میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ ہائی کورٹ، بلدیاتی قانون میں ترمیم، سندھ حکومت سے17 اکتوبرتک جواب طلب

سندھ ہائی کورٹ، بلدیاتی قانون میں ترمیم، سندھ حکومت سے17 اکتوبرتک جواب طلب

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے بلدیاتی قانون میں حالیہ ترمیم کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سندھ حکومت، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔

جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی آئینی بینچ نے جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل محمد واوڈھا نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ اسمبلی نے رواں ماہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت صوبے میں موجود منتخب میئرز اور چیئرمینز نئے بلدیاتی انتخابات تک اپنے عہدوں پر کام جاری رکھ سکیں گے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کی شق 21 کے تحت میئرز، چیئرمینز اور کونسلز کے منتخب نمائندوں کی مدت 4 سال مقرر ہے، تاہم حالیہ ترمیم کے ذریعے موجودہ منتخب نمائندوں کو نئے انتخابات تک عہدوں پر برقرار رکھنے کی گنجائش پیدا کردی گئی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ مذکورہ ترمیم سے درخواست گزار کیسے متاثر ہورہا ہے؟ اس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی ترمیم موجودہ قانون کی بعض شقوں سے متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب قانون میں منتخب نمائندوں کی مدت 4 سال مقرر ہے جبکہ دوسری جانب ترمیم کے ذریعے انہیں نئے انتخابات تک عہدوں پر برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں بعض اوقات 3، 3 اور 4، 4 سال تک بلدیاتی انتخابات منعقد نہیں ہوئے، ایسی صورت میں منتخب نمائندوں کی مدت مقررہ 4 سال سے بڑھ کر 7 یا 8 سال تک ہوسکتی ہے۔

عدالت نے درخواست پر سندھ حکومت، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں