری ہے کہ مرکزی سطح پر جاری ہونے والے احکامات ڈویژنل اور یونٹ سطح تک واضح طریقہ کار کے ساتھ پہنچیں اور ان پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی متعین ہو۔ اسی طرح تبادلے کے حکم کے بعد ریلیز، نئی جائے تعیناتی پر رپورٹنگ اور تعمیلی رپورٹ کے پورے عمل کو ایک ہی انتظامی چین کے تحت رکھنے سے کمانڈ اینڈ کنٹرول مزید واضح ہوسکتا ہے ۔ریلوے پولیس میں سامنے آنے والے حالیہ واقعات نے بنیادی طور پر اسی انتظامی سلسلے کو نمایاں کیا ہے ۔ آئی جی کی سطح سے جاری ہونے والے احکامات، ڈویژنل کمانڈ کی ذمہ داریاں، اسپیشل برانچ کا براہ راست مرکزی کنٹرول، افسران کی تعیناتی اور خصوصی ٹیموں کی تشکیل و واپسی، سب ایک ہی انتظامی فریم ورک کا حصہ ہیں۔اب ریلوے پولیس کے لیے اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر مکمل عملدرآمد تک کمانڈ کا پورا نظام ایک واضح، یکساں اور قابلِ احتساب طریقہ کار کے تحت کام کرے ، جبکہ کراچی سمیت تمام ریلوے ڈویژنوں میں جرائم کی روک تھام اور ریلوے املاک کے تحفظ کی کارکردگی کو بھی باقاعدہ اعدادوشمار کے ذریعے جانچا جائے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں