سندھ بلڈنگ، ڈی جی مزمل حسین ہالیپوٹو کے دور میں بلڈنگ قوانین پامال
شیئر کریں
ناظم آباد 5Aکے رہائشی پلاٹ پر کمرشل راج ،پلاٹ نمبر 4/33پرکمرشل یونٹس کی تعمیر
غیرقانونی تعمیرات کے خلاف فوری انہدامی کارروائی کا مطالبہ ،علاقہ مکین سراپا احتجاج
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کے دورِ انتظام میں بلڈنگ قوانین کی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ناظم آباد نمبر 5A کے رہائشی پلاٹ نمبر 4/33 پر مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے دکانوں اور کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر جاری ہے ، جس نے ادارے کی نگرانی اور قانونی عملداری پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق رہائشی مقصد کے لیے مختص پلاٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ، جبکہ متعلقہ افسران کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر رہائشی پلاٹوں پر اس طرح کمرشل تعمیرات کی اجازت دی جاتی رہی تو شہر کا ماسٹر پلان اور بلڈنگ قوانین محض رسمی دستاویزات بن کر رہ جائیں گے ۔مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کھلے عام جاری ہیں لیکن ذمہ دار اداروں کی جانب سے چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف علاقے کا رہائشی تشخص متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک، پارکنگ اور بنیادی سہولیات کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 4/33 پر جاری مبینہ غیرقانونی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے ، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور رہائشی علاقوں کو تجارتی تجاوزات سے محفوظ بنانے کے لیے فوری انہدامی آپریشن کیا جائے ۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر قانون کی بالادستی یقینی نہ بنائی گئی تو شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات کو مزید تقویت مل سکتی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا ۔(نمائندہ جرأت)


