میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حملہ اور ابہام

حملہ اور ابہام

ویب ڈیسک
جمعرات, ۳۰ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

تجزیہ کاروں کے پاس کوئی غیب کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات وواقعات کی روشنی میں پشین گوئی کرتے ہیں کہ مستقبل میں حالات کِس طرف رُخ کریں گے ۔یہ درست ہے کہ دنیا معلومات کے حوالے سے گلوبل ویلیج بن چکی ہے مگر اِس سطح تک آنے میں انسان نے بہت کچھ کھو دیا ہے ،اُس کاکچھ راز نہیں رہا۔ہر لمحہ اور گفتگو ریکارڈ رکھنے کا سامان ہے۔ شہریوں کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔ دوم غلط معلومات سے انسانی ذہن کو بہکانا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جس کانعم البدل کوئی ایجادنہیں۔تیز ترین ترقی کے باوجود آج صورتحال یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ تک دبائو کا شکار ہیں اور وہی کچھ دکھانے کی پالیسی پر کاربند ہیں جو عالمی طاقتوں کوپسندہو۔ اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات ہوں یا عام آدمی،جس کے پاس موبائل ہے، اُس کی پرائیویسی نہیں رہی۔ لہٰذا کسی کو مکمل طورپر آزاد قراردینا مشکل ہے۔ ایسے حالات میں ہفتے کوصدر ٹرمپ پر ہونے والے حملہ کے بارے میں قوی شبہات ہیں کہ تصویر وہ نہیں جو بظاہرپیش کی جارہی ہے ،یہ واقعہ منصوبہ بندی اور سہولت کاری کا شاخسانہ لگتا ہے ۔
عام طورپر خیال کیا جاتا ہے کہ صدرٹرمپ امریکہ کے صدر ہونے کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پل بدلتا اُن کا موقف دنیا کو حیران کرتا ہے وہ دورانِ انتخابات بھی حملے کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے مگر محفوظ رہے۔ جس سے اُن کی انتخابی مُہم کو نئی تقویت ملی اور وہ مدمقابل کو باآسانی پچھاڑنے میں کامیاب ہوئے ۔اب جبکہ مڈٹرم انتخابات قریب ہیں اور ذرائع ابلاغ کا رائے عامہ کے بارے میں اندازے ریپبلکن کے حق میں نہیں، کانگرس میں بھی ایران جنگ کی وجہ سے امریکی صدر کو اِس حد تک مشکل صورتحال کا سامنا ہے کہ ریپلکن بھی متنفر ہیں ۔عوامی مقبولیت تو بڑی حدتک کھو چکے ہیں، اب اُن پر حملہ ہوجانا اور تمام اعلیٰ حکام کا محفوظ رہنا سوالات کو جنم دیتاہے۔ ویسے بھی اقتدار کے لیے سیاستدان کسی حربے سے گریز نہیں کرتے۔ لہٰذاسوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے کہ کہیں ایساتو نہیں کہ مڈٹرم انتخابات میں عوامی ہمدردیاں اور کانگریس میں ریپبلکن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا ہو ۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لگتا ہے ہدف میں تھا،انھوں نے حملہ آور کو ذہنی بیمار کہنا بھی ضروری سمجھا ،مگر فائرنگ کے وقت ٹرمپ کا پُرسکون رہنا شکوک کو جنم دیتا ہے۔ کیونکہ ایسے واقعات میں بدحواسی اور افراتفری کا جنم لینافطری بات ہے ۔علاوہ ازیں نہ صرف واقعہ کی ٹائمنگ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، بلکہ حملہ آور کا ہال تک پہنچ جانابھی حیران کُن ہے۔ آیا یہ حفاظتی اقدامات میں نقائص کا نتیجہ ہے یا فالس فلیگ آپریشن کا مرہونِ منت ہے جو بھی ہے حملے کے بے شمار پہلو مُبہم اور وضاحت طلب ہیں ۔جنھیںدورکرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کا عشایئے کی تقریب سے عین قبل کہنا کہ آج رات ہال میں گولیاں چلیں گی بہت معنی خیز ہے جس کے بارے کچھ حلقوں کا موقف ہے کہ اُن کا اصل اِشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ داراور تیکھی تقریر کے متعلق تھا لیکن سچ یہ ہے کہ تقریب کے دوران ہونے والے حملے نے اُن کے اِن الفاظ کو ایک اورہی خوفناک رنگ دے دیا ہے ۔ایسادانستہ کیا گیا یا غیر دانستگی میں اُن کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے؟جو بھی ہے اِس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حملے کے حوالے سے لوگوں کے ذہن مزیدپراگندہ نہ ہوں ۔
فائرنگ کے ملزم کا ماضی جرائم سے پاک ہے، وہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے بلکہ بہترین اُستاد کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔ ایک اُستاد جو طالب علموں کی کردارسازی کرتا رہا ہو، تہذیب وتمیز کا درس دیتا رہا ہو، اُس کا خود اسلحہ لیکر جُرم کے راستے پر چل نکلنا سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن یہاں ایسا ہی ہواکہ ایک اُستاد وہ بھی اپنے پیشے میں اعزاز لینے والا حملے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ پہلو بھی کھٹکتا ہے کہ جب سب کو علم تھا کہ عشایئے میں صدر ٹرمپ آئیں گے تو مدعوئین سمیت تمام شرکاء کی تلاشی لینے میں کوتاہی کاکوئی جواز نہیں تھالیکن ملزم کاہتھیار سمیت ہال میں آدھمکنا ظاہرکرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسا کچھ غیر معمولی ہے جسے چھپایا جارہا ہے اور صدر کی شبہیہ بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
ماضی کی طرح حملہ آور غیر ملکی نہیںبلکہ امریکی ہے جس کے خیالات تو ابھی سامنے نہیں آئے ،البتہ قیاس آرائیاں ہیں کہ اُسے حکومتی پالیسیاں پسند نہیں لیکن ایسی تواکثر امریکیوں کی سوچ ہے ،ایران جنگ سے جنم لینے والی مہنگائی کی شدید لہر نے ملک میں بہت کچھ بدل دیاہے ۔رہی سہی کسر دیگر ممالک پر لگائے محصولات نے نکال دی ہے جس سے امریکہ میں غیر ملکی اشیا کے دام غیر معمولی بڑھ چکے ہیں، حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جائے لیکن صدر ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے محصولات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر نے میں کلیدی کرداراداکیا ہے جس سے جنم لینے والی نفرت شاید ہی حملے کے اثرات سے کم یا ختم ہو سکے۔
زندگی مسائل سے بھر پور ہے ترقی کے تمام تر دعوئوں کے باوجود آبادی کا بڑاحصہ صحت کے مسائل سے دوچارہے، صاف پانی ،معیاری خوراک اور مالی پریشانیاں شہریوں کی زندگی کاحصہ بن چکی ہیں۔ اِن حالات میں نفرت انگیز بیانیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں جس کی بھارت میں بہتات ہے جہاں کوئی مذہب ،کوئی سیاست ،کوئی علاقائیت ،کوئی لسانیت کے نام پر ماردھاڑ کادرس دیتا پھرتا ہے جوکہ غلط ہے آج دنیا کوبکھیرنے نہیں جوڑنے کی ضرورت ہے وائے افسوس کہ بھارت میں اِس طرف کم ہی دھیان ہے جس سے انسانی رویے متشددہورہے ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
حملہ آور کول ایلن کااپنے خاندان کویہ پیغام ارسال کرنا کہ اعلیٰ ترین عہدے سے لیکر نچلے درجے تک ترتیب سے نشانہ بنایا جائے گا ایک متشددذہن کی طرف اِشارہ کرتا ہے لیکن جب ملزم کو بخوبی معلوم ہے کہ جُرم ثابت ہونے کی صورت میں عمر قید ہو سکتی ہے اِس کے باوجود دفاع میں کسی قسم کی درخواست پیش نہ کرنا اور خود کو عدالت اور انتظامیہ کے رحم پر چھوڑ دیناناقابلِ فہم ہے ۔کیونکہ یہ رویہ ملزم کے اطمینان کو ظاہر کرتا ہے جیسے اُسے یقین ہوکہ کسی قسم کی سزا کاکوئی خدشہ نہیں۔ایسے ہی حالات وواقعات کہانی کے ظاہری رُخ پر یقین و اعتبارکرنے سے روکتے ہیں ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں