میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکا میں نیلا سونامی

امریکا میں نیلا سونامی

جرات ڈیسک
هفته, ۷ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی فیصلہ ایک نیلا سونامی ہے۔ امریکہ میں نیلا رنگ ڈیموکریٹک پارٹی کی عکا سی کرتا ہے جبکہ سرخ ریپبلکن پارٹی کی نشانی ہے۔ امریکی انتخابات کے اثرات سے تقریباً تمام دنیا متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان پر اس کے اثرات آنے والے وقت میں ظاہر ہونگے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی ان نتائج کی بھرپور تشہیر کی گئی ہے ۔انتخابات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کے پاس ووٹ کی کتنی بڑی طاقت ہے۔ منصفانہ، آزادانہ اور شفاف انتخابات کاوقت پر انعقاد امریکی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کی بھی ضمانت ہے۔

؂ ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی،ایران سے جنگ کی حکمت عملی پر رد عمل اور صدر ٹرمپ کی معاشی اوردیگر پالیسیاں تھیں ۔سرکردہ امریکی صحافیوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات کو ایک تاریخی نیلی لہر
(Blue Wave) قرار دیا جا رہا ہے۔ نتائج سے مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے گا۔ فوری طور پر بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ معاشی بہتری کے اقدامات بھی ہونگے۔ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کے خلاف عوام کی جانب سے ایک بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) اور سینیٹ، دونوں میں مکمل اکثریت حاصل کرلی ۔اس وقت سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس54اور ری پبلکن کے پاس44نشستیں ہیں ۔دو کافیصلہ باقی ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس237 اور ری پبلکن کے پاس 147نشستیں ہیں ۔ صدر ٹرمپ کے پاس ویٹو کااختیارہے جس کے تحت وہ کانگریس کی منظور کردہ قانونی تجویز کو مسترد کر سکتے ہیں۔

امریکا کا سیاسی نظام ظاہر کرتا ہے کہ امریکا میں اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ امریکی آئین کی بنیاد شہریوں کی آزادی،شہریوں کے تحفظ، اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق پر ہے جس پر موثر عمل درآمد کی وجہ سے امریکا دنیا کا طاقتور ملک بن گیا۔وہ ممالک اور معاشرے جو اخلاقی زوال کا شکارہیں جہاں آئین پر عمل نہیں ہوتا ،اظہار رائے پر پابندی ہوتی ہے، منصفانہ انتخابات نہیں ہوتے ،دھاندلی ہوتی ہے ، انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے ، ادارے مستحکم نہیں ہوتے ،اختیارات میں توازن نہیں ہوتا، رائے عامہ کا احترام نہیں ہوتا ،وہاں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آتا اور نتیجے میں سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ان مملک کو امریکی سیاسی نظام کو سمجھنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اخلاقی زوال کو روکنے کے اقدامات کریں ساتھ ہی عوام کی رائے کا احترام کریں۔

امریکی سیاسی نظام میں کانگریس اور سینیٹ کا کردار
امریکہ کا سیاسی نظام اختیارات کی تقسیم (Separation of Powers) اور ایک دوسرے پر نگرانی و توازن (چیک اینڈ بیلنس) کے اصولوں پر قائم ہے۔ امریکی صدر، کانگریس اور سپریم کورٹ کے اختیارات اور ذمہ داریاں الگ الگ ہیں۔کانگریس امریکی حکومت کا قانون ساز ادارہ ہے، جو قانون سازی، حکومتی اخراجات کی منظوری اور انتظامیہ کی نگرانی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل ہے، ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) اور سینیٹ (Senate) ہیں ۔ سینیٹ کانگریس سے الگ ادارہ نہیں بلکہ اس کا ایک حصہ ہے۔امریکی کانگریس کے دو ایوان ہیں:ایوانِ نمائندگان: اس کے 435 منتخب ارکان ہیں، جو مختلف ریاستوں کی آبادی کے تناسب سے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں جس طرح پاکستان کی قومی اسمبلی ہے سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے۔ امریکہ کی ہر ریاست سے دو سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، خواہ اس ریاست کی آبادی کتنی ہی زیادہ یا کم کیوں نہ ہو۔دونوں ایوان وفاقی قوانین کی منظوری، حکومتی اخراجات اور انتظامیہ کی نگرانی میں حصہ لیتے ہیں۔2۔ ایوانِ نمائندگان کا کردارایوانِ نمائندگان امریکی عوام کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کرتا ہے اس کی اہم ذمہ داریوں میں نئے قوانین پیش کرنا اور ان کی منظوری دینا۔ وفاقی ٹیکسوں اور محصولات سے متعلق قوانین کی ابتدا کرنا۔بجٹ اور حکومتی اخراجات کی منظوری میں کردار ادا کرنا۔سرکاری محکموں اور حکومتی عہدیداروں کی تحقیقات کرنا۔صدر اور دیگر وفاقی عہدیداروں کے خلاف مواخذے (Impeachment) کی کارروائی شروع کرنا۔ ایوانِ نمائندگان کے ارکان ہر دو سال بعد منتخب ہوتے ہیں صدر کے مواخذے کے لیے سینٹ کے دو تہائی اراکین کے ووٹ کو لازمی قراردیاگیا ہے۔

امریکی سیاسی نظام ملک کی طویل مدتی معاشی خوشحالی اور ادارہ جاتی استحکام کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کا آئینی ڈھانچہ ہے۔ یہ نظام ایک ایسا قابلِ اعتماد اور مستحکم فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے جو جدت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر اعتماد کو فروغ دیتا ہے، تاہم اسے اندرونی دباؤ اور ساختی نوعیت کی تنقیدوں کا بھی سامنا رہتا ہے۔امریکی حکومت کے بنیادی اداروں اور ڈھانچے کی تشکیل اس اصول پر کی گئی ہے کہ اختیارات کو کسی ایک ادارے یا شخصیت کے ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے روکا جائے اور ایک ایسا قابلِ اعتماد قانونی ماحول قائم رکھا جائے جو معاشرتی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن سکے۔1۔ اختیارات میں توازن اور ایک دوسرے پر نگرانی (چیک اینڈ بیلنس)حکومت کے تین بنیادی ستونوں، یعنی مقننہ (Legislative)، انتظامیہ (Executive) اور عدلیہ (Judiciary) کے درمیان اختیارات تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس نظام کے تحت اہم حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے مختلف اداروں کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے۔ اس طرح حکومتی فیصلوں میں غیر متوقع، من مانے اور یک طرفہ اقدامات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جو معیشت اور شہری معاشرے کو متاثر کر سکتے ہیں۔2۔ قانون کی حکمرانی اور ملکیتی حقوق (Rule of Law and Property Rights)۔ایک مضبوط اور آزاد عدالتی نظام معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے، نجی ملکیت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور قوانین و ضوابط کے نفاذ میں پیش گوئی کے قابل استحکام فراہم کرتا ہے۔ یہی قانونی تحفظ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد دیتا ہے کہ وہ طویل مدت کے لیے اپنے سرمائے کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔3۔ وفاقی نظام (Federalism)امریکی وفاقی نظام کے تحت قومی حکومت اور انفرادی ریاستوں کے درمیان اختیارات تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس نظام میں ہر ریاست کو اپنے مقامی حالات اور ضروریات کے مطابق حکومتی پالیسیاں تشکیل دینے اور ان پر عمل درآمد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ نتائج کے بعد اب ڈیموکریٹک پارٹی کے 28ریاستوں میں گورنر ہیں جو گذشتہ 16سال میں سب سے زیادہ ہیں ۔سب سے حیران کن نتیجہ ٹیکساس سے آیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے رائیس یونورسٹی ہیوسٹن کے پروفیسرمارک جونز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات نے بعض ریاستوں کو سرخ سے نیلے یا کم ازکم جامنی رنگ میں تبدیل کردیا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں