فارما کمپنیوں کی شکایات پر تحقیقات نہیں، قانونی نوٹس
شیئر کریں
محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام کو یکطرفہ معلومات دے کر گمراہ کرنے کا الزام
غلام علی لاکھو پر سنگین سوالات کے باوجود تحفظ دینے کی کوششیں جاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف ڈرگ انسپکٹر سندھ غلام علی لاکھو کے طرزِ عمل کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات نے سندھ کے محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام کے لیے بھی کئی اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
کیا چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت اور وزیرِ صحت کو معاملے کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جا رہا ہے ، یا انہیں صرف افسر کا مؤقف پیش کرکے اصل شکایات سے دور رکھا جا رہا ہے؟
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA)نے 10ستمبر 2026کو چیف سیکریٹری سندھ کو تحریری شکایت میں غلام علی لاکھو پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، فارما کمپنیوں کو ہراساں کرنے ، قانونی کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور مبینہ غیرقانونی مطالبات سمیت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اس سے قبل سندھ محکمۂ صحت نے جولائی 2026 میں لاکھو کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال، بدانتظامی، رشوت، اقرباپروری اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی بھی قائم کی تھی۔مزید برآں، غلام علی لاکھو کے گریڈ18ہونے اور ڈی ڈی اواختیارات سے متعلق بھی اے جی سندھ کی جانب سے محکمۂ صحت سے وضاحت اور متعلقہ اصل احکامات طلب کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی ہے ۔
یہ معاملہ تاحال ریکارڈ اور محکمۂ صحت کی وضاحت کا متقاضی ہے ۔ طبی حلقوں میں یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایک طرف سرکاری افسر کے خلاف تحریری شکایات اور انکوائری موجود ہیں اور دوسری طرف وہی افسر شکایت کنندہ تنظیم کو 5 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج رہا ہے ، تو کیا اعلیٰ حکام کو دونوں فریقوں کا مؤقف، اصل ریکارڈ اور تمام متعلقہ نوٹیفکیشنز دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے؟
چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت اور وزیرِ صحت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسی ایک افسر کی بریفنگ پر انحصار کرنے کے بجائے مکمل ریکارڈ،پی پی ایم اے کی شکایت، سابقہ انکوائری اور متعلقہ مالی و انتظامی دستاویزات کی غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے ۔ریکارڈ پر رہے کہ چیف ڈرگ انسپکٹر سندھ غلام علی لاکھو کی جانب سے دیا گیا کوئی بھی وضاحتی موقف ملنے پر اسے شامل اشاعت کیا جائے گا۔


