سندھ بلڈنگ، وسطی میں خطرناک تعمیرات، کمزور بنیادیں، بلند منزلیں
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 3 کے پلاٹ 2/9 اور 2/20 پر خلافِ ضابطہ تعمیرات تیز
ڈائریکٹر فہیم صدیقی کے نگرانی نظام پر سوالات، غضنفر نامی ٹھیکیدار کو چھوٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع وسطی میں پرانی اور کمزور عمارتوں پر اضافی منزلوں کی مبینہ تعمیر کا سلسلہ جاری ہے ، جس کے باعث شہریوں کے تحفظ اور تعمیراتی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناظم آباد نمبر 3 کے بلاک اے میں پلاٹ نمبر 2/9 اور 2/20 پر مبینہ طور پر تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹوں پر تعمیراتی کام کے دوران مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں اور تعمیراتی قواعد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ غضنفر نامی ٹھیکیدار کو مبینہ طور پر خصوصی چھوٹ حاصل ہے ، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ماہرین کے مطابق پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر سے قبل بنیادوں اور عمارت کی ساخت کا تکنیکی جائزہ ضروری ہے ، جبکہ مذکورہ عمارتوں پر اضافی بوجھ کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر فہیم صدیقی کی جانب سے تعمیرات کی نگرانی کے لیے قائم نظام کے باوجود مبینہ خلافِ ضابطہ تعمیرات جاری رہنے سے نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 2/9 اور 2/20 کے منظور شدہ نقشوں، اجازت ناموں اور موقع پر جاری تعمیرات کا فوری معائنہ کیا جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ حکام کا مؤقف خبر کی اشاعت تک سامنے نہیں آ سکا۔ حکام کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔


