میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پانی میں دودھ اور 27؍ستمبر

پانی میں دودھ اور 27؍ستمبر

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کے وزیر د ا خلہ محسن نقوی جن کے بارے میں عام خیال ہے کہ وہ موجودہ وزراء میں طاقتور ترین وزیر ہیں، انہوں نے کچھ عرصہ قبل موجودہ نظام کو ناکا م قرار دیا اورکہا کہ نظام کو از سر نو تشکیل دینا ہوگا۔ اختیارات نچلی سطح تک لے جانے کے لیے نئے صوبے بنانے ہونگے جس پر تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے تحفظا ت کااظہارکیا ۔اس بیان کے اثرات سے ایک نیا سیاسی بھونچال برپا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے27 ؍ ستمبر کو ملک گیر احتجا ج اور اسلام آبادکی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت پر مسلسل تحریک انصاف کے نچلی سطح کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے لانگ ما ر چ کرنے احتجاجی تحریک چلانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا جس کی وجہ سے ستمبر کی اس تحریک کا اعلان ہوا۔ دوسری جانب ا ب ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ ملک کو بحران سے نکالنے اور معا شی ترقی کے لیے نیا فارمولہ تیا ر کیا جا رہا ہے۔ شاید کوئی نیا تجربہ سامنے آنے والا ہے۔ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کثیرالجہتی مسائل اور بحران کی زد میں ہے، جس سے نکلنے کی راہ مسدود ہوتی جارہی ہے۔ ان حالات میں کیا کوئی نیا تجربہ خوشحالی کا ضامن ہوگا؟

پاکستان کے شہری سکون اور خوشی کے ساتھ اسی صورت میں زندگی گزار سکتے ہیں ،جب عام لوگوں کو معاشی پریشانی نہ ہو، مہنگی خوراک، مہنگی بجلی ،مہنگی گیس ، مہنگے پٹرول مہنگی ٹرانسپورٹ ،مہنگی معیاری تعلیم،مہنگی طبّی سہولیات سے نجات ملے یا دوسری صورت میں عام آدمی کی آمدنی اس حد تک ہو کو وہ ان بنیادی ضروریات زندگی کو آسانی سے حاصل کرسکے۔ غربت کا خاتمہ ہو ،ملک میں ایسا امن و امان ہو کہ ہرشخص محفوظ ہو، خواتین آسانی سے جہاں چاہیں جس وقت چاہیں آجا سکیں،کو ئی طاقتور کمزور کے ساتھ زیادتی نہ کرسکے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی لیے ترقی یافتہ ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے معاشی ،معاشرتی حقوق کاتحفظ کر تے ہیں اور رائے عامہ کا احترام کر تے ہیں۔تما م تر تحقیق کا نچوڑ یہی ہے کہ اچھی حکمرانی کے ذریعے ہی معاشی ترقی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کی ترقی سے دوری ،بڑھتی ہوئی غربت، معاشی زوال اور بدامنی کی اصل وجہ اچھی حکمرانی سے محرومی ہے۔ صرف مراعات یافتہ طبقہ ہی ترقی کے گن گاتا ہے۔ غربت اور عام لوگوں کی بدحالی اورپریشانی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔ شاید وہ اس نفرت کو بھی محسوس نہیں کر پارہے ہیں جو عام لوگوں میں ان کے خلاف بڑھ رہی ہے ۔یہ وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے سیاسی سمندر میں خوفناک طوفان جنم لے رہا ہے۔ مہنگائی اور

غربت سے پریشان عوام گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر آسکتے ہیں ۔وزیر اعظم کے مشیررانا ثنا ء اللہ نے پی ٹی آئی کو چیلنج دے دیا ہے کہ وہ
کوئی تحریک نہیں چلا سکتے۔ کوئی باہر نہیں نکلے گا لیکن کسی حد تک وہ اس بحران کو بھی تسلیم کرتے ہیں ۔
پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی پاکستان کا سیاسی نظا م آئینی بحران اور جائز حکمرانی کے مسا ئل سے دوچار رہا ہے۔ پرامن انتقال
اقتدار کا کوئی پائیدار نظام وضع نہ ہوسکا۔ 1958میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب کے مارشل لاء کے بعد غیر سیاسی طا قتور حلقو ں کا اثر ورسوخ
اس قدر بڑھ گیا کہ سیا سی حکمرا نوں پر پس پردہ طاقتور حلقوں کا غلبہ رہا۔ اس میں سب سے بڑی خرابی فروری 1924کے انتخابات میں
دھاندلی کی وجہ سے ہوئی ۔اس سے قبل ہونے والے انتخا بات میں پس پردہ قوتیں معمولی دھاندلی اور چند نشستوں کی ہیرا پھیری سے اپنا غلبہ برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لیتی تھیں اور کسی حد تک نمائندہ حکومت بھی قائم ہوجاتی تھی لیکن اس مرتبہ د ھاند لی اتنے بڑے پیما نے پر تھی کہ عوا م اس انتظام کو قبول کرنے کو تیار نہ ہوسکے ۔یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے دودھ میں معمولی مقدار میں پانی ملا یا جا ئے تو لوگ اسے خرید لیتے ہیں لیکن اگر سو لیٹر پانی میں تین سو گرام دو دھ ملایا جا ئے تو اسے کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا یعنی اس مرتبہ پانی میں دودھ ملانے والی نسبت سے جعلسازی کی گئی ہے جسے تمام بین الاقوامی میڈ یا اور متاثرہ سیاسی جماعت اور ان کے نما ئندوں نے بے نقاب کردیا ۔ا نتخا بات میں ہارنے والے بر سر اقتدار آگئے۔

حکمران جماعتوں نے آئین میں تبدیلی کردی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مقننہ اور عد لیہ کو ا نتظا میہ کے تابع کرنے کا الزام عائد ہورہا ہے۔ حکمرا ں
جماعتیں ہر قسم کی جوابدہی سے بالا تر ہونے کی وجہ سے من مانی پر آمادہ ہیں۔ بدعنوانی ہر سطح پر غا لب ہے ۔یہ تصور عام ہوچکا ہے کہ اس طرح
کا نظام زیادہ عرصے قائم نہیں رہ سکتا۔ ملک میں میرٹ کا خاتمہ ہورہا ہے۔ اقربا پروری اور سفارش کا دور دورہ ہے۔ اس بگاڑ کو ٹھیک کرنے
کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ معمولی شعور رکھنے والا بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ملک ایک غلط سمت میں ہے ۔لوگوں کوپریشانیوں سے نجات کے لیے
امید کی کوئی کرن بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ ایک بڑی تعداد بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور حکومت کو یاد کرتی ہے ۔بحران سے نکالنے کے
لیے قابل عمل منصوبہ اس لیے بھی تیار نہیں ہوسکا ہے کہ برسراقتدار جماعتیں دولت اور عہدوں کی لالچ کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کے
بر سرقتدار امیر خاندانوں کی بیرون ملک دولت کا ابھی تک کوئی تخمینہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ دولت اس قدر ہو کہ پاکستان کے تمام
قرضے ادا ہوجائیں، اشرافیہ کاایک بڑا طبقہ اخلاقی زوال کا شکار ہے، بد عنوانی اور ناجائزذرائع سے حاصل دولت چھپائی جاتی ہے ۔دولت
چھپانے کے ذرائع بد عنوانی عام ہونے کی وجہ سے موجود ہیں۔ انتخابات میں دھا ندلی اور بدعنوانی کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی زوال کی دلدل
میں دھنس چکا ہے جو تباہی کی بنیا د ہے۔

ریاست ،ملک ، قوم اور معاشرے کی تعمیر میں اخلاقیات مضبوط اور مستحکم بنیا د فراہم کر تی ہے جو تما م شہریوں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔ دنیا کے
اہم ترین محققین کے مطابق اخلاقی اقدار وہ بنیادی جوڑ فراہم کرتی ہے جو ایک سیاسی نظام کو اکٹھا رکھتی ہے ۔اخلاقیات اور اخلاقی اقدار
ایسے سماجی ڈھانچے،اداروں اور فیصلوں کی تشکیل کرتی ہیں جو کسی قوم کی طویل مدتی فلا ح و بہبود کا تعین کرتے ہیں۔ قومی ترقی میں ان کا
کردار عملی،قابل پیمائش اور کثیرالجہتی ہے ۔معاشرے کو اخلاقی زوال سے نکالنے کے لیے دانشمندانہ حکمت عملی اورغالب طبقے کے با اثر
افراد کی جانب سے قربانی کی ضرورت ہے تاکہ ایمانداری اور سچائی کی راہ اپنائی جائے۔ انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے کی راہ ہموارہو۔
عوام پر اعتبار کیا جائے اور لوگوں کی خوشحالی اور فلاح بہبود کے لیے کام ہو۔ شاید موجودہ حکمران اس کے لیے تیار نہیں یہی سب سے بڑا اور
خوفناک خطرہ ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں