میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مصنوعی ذہانت کی غلط رپورٹ، امریکی اور چین میں جنگ کا خطرہ کیسے ٹلا؟

مصنوعی ذہانت کی غلط رپورٹ، امریکی اور چین میں جنگ کا خطرہ کیسے ٹلا؟

جرات ڈیسک
هفته, ۱۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تیار کردہ رپورٹ مکمل طور پر جھوٹ پرمبنی تھی مگر اس نے امریکا اور چین کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا، رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے امریکی فوج چین کے خلاف بڑی مشکل میں پھنستے پھنستے بچ گئی۔ امریکی ٹی وی کے مطابق تیار کردہ رپورٹ مکمل طور پر جھوٹ پرمبنی تھی مگر اس نے امریکا اور چین کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی اہلکار کو رپورٹ ملی تھی کہ مشرق وسطی میں ایک چینی جہاز مبینہ طور پر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے اجزا کی نقل وحمل کر رہا ہے۔

ذرائع کی بنیاد پر دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی فوج چینی جہاز پر چڑھائی کرنے ہی والی تھی اور اس کے لیے امریکی لڑاکا طیارے بھی حرکت میں آگئے تھے۔ تاہم آپریشن شروع کرنے سے کچھ ہی لمحے پہلے اس رپورٹ کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ رپورٹ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو استعمال کرکے بنائی گئی تھی۔

جس تجزیہ کار نے رپورٹ بنائی تھی اس اہلکار نے چیٹ بوٹ استعمال کیا تھا اور اس چیٹ بوٹ نے جہاز پر موجود اشیا کی غلط شناخت کی تھی۔

تجزیہ کار نے جہاز پر موجود کارگو سے متعلق چیٹ بوٹ سے وہ انٹیلی جنس معلومات مانگی تھی جو امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ پیسیفک نے حاصل کی تھی۔

یہ نہیں بتایا گیا کہ چیٹ بوٹ کمرشل پراڈکٹ تھا یا امریکی حکومت کی جانب سے تیار کردہ تھا تاہم چیٹ بوٹ نے اوپن سورس ڈیٹا کو انٹیلی جنس معلومات سے ملا جلا دیا اوراس طرح چینی جہاز میں موجود سامان کے بارے میں غلط رپورٹ مرتب کردی۔

یہ تو نہیں بتایا گیا کہ چین کے کس جہاز پر شک کیا گیا تھا اور چڑھائی کی تیاری تھی تاہم اتنا بتایا گیا ہے کہ چینی جہاز کیخلاف آپریشن دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑنے کا باعث بن سکتا تھا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں