میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
زندگی بے معنی ہو جائے، تب انسان کیوں جیتا ہے؟

زندگی بے معنی ہو جائے، تب انسان کیوں جیتا ہے؟

جرات ڈیسک
منگل, ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسانی تاریخ شاید کامیابیوں سے زیادہ ناکامیوں، شکستوں، انتظاروں اور نامکمل خوابوں کی تاریخ ہے۔ سلطنتیں بنیں، مٹ گئیں؛ شہر آباد ہوئے، اجڑ گئے؛ انسان نے محبت کی، محروم ہوا، خواب دیکھے، شکست کھائی، مگر پھر بھی اگلی صبح آنکھ کھولی۔ شاید انسان کی سب سے پراسرار خصوصیت یہی ہے کہ وہ تب بھی زندگی جاری رکھتا ہے جب زندگی اسے کوئی واضح وجہ فراہم نہیں کرتی۔انسان صدیوں سے اپنے وجود کے سامنے کھڑا ایک سوال دیکھ رہا ہے: میں کیوں زندہ ہوں؟ مذہب نے اپنے جواب دیے، فلسفے نے اپنے راستے تلاش کیے، شاعری نے اس سوال کو آنسوؤں اور استعاروں میں بیان کیا، مگر انسان کا اندرونی خلا آج بھی پوری طرح پُر نہیں ہو سکا۔ شاید زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہر سوال کا جواب ضروری نہیں ہوتا، اور ہر درد کی کوئی قابلِ فہم تشریح نہیں ہوتی۔ سموئیل بیکٹ اسی انسانی المیے کا ادیب تھا۔ 1906ء میں آئرلینڈ میں پیدا ہونے والا بیکٹ خاموش، تنہائی پسند اور اندرونی اضطراب سے دوچار انسان تھا۔ وہ زبانوں کا طالب علم رہا، استاد بنا، پیرس گیا اور جیمز جوائس کے قریب رہا۔ مگر اس کی اصل رفاقت شاید کسی انسان سے زیادہ انسانی تنہائی اور بے معنویت سے تھی۔انسانی نفسیات کا عجیب تضاد یہ ہے کہ جو شخص زندگی کے معنی کے بارے میں سب سے زیادہ سوچتا ہے، وہی کبھی کبھی زندگی کی بے معنویت کو سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ عام انسان دولت، محبت، مذہب، خاندان، شہرت یا اقتدار میں زندگی کا
مطلب تلاش کر لیتا ہے، لیکن جب ان سہاروں کے پیچھے موجود خالی پن دکھائی دینے لگے تو سوال اٹھتا ہے: اگر آخرکار سب کچھ ختم ہو جانا
ہے تو پھر یہ سب کیوں؟ یہ سوال نیا نہیں۔ یونانی المیوں سے لے کر شیکسپئر، دوستوئیفسکی، نطشے، کامیو اور بیکٹ تک انسان اسی سوال کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ہر عہد نے اس سوال کو اپنی زبان دی، مگر سوال وہی رہا: موت کے یقین کے باوجود زندگی کی خواہش کیوں باقی رہتی ہے؟

دوسری جنگِ عظیم نے بیکٹ کو اس سوال کے اور قریب کر دیا۔ وہ فرانسیسی مزاحمتی تحریک میں شامل ہوا، پیرس سے فرار ہوا اور ایک عرصے تک
روپوش زندگی گزاری۔ جنگ نے اسے دکھایا کہ زندگی کسی ضمانت کا نام نہیں۔ انسان مستقبل کے منصوبے بناتا ہے، مگر تاریخ ایک لمحے میں
اس کے منصوبے، گھر، شہر اور خواب سب کچھ چھین سکتی ہے۔جنگ دراصل انسان کے بنائے ہوئے تمام یقینوں کا امتحان ہوتی ہے۔ وہاں
فلسفے کی کتابیں خاموش ہو جاتی ہیں، نظریات خون میں بھیگ جاتے ہیں اور انسان اپنے وجود کی انتہائی ننگی حقیقت کے سامنے آ کھڑا ہوتا
ہے۔ بیکٹ نے اسی تاریکی میں دیکھا کہ انسان کے پاس یقین نہ ہونے کے باوجود ایک چیز باقی رہتی ہے: جاری رہنے کی صلاحیت۔شاید
اسی لیے بیکٹ کے کردار انتظار کرتے ہیں۔ وہ کسی ایسی چیز کے منتظر ہیں جو شاید کبھی نہیں آئے گی، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔ یہی انسانی زندگی کا
استعارہ ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی گوڈو کے انتظار میں ہیں۔ کوئی کامیابی کا، کوئی انصاف کا، کوئی محبت کا، کوئی خوشحالی کا اور کوئی ایک بہتر صبح کا
انتظار کر رہا ہے۔ہم انتظار کرتے کرتے عمر گزار دیتے ہیں، مگر جس لمحے ایک انتظار ختم ہوتا ہے، دوسرا انتظار جنم لے لیتا ہے۔ انسان شاید
منزل سے زیادہ امید کے سہارے زندہ رہتا ہے۔البرٹ کامیو نے انسانی زندگی کی بے معنویت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اس کے
باوجود زندگی سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے؛ اسے بے معنویت کے خلاف زندہ رہنا چاہیے۔ بیکٹ کے ہاں بھی یہی مزاحمت ہے، مگر زیادہ
خاموش اور زیادہ بے رحم شکل میں: نہ یقین، نہ ضمانت، نہ کامیابی-97بس جاری رہنا۔اس کا مشہور جملہ اسی فلسفے کو سمیٹ دیتا ہے۔ Ever Tried. Ever Failed. No Matter. Try Again. Fail Again. Fail better.-94کوشش کی، ناکام
ہوئے؛ کوئی بات نہیں۔ دوبارہ کوشش کرو، دوبارہ ناکام ہو جاؤ، مگر اس بار بہتر انداز میں ناکام ہو۔یہ جملہ کامیابی کے روایتی فلسفے کے خلاف
ہے۔ دنیا ہمیں جیتنا سکھاتی ہے، بیکٹ ہمیں شکست کے اندر بھی انسان کی عزت تلاش کرنا سکھاتا ہے۔ انسانی تہذیب بھی صرف
کامیابیوں سے نہیں بنی۔ بے شمار ناکام کوششوں، شکستوں اور نامکمل تجربات نے آنے والی نسلوں کے لیے راستے بنائے۔انسان نے پہیہ
ایجاد کرنے سے پہلے کتنی بار ناکامی دیکھی ہوگی، آسمان کو چھونے سے پہلے کتنی بار پرواز کا خواب ٹوٹا ہوگا، بیماریوں کو سمجھنے سے پہلے کتنے
انسان بے بسی سے مرے ہوں گے۔ مگر ہر ناکامی نے اگلی کوشش کے لیے تھوڑی سی روشنی چھوڑی۔ اس معنی میں انسانی تاریخ دراصل بہتر
انداز میں ناکام ہونے کی مسلسل کوشش بھی ہے۔یہی سوال پاکستانی انسان کے سامنے بھی کھڑا ہے۔پاکستانی تاریخ میں عام انسان نے بار
بار سیاسی بحران، آمریت، جنگ، معاشی بدحالی، مہنگائی، بے روزگاری اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا سامنا کیا ہے۔ ہر دور نے اس سے کچھ نہ
کچھ چھینا، مگر اس نے پھر بھی زندگی جاری رکھی۔ وہ صبح کام پر جاتا ہے، بچوں کی فیس دیتا ہے، بجلی کا بل بھرتا ہے، مہنگائی سے لڑتا ہے اور پھر
بھی اگلے دن کی امید رکھتا ہے۔یہ عام انسان شاید کسی فلسفیانہ کتاب میں درج نہیں، مگر وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ایک پورا فلسفہ جیتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ حالات آسان نہیں، پھر بھی دکان کھولتا ہے، مزدوری کرتا ہے، بچوں کو اسکول بھیجتا ہے، فصل بوتا ہے اور مستقبل کا خواب دیکھتا
ہے۔یہ امید کبھی کبھی خوش فہمی بھی ہوتی ہے، مگر یہی خوش فہمی انسان کو مکمل شکست سے بچاتی ہے۔پاکستانی نفسیات میں ایک عجیب تضاد پیدا
ہو چکا ہے: انسان مسائل کو پہچانتا ہے، ان سے نفرت بھی کرتا ہے، مگر اکثر ان کے خلاف مستقل مزاحمت کرنے کے بجائے انہیں تقدیر سمجھ
کر قبول کر لیتا ہے۔ برسوں کی ناکامی انسان کے اندر ایک ایسی تھکن پیدا کر دیتی ہے جہاں ظلم بھی معمول لگنے لگتا ہے اور ناانصافی بھی
زندگی کا حصہ۔سب سے خطرناک شکست وہ نہیں جب انسان گر جائے؛ سب سے خطرناک شکست وہ ہے جب انسان گرنے کو اپنی قسمت
سمجھ لے۔ یہیں بیکٹ کا فلسفہ پاکستانی انسان کے لیے ایک خاموش مگر اہم سوال بن جاتا ہے:کیا ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا ممکن
ہے؟ شاید یہی پاکستانی انسان کا اصل امتحان ہے۔ محض زندہ رہنا کافی نہیں؛ کبھی کبھی زندہ رہنے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی
شکست کو تقدیر ماننے سے انکار کر دے۔ امید کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ اچھا ہے؛ امید کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ خراب ہونے کے
باوجود انسان بہتری کا امکان ختم نہیں ہونے دیتا۔انسان ہمیشہ بڑے کارناموں سے نہیں بچتا۔ کبھی وہ صرف ایک دن سے دوسرے دن تک
پہنچ کر بچتا ہے۔ کوئی تالیاں نہیں بجاتا، کوئی تمغہ نہیں ملتا، تاریخ بھی اسے یاد نہیں رکھتی۔ مگر وہ اٹھتا ہے، چلتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا
ہے۔ شاید انسانی عظمت جیتنے میں نہیں۔شاید انسانی عظمت یہ ہے کہ انسان شکست کے بعد بھی اگلا قدم اٹھاتا ہے۔ اور شاید بیکٹ کی پوری
فلسفیانہ میراث اسی ایک خاموش جملے میں سمٹ جاتی ہے:گر گئے؟ اٹھو۔ناکام ہوئے؟ پھر کوشش کرو۔اور اگر دوبارہ ناکام ہونا ہے تو اس بار
کچھ بہتر انداز میں ناکام ہو جاؤ۔کیونکہ جب دنیا انسان کو یہ یقین دلانے میں ناکام ہو جائے کہ زندگی کا کوئی یقینی معنی ہے، تب بھی انسان
کے پاس ایک آخری آزادی باقی رہتی ہے: وہ اگلا قدم اٹھا سکتا ہے۔شاید یہی انسانی وجود کا آخری راز ہے کہ انسان کو زندگی کا مکمل جواب
معلوم نہ ہو، پھر بھی وہ زندگی سے سوال کرنا بند نہیں کرتا۔ شاید معنی ہمیں ملتے نہیں، ہم انہیں اپنی جدوجہد، اپنی محبت، اپنی مزاحمت اور اپنی
مسلسل کوشش سے تخلیق کرتے ہیں۔ اور شاید زندگی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم منزل تک پہنچ جائیں۔ کبھی کبھی زندگی کا مطلب صرف
یہ ہوتا ہے کہ ہم راستے میں گرنے کے باوجود چلتے رہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں