میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ ایران آئندہ مذاکرات 28 ، 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع

امریکہ ایران آئندہ مذاکرات 28 ، 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۶ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اشتوک میں ہوں گے۔

ذرائع نے  واضح کیا کہ آنے والے مذاکرات تکنیکی اور ماہرین کی سطح پر ہوں گے جس میں ثالث بھی موجود ہوں گے۔

ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس پر مسلط کی جانے والی جنگ کے بعد عملی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا،

جس کی وجہ سے تیل کی سپلائی معطل ہو گئی تھی اور توانائی کی عالمی مارکیٹوں اور مجموعی طور پر معیشت میں عدم استحکام پھیل گیا تھا۔

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے کے علاوہ فریم ورک جنگ بندی معاہدے کی دیگر شقوں پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ ان میں ایران کے لیے مالی مراعات، جوہری معائنہ اور لبنان میں اسرائیلی جنگ شامل ہیں۔

معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سمیت زیادہ پیچیدہ مسائل کے حل تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کے اندر مذاکرات کیے جائیں گے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں