اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، 22 ہزار کا موبائل 40 ہزار روپے تک پہنچ گیا
شیئر کریں
میموری چپس مہنگی ہونے سے موبائل فونز کی لاگت بڑھ گئی، ڈیلرز کا ٹیکس میں اضافے کے تاثر کی تردید، قیمتوں میں اضافے سے فروخت متاثر، صارفین پریشان
ملک بھر میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے نے صارفین کی مشکلات بڑھا دی ہیںجبکہ بنیادی ضرورت بن جانے والا موبائل فون خریدنا بھی عام شہریوں کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مارکیٹ سروے کے مطابق 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والے بنیادی اسمارٹ فون کی قیمت، جو چند ماہ قبل تقریباً 22 ہزار روپے تھی، بڑھ کر 40 ہزار روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔موبائل فون ڈیلرز اور مینوفیکچررز کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ حکومتی ٹیکس نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں میموری چپس کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔
ان چپس میں رینڈم ایکسیس میموری (ریم) اور اسٹوریج میموری شامل ہیں، جو اسمارٹ فون کی تیاری میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ڈیلرز کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے باعث میموری چپس کی عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
اے آئی سے متعلق ڈیٹا سینٹرز اور دیگر نظاموں کے لیے میموری کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے عالمی منڈی میں ان چپس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے اثرات موبائل فونز کی پیداواری لاگت اور صارفین کو فروخت کی جانے والی قیمتوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث فروخت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بالخصوص کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے صارفین اس صورتِ حال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے محدود بجٹ میں مناسب اسمارٹ فون خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ فونز کو عام شہریوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ رابطے، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ ضروریات کے لیے استعمال ہونے والی اس اہم سہولت کی خریداری مزید مشکل نہ ہو۔


