انجام
شیئر کریں
گردن کا سریا بھی عجیب چیز ہے،اقتدار کے زمانے میں سیدھا نہیں ہوتا، مگر اقتدار رخصت ہوتے ہی خود بخود نکل آتا ہے۔ ماضی قریب کے اوراق کھنگالئے اور تاریخ کے آئینے میں بھی کبھی اپنا چہرہ دیکھیے ،مجھے نورمبرگ میں ہٹلر کے ساتھیوں کا انجام نظر آرہا ہے۔ یہ منصب، یہ پروٹوکول، یہ قافلے، یہ سرکاری وسائل، یہ بلند و بالا عمارتیں اور یہ تخت و تاج۔۔سب اسی دنیا کے ہیں جہاں بڑے بڑے فاتح خالی ہاتھ رخصت ہوئے۔کہاں گئے مکے لہرانے والے؟وہ کیا ہوئے جن کا طوطی بولتا تھا؟
جن کے ایک اشارے پر دربار سجتے تھے، آج ان کے نام بھی تاریخ کے حاشیوں میں تلاش کرنے پڑتے ہیں,اور اور تاریخ کا کاتب بڑا بے رحم ہوتا ہے وہ نہ سرکاری جہاز دیکھتا ہے، نہ قافلہ، نہ تخت۔۔۔وہ صرف یہ لکھتا ہے کہ اختیار ملا تو انسان کتنا بڑا رہا!
کل یہی لوگ جو جواب سننے کے روادار نہیں ہوتے،اپنے لیے جواب ڈھونڈتے پھرتے ہیں!کل جن کے دروازے پر سوال لے کر آنے والا گستاخ کہلاتا ہے،وقت کا پہیہ گھومنے پر وہی سوال ان کے اپنے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے،وقت کے ساتھ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، تخت نشین کو تختہ ٔدار تک پہنچنے میں بھی کبھی ایک لمحہ کافی ہوتا ہے، اور گردشِ ایام ایسی کہ کب قیدی کے مقدر میں بادشاہی لکھ دی جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا،کتاب زندہ کے واقعات گواہ ہیں!
وہ ذات ِذوالجلال دنوں کو پھیرنے پر قادر ہے ،جسٹس جہانگیری کو ہدف بنانے والے خود ہدف ہیں ،ڈگریوں پر سوالات اُٹھ رہے ہیں، منظرنامہ بدل رہا ہے،وقت کے ساتھ صرف موسم نہیں بدلتے، کھلاڑی بھی بدل جاتے ہیں، اور کبھی کبھی میدان بھی وہی رہتا ہے مگر کھیل کے انداز بدل جاتے ہیں!
کہنہ مشق، منجھے ہوئے اور روایتی بزرگوں کی اپنی جگہ ایک تاریخ ہوتی ہے،اہمیت ہوتی ہے تجربہ، تعلقات، داؤپیچ اور برسوں کی سیاست یقیناً سرمایہ ہوتے ہیں، مگر عہد جب کروٹ لیتا ہے تو بعض اوقات یہی تجربہ چلا ہوا کارتوس محسوس ہونے لگتا ہے، اور میدان میں وہ چہرے نمودار ہوتے ہیں جن کے پاس شاید برسوں کا سیاسی تجربہ نہ ہو، مگر لہجے میں اعتماد، قدموں میں پھرتی اور لہو میں گرمی ضرور ہوتی ہے۔ ارباب اقتدار جینوئن آوازیں سلب کرکے کیا کچھ پائیں گے،تاہم اس پر جاری خاموشی انتہائی اذیت کوش ہے۔جب آپ استعارے کا خلقیہ تلاشتے ہیں اور لکھنے بیٹھ جاتے ہیں تو علیمہ خانم ایسے کردار پر نظر کیوں نہیں ٹِک جاتی اور لمحہ بھر رُک کر اس بابت کیوں نہیں سوچتے کہ ہر دور میں تخلیق ہونے والے ظلم نے اپنا استعارہ ازخود خلق کیا اور مزاحمت کی صورت وضع کی۔یہ کیا ہوگیا کہ ہم ایسے لفظ لکھ رہے ہیں جو اپنے آج سے نگاہیں پھیر رہے ہیں اور اس سے آنکھیں مِلا نہیں پاتے ۔
یہ کون سا جمہوری اقتدار ہے جس میں آج کا تجزیہ موجود نہیں اور آج ایک عام پاکستانی جو کچھ بھوگ رہا ہے ،اس کا احساس اپنے کردار کی شکل میں منور ہونہیں رہا،بلکہ ایک عجیب سی بے رُخی برت رہی ہے،کہ اس میں اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا۔ہمارے پڑوس میں نوجوانوں کی کاکروچ پارٹی نے تجربہ کار اربابِ اختیار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، اور گزشتہ دنوں لاہور چیمبر آف کامرس کے میدان میں ہمارے ‘‘ممی ڈیڈی گروپ’’ نے انجم نثار جیسے پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑی کو شکست سے دوچار کرکے ایک اور دلچسپ مثال قائم کر دی۔
نوجوان شاید روایتی داؤپیچ کی پوری کتاب نہ جانتے ہوں، مگر انہوں نے کھیلنے کا اپنا انداز ضرور ایجاد کر لیا ہے۔گرم لہو، جارحانہ لہجہ، برق رفتاری اور نئے زمانے کی سیاسی حسّاسیت نے جہاندیدہ اور کہن مشق کھلاڑیوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے،پرامن اور آئینی احتجاج سے اس قدر خوف؟ جب عوام اپنے جمہوری اور بنیادی حق کے لیے آواز اٹھانے کا ارادہ کرتی ہے، تو حکمران اور ان کے ہینڈلرز یوں حواس باختہ ہو جاتے ہیں جیسے سامنے کوئی غیر ملکی دشمن کھڑا ہو، پرامن اور نہتے شہریوں پر ”مسلح جلاؤ گھیراؤ” اور ”بالواسطہ حملہ آور” ہونے کا بے بنیاد لیبل لگانا نہ صرف شرمناک ہے بلکہ کذب گوئی کی انتہا ہے۔اگر عوام کا احتجاج غیر قانونی ہے تو ذرا بتائیے کہ پورے ملک کو کنٹینرز کی جیل میں کس نے تبدیل کیا ؟ ،شہریوں کی آمد و رفت روک کر، راستے بند کر کے اور زندگی کو مفلوج کر کے آئین و قانون کی دھجیاں کون اڑا رہا ہے؟
افسوس ناک بات یہ ہے کہ سچائی کے علمبردار کہلانے والے چند صحافی بھی اس کھلے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، تاریخ گواہ ہے کہ عمران خان کے تمام سیاسی اجتماعات ہمیشہ پرامن رہے، لیکن آج کی فسطائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوام کے ہر حق پر ڈاکا ڈال رہی ہے۔ یاد رکھیں، آخری حد تک لگائے گئے یہ کنٹینرز اور جبر کے ہتھکنڈے عوامی سمندر کو نہیں روک سکتے۔ لوہے کے ان کنٹینروں کے پیچھے چھپ کر حکمران اپنی گرتی ہوئی دیواروں کو زیادہ دیر نہیں بچا سکیں گے!
یہ محض ایک نتیجہ نہیں، بدلتے ہوئے مزاج کی ایک جھلک ہے۔شاید وقت کا پیغام یہی ہے کہ تجربہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل، مگر ہر نئے دور کو اپنی قیادت، اپنا لہجہ اور اپنے کھلاڑی خود تراشنے پڑتے ہیں۔سوچ کی لہریں اب گڈ مڈ ہو رہی ہیں اور اس خیال کو پاکستان کی داخلی اور دنیا کی سیاست کے ساتھ تقابل پہ لکھنے کو بے تاب،نہ مجھے خود اتنا تجربہ اور نہ میرے کی بورڈ میں اتنی سکت!
٭٭٭


