پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، مصطفی کمال
شیئر کریں
موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ برقرار ہے
ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، وفاقی وزیر صحت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، موجودہ انتظامی ڈھانچے کے باعث اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ برقرار ہے۔
ایک بیان میں مصطفی کمال نے کہا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو رقوم فراہم کرتا ہے، موجودہ بجٹ میں 8 ہزار 884 ارب روپے صوبوں کو منتقل کیے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور حکمرانی کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات کی بڑی تعداد صوبوں کو منتقل ہوئی اور عملی طور پر ملک چار حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے، صوبوں کو مالی وسائل مل رہے ہیں اس لیے ہم خاموش ہیں، تاہم آبادی میں اضافے اور انتظامی ضروریات کے باعث موجودہ نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ بڑے صوبوں میں انتظامی امور اور وسائل کی تقسیم کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اس لیے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس قائم ہونے سے اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچانے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف کسی ایک علاقے یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے انتظامی اور معاشی مستقبل سے متعلق اہم معاملہ ہے، جس پر سیاسی جماعتوں اور تمام متعلقہ حلقوں کو قومی سطح پر غور کرنا چاہیے۔


