ڈرگ انسپکٹر کا چھاپہ، فارم تھری پر ادویات ضبط، مقدمہ ندارد
شیئر کریں
گلزار میڈیکل اسٹور کے معاملے میں ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو پر مبینہ رشوت کا سنگین الزام
محکمہ میں ضبطی کا اندراج موجود ہونے کے باوجود معاملہ برسوں تک قانونی انجام تک نہ پہنچ سکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی برسوں پرانے معاملات کو قانونی انجام تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ڈرگ انسپکٹرز عام طور پر میڈیکل اسٹورز پر چھاپوں اور ضبطی کی کارروائیوں کے باوجود معاملات کو بالا ہی بالا طے کرنے کے حوالے سے بدنام ہیں، مگر محکمہ صحت میں اس پر کوئی حساسیت نہیں پائی جاتی۔
اس ضمن میں گلزار میڈیکل اسٹور کے خلاف 29جون 2020کو کی جانے والی کارروائی کے حوالے سے ایک سنگین سوال سامنے آیا ہے ۔ دستیاب فارم ۔3کے مطابق ادویات کو ڈرگ ایکٹ 1976کی سیکشن 18(1)کے تحت ضبط کیا گیا، جبکہ دستاویز پر اس وقت کے پراونشل ڈرگ انسپکٹر کراچی ۔ IIغلام علی لاکھو کا نام درج ہے۔ لیکن حیران کن طور پر سوال یہ ہے کہ ضبطی اور مبینہ سیلنگ کے بعد گلزار میڈیکل اسٹور کے خلاف قانونی کارروائی کہاں گئی؟
اگر خلاف ورزی اتنی سنگین تھی کہ سرکاری افسر نے فارم۔3جاری کرکے ادویات ضبط کیں تو پھر مقدمہ، استغاثہ اور دیگر قانونی کارروائی کا ریکارڈ سامنے کیوں نہیں آیا؟اس معاملے میں غلام علی لاکھو پر مبینہ طور پر رشوت وصول کرکے گلزار میڈیکل اسٹور کے خلاف کارروائی کو منطقی انجام تک نہ پہنچانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
یہ الزام ابھی تحقیقات سے ثابت ہونا باقی ہے ، تاہم سرکاری فارم۔ 3کی موجودگی میں معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ ہے کہ 29؍ جون2020کی مکمل ریڈ فائل ، فارم ۔3،ضبطی ریکارڈ، نمونہ، لیبارٹری رپورٹس، انسپکشن رپورٹ اور پراسیکیوشن کیس ریکارڈفوری طور پر طلب کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ضبطی کے بعد مقدمہ کیوں درج نہیں ہوا یا کارروائی کس بنیاد پر ختم ہوئی۔
اگر تحقیقات میں رشوت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ثابت ہو تو ذمہ دار افسر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ سرکاری ریکارڈ میں ضبطی کا اندراج موجود ہو اور اس کے باوجود معاملہ برسوں تک قانونی انجام تک نہ پہنچے تو یہ صرف ایک میڈیکل اسٹور کا معاملہ نہیں بلکہ پورے ڈرگ کنٹرول نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ۔
ادویات ضبط


