میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر جوڈیشل کمیشن کے سخت سوالات

میر رضا کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر جوڈیشل کمیشن کے سخت سوالات

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

عدالتی حکم کے باوجود آخری وقت میں بورڈ کیوں تبدیل کیا گیا؟

کراچی کے ماہرین قابل نہیں تھے؟ حیدرآباد کا لنک شکوک پیدا کررہا ہے، کمیشن

…………………………………….

میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور آخری وقت میں ارکان کی تبدیلی پر محکمہ صحت کے افسران سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کیوں کی گئی؟

کیا کراچی کے ماہرین قابل نہیں تھے کہ حیدرآباد کے ڈاکٹروں کو شامل کیا گیا؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کا معاملہ شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے اور یہ اقدام متعلقہ افسر کے کیریئر میں اس کا پیچھا کرے گا۔

میر رضا کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور آخری وقت میں اس کے ارکان تبدیل کیے جانے سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

سیکریٹری صحت نے بتایا کہ انہیں میڈیکل لیگل ایکٹ اور سیکشن 16 کا علم نہیں، تاہم عدالتی حکم سیکریٹری صحت اور پولیس سرجن کو موصول ہوا تھا، جس میں سینئر میڈیکل ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا کہ پولیس سرجن کی جانب سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے پانچوں ارکان محکمہ صحت سے تعلق رکھتے ہیں، جس پر انہوں نے ڈی جی ہیلتھ اور پولیس سرجن کو باہمی مشاورت سے بورڈ تشکیل دینے کا کہا۔ تاہم اس وقت تک پولیس سرجن بورڈ تشکیل دے چکے تھے۔

طاہر سانگی کے مطابق شفافیت کے پیش نظر بورڈ میں تبدیلی کی گئی۔ ڈی جی ہیلتھ نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پولیس سرجن کے تشکیل کردہ بورڈ میں مزید ارکان شامل کیے جاسکتے ہیں، جس پر انہوں نے اس کی اجازت دی۔

انہوں نے اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کو بھی ڈی جی ہیلتھ سے رابطہ کرکے شفافیت کیلئے بورڈ کے ارکان تبدیل کرنے کا کہا تھا۔کمیشن نے سوال کیا کہ عدالتی حکم میں میڈیکل بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن کے پاس تھی تو اسے نظرانداز کرکے تبدیلی کیوں کی گئی؟

کیا کراچی کے ماہرین قابل نہیں تھے؟سیکریٹری صحت نے جواب دیا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ پولیس سرجن کے تشکیل کردہ بورڈ میں سینئر فرانزک ماہرین شامل نہیں، جبکہ معاملہ میڈیا پر بھی نمایاں ہورہا تھا، اس لیے سینئر ماہرین کو شامل کرنا ضروری سمجھا گیا۔

ان کے مطابق پولیس سرجن کی ٹیم میں سرکاری ماہرین شامل تھے تاہم شفافیت کیلئے آزاد ماہرین کو شامل کرنا بہتر سمجھا گیا۔کمیشن نے سوال کیا کہ اس سے قبل کتنی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک رات پہلے میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا ہو؟

سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اپنے 21 سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی میڈیکل بورڈ قائم نہیں کیا۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ سیکریٹری ہیں، ذمہ داری آپ ہی پر آئے گی۔

کمیشن نے سیکریٹری صحت سے سوال کیا کہ کیا 6 اگست کو کسی سینئر پولیس افسر سے میڈیکل بورڈ کے حوالے سے بات ہوئی تھی؟ طاہر سانگی نے بتایا کہ 6 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے بات ہوئی تھی تاہم میڈیکل بورڈ کے قیام کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا میڈیا پر کیس نمایاں ہونے کے بعد مزید ارکان کو شامل کرنے کی اجازت دی گئی؟ سیکریٹری صحت نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ نے مزید ارکان شامل کرنے کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل سیکریٹری صحت کو عدالتی احکامات کے مطابق شفافیت برقرار رکھتے ہوئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی ہدایت کی گئی تھی۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں ہر کام میں اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن کا نام سامنے آرہا ہے۔

طاہر سانگی نے کہا کہ محکمہ صحت میں زیادہ تر امور اسپیشل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق میڈیکل بورڈ میں ارکان کی شمولیت کیلئے ان کی اجازت ضروری نہیں ہوتی تاہم انہیں معاملے کا علم تھا اور انہیں اعتماد میں رکھا گیا تھا۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ بیوروکریٹس کا عمومی مؤقف یہی ہوتا ہے کہ معاملہ نیچے سے آیا تھا اور انہوں نے صرف دستخط کیے، اسی وجہ سے بعد میں سرکاری اداروں میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔کمیشن نے استفسار کیا کہ کراچی کے ماہرین کو نکال کر حیدرآباد کے ڈاکٹرز کو شامل کرنے پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ہوا؟ قانون میں قریبی میڈیکل کالج کے ماہرین کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے، تو بتایا جائے کراچی قریب ہے یا حیدرآباد؟

سیکریٹری صحت نے کہا کہ نئے میڈیکل بورڈ میں سینئر پروفیسرز کو شامل کیا گیا ہے اور وہ کسی رکن کو ذاتی طور پر نہیں جانتے۔کمیشن نے سوال کیا کہ پروفیسر نسیم یا ڈاکٹر فرح میں کیا خرابی تھی اور نئے شامل کیے گئے ماہرین ان سے کیسے بہتر تھے؟ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ حیدرآباد کا لنک شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے۔

بعد ازاں اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 7 جولائی 2026 کو محکمہ صحت جوائن کیا تھا اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے حوالے سے ان کی کوئی سفارشات نہیں تھیں۔کمیشن نے سوال کیا کہ 6 اگست کو ڈی جی ہیلتھ سے کتنی مرتبہ رابطہ ہوا؟ شہریار میمن نے بتایا کہ شام 5 سے 7 بجے کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے میں انہیں اتنی دلچسپی کیوں تھی اور کیا ان کی جانب سے مزید ارکان شامل کرنے کی کوئی ہدایت دی گئی تھی؟ شہریار میمن نے جواب دیا کہ انہوں نے مزید ارکان شامل کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی۔ ان کے مطابق سیکریٹری آفس سے ڈی جی ہیلتھ کو فون گیا ہوگا تاہم یہ کس کی ہدایت پر ہوا، انہیں علم نہیں۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ 6 اگست کو سندھ حکومت اچانک اتنی متحرک ہوگئی تھی، اتنی تیزی سڑکوں کی مرمت اور گٹروں کے معاملات میں بھی دکھائی جائے جہاں لوگ مر رہے ہوتے ہیں۔

کمیشن نے شہریار میمن سے ان کے رابطوں کے حوالے سے مزید سوالات کیے اور کہا کہ ان کی کالز ڈی جی ہیلتھ، پولیس افسران اور پولیس سرجن کو بھی کی گئی تھیں۔

شہریار میمن نے کہا کہ انہیں مزید ارکان کی شمولیت کے بارے میں میڈیا سے معلوم ہوا اور محکمہ صحت کی تمام کوششیں نیک نیتی پر مبنی تھیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں، اس پر آپ کو خود یقین بھی ہے؟

کمیشن نے سابق ڈی جی ہیلتھ کو عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق بھی سوال کیا اور شہریار میمن سے کہا کہ انہیں تو اس کا انعام مل گیا ہے۔کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیے جانے سے متعلق سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ افسر کے کیریئر میں اس کا پیچھا کرے گا۔

سماعت کے دوران کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا کوئی ”سپر میڈیکل بورڈ” بنایا جارہا ہے؟ شہریار میمن نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے، جس کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق درخواست میڈیکو لیگل ایکٹ 2023 کو بنیاد بنا کر دی گئی ہے۔

اہل خانہ کے وکیل نے شہریار میمن سے سوال کیا کہ کیا وہ گواہ علی شاز میمن کو جانتے ہیں اور کیا ان کے بھائی اے ایس پی شاہ زیب سے واقفیت ہے؟ شہریار میمن نے کہا کہ اگر وہ سول سروس سے ہیں تو شاید جانتے ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سی ایس ایس کی تیاری کرنے والوں کو پڑھاتے رہے ہیں تاہم انہیں یاد نہیں کہ اے ایس پی شاہ زیب کو کبھی پڑھایا یا نہیں۔کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی سے کسی پولیس افسر کے تعلق کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔

کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ شہریار میمن اور اے ایس پی شاہ زیب دونوں لیاقت یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔سماعت کے دوران ڈاکٹر اسامہ شیخ سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ بہت سے لوگوں کو بدنام کررہے ہیں، وہ آپ کو اور دیگر لوگوں کو بدنام کررہے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے سیکریٹری صحت طاہر سانگی سے سوال کیا کہ آپ ایک قابل افسر ہیں، آپ پر کس کا دباؤ تھا؟ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔

جسٹس عمر سیال نے مزید سوال کیا کہ آپ کسی کو بچانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آرہا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جن افراد کو پہلے منتخب کیا گیا تھا، ان کے مقابلے میں بعد میں شامل کیے جانے والے ماہرین کو زیادہ بہتر کیوں سمجھا گیا؟

طاہر سانگی نے جواب دیا کہ وہ کسی بھی رکن کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور ڈی جی ہیلتھ ارکان کی قابلیت کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں۔دریں اثنا سندھ حکومت کے فوکل پرسن نے کمیشن کو بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع سے متعلق درخواست موصول ہوچکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

فوکل پرسن کے مطابق سندھ حکومت بھی چاہتی ہے کہ کمیشن جلد اپنی کارروائی مکمل کرے۔کمیشن نے کہا کہ امید ہے پیر تک کارروائی مکمل کرلی جائے گی، جس کے بعد رپورٹ تحریر کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں