میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تاریخ کا احتساب

تاریخ کا احتساب

جرات ڈیسک
هفته, ۷ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ،ناجائز طاقت اور جعلی حکومت کا کھیل مستقل نہیں ہوتا۔ طاقت، اقتدار اور غرور ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں۔ جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو اس کے زوال کی اُلٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے ۔ دنیا کا نظام ہمیشہ توازن اور مکافاتِ عمل کے اصول پر چلتا ہے ۔ تاریخ کے صفحات ایسے بادشاہوں، حکمرانوں اورطاقتور کرداروں سے بھرے پڑے ہیں جو کبھی خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے ، مگر وقت نے انہیں ایسی پٹخنی دی کہ ان کے نام صرف عبرت کے طور پر باقی رہ گئے ۔

نہ سمجھو کہ طاقت ہمیشہ رہے گی
بدلتا ہے وقت اور دن بھی ڈھلے گا

دنیا نے فرعون کو دیکھا، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا، نمرود کو دیکھا جس کے سامنے کسی کی مجال نہ تھی کہ سر اٹھا سکے ، ہٹلر کو دیکھا جس نے پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ سب کے پاس فوجیں تھیں، خزانے تھے ، اختیار تھا، مگر کسی کے پاس وقت کو روکنے کی طاقت نہیں تھی۔ غرور کے محل جتنے بھی بلند ہوں، زوال کی ایک ٹھوکر انہیں زمین پر لے آتی ہے ۔آج اسی تاریخ کا ایک نیا منظر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ کبھی دنیا کے طاقتور ترین ایوان کا مکین، فیصلوں سے عالمی منڈیوں کو ہلانے والا، دھمکیوں سے ملکوں کو جھکانے کی کوشش کرنے والا، ٹرمپ بھی حالات کے ہاتھوں بے بس دکھائی دیتا ہے ۔ جس شخص کے ایک بیان سے دنیا بھر میں ہلچل مچ جاتی تھی، اسے بھی یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اقتدار کی کرسی فولاد کی نہیں ہوتی۔ طاقت کا نشہ اترتے دیر نہیں لگتی، اور تاریخ کسی کے عہدے ، دولت یا اختیار سے مرعوب نہیں ہوتی۔اصل طاقت یہ نہیں کہ آپ کتنے لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں، اصل طاقت یہ ہے کہ کتنے لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں۔ خوف کے سہارے قائم ہونے والی حکمرانی بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے ، لیکن اس کی بنیاد اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے۔

مسئلہ صرف ٹرمپ کا نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جو اقتدارملتے ہی انسان کو خود سے بڑا سمجھنے لگتی ہے ۔ ہمارے ہاں بھی اقتدار کے ایوانوں میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں جو کرسی پر بیٹھتے ہی یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ عوام کے ووٹ، اعتماد اور ٹیکس کے پیسوں سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے فیصلے آخری فیصلے ہیں، ان کے الفاظ قانون ہیں اور ان کی مرضی ہی ملک کی تقدیر ہے ۔ کوئی اختلاف کرے تو دشمن، کوئی سوال اٹھائے تو باغی، کوئی آئینہ دکھائے تو سازشی قرار پاتا ہے ۔ہمارے حکمرانوں کو شاید تاریخ پڑھنے کا وقت نہیں ملتا، ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ بڑے بڑے تاج زمین پر گرے ہیں، تخت و تاج مٹی میں ملے ہیں اور کل تک جن کے سامنے دربار سجا کرتے تھے ، آج ان کے نام پر صرف قصے سنائے جاتے ہیں۔ اقتدار کی راہداریوں میں قدموں کی چاپ ہمیشہ نہیں گونجتی۔ ایک وقت آتا ہے جب وہی دروازے بند ہو جاتے ہیں جنہیں کھلوانے کے لیے کبھی لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں۔عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور محرومی کے حوالے کرکے اپنی کامیابی کے اشتہار لگانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کوئی دائمی انعام نہیں، ایک عارضی امانت ہے ۔ عوام کی آہیں، مظلوموں کی فریادیں اور انصاف کے منتظر لوگوں کی خاموشی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمران اپنے عروج کے دنوں میں زوال کی آہٹ سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں ہر طرف اپنی تعریف سنائی دیتی ہے ، مگر عوام کے دلوں میں جمع ہونے والی نفرت دکھائی نہیں دیتی۔یاد رکھیے ! وقت بدلنے کیلئے کسی انقلاب، لشکر یا طوفان کا انتظار نہیں کرتا۔ کبھی ایک فیصلہ، کبھی ایک واقعہ اور کبھی عوام کی بدلی ہوئی سوچ طاقت کے بڑے بڑے بت گرا دیتی ہے ۔ جو آج دوسروں کو اپنی طاقت کا احساس دلا رہے ہیں، انہیں کل اپنی بے بسی کا احساس بھی ہوسکتا ہے ۔

دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت کا نشہ انسان کو حقیقت سے دور لے جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے حکم کے بغیر سورج طلوع نہیں ہوگا، اس کی مرضی کے بغیر کوئی سانس نہیں لے سکے گا، مگر وقت جب فیصلہ کرتا ہے تو تخت بھی نہیں بچتے اور تاج بھی نہیں۔ کل کے فاتح آج تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کے نام سے لوگ کانپتے تھے ، ان کے انجام کی کہانیاں سن کر نسلیں عبرت حاصل کرتی ہیں۔ٹرمپ ہو یا کوئی بادشاہ، فوجی حکمران ہو یا جمہوری حکمران، کسی کو یہ خوش فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ اقتدار اسے تاریخ کے احتساب سے بچا لے گا۔ عوام کو کمزور سمجھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ عوام کی خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ خاموشی ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے جس کے سامنے بڑے بڑے ایوانوں کی دیواریں بھی نہیں ٹھہر سکتیں،تاریخ کا فیصلہ بہت بے رحم ہوتا ہے ۔ وہ کسی کے عہدے ، پروٹوکول، دولت یا طاقت کو نہیں دیکھتی، صرف کردار اور اعمال کا حساب رکھتی ہے ۔ ظلم کرنے والے کو شاید کچھ عرصہ مہلت مل جائے ، مگر ہمیشہ کیلئے چھوٹ نہیں ملتی۔ اقتدار کے نشے میں انسان جتنا اونچا اڑتا ہے ، زمین پر گرنے کی صورت میں چوٹ بھی اتنی ہی گہری لگتی ہے ،نہ سمجھو کہ طاقت ہمیشہ رہے گی، بدلتا ہے وقت اور دن بھی ڈھلے گا۔ آج جو دوسروں کو جھکانے کے زعم میں مبتلا ہیں، کل انہیں بھی وقت کے سامنے سر جھکانا پڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ دنیا میں طاقتور ہونا بڑی بات نہیں، طاقت کے باوجود انصاف کرنا بڑی بات ہے ۔

یاد رکھو!! تخت پر بیٹھنے والا تاریخ نہیں لکھتا، تاریخ وہ لکھتی ہے جو تخت سے اترنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں