پاکستان۔۔ایک ملک یا دفتر؟
شیئر کریں
دنیا میں کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جن کے پیچھے پورا ملک کھڑا ہوتا ہے ، اورکچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جن کے پیچھے صرف ایک
آدمی ہوتا ہے ۔ مگرعجیب بات یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کو اکثر دوسرا دروازہ زیادہ آسان لگتا ہے ۔ جمہوری ملک سے بات کیجیے تو سامنے
پارلیمنٹ ہے ، سیاسی جماعتیں ہیں، میڈیا ہے ، عدالتیں ہیں، عوام ہیں، سوال ہیں، اختلاف ہے اور پھر فیصلے کے لیے ایک طویل راستہ
ہے۔ لیکن اگر کسی ملک کی پوری طاقت ایک شخص کے ہاتھ میں مرکوز ہو تو معاملہ بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ ایک آدمی سے ملاقات، ایک میز
پر گفتگو، ایک معاہدہ، ایک وعدہ۔ اور کام ختم۔یہی وہ مقام ہے جہاں ڈکٹیٹر بڑی طاقت کے لیے ایک طرح کا ‘‘ ون ونڈو آپریشن ’’ بن جاتا
ہے ۔ڈکٹیٹر سے بات کرنے کے لیے پورے ملک کو قائل نہیں کرنا پڑتا، صرف اقتدار کے مالک کو مطمئن کرنا پڑتا ہے ۔ عوام کیا چاہتے ہیں،
پارلیمنٹ کیا سوچتی ہے ، اپوزیشن کیا کہتی ہے ، اخبارات کیا لکھتے ہیں۔ یہ سب سوال بعد میں آتے ہیں۔ پہلے سوال یہ ہوتا ہے کہ حکمران
صاحب کیا چاہتے ہیں؟ اوراقتدار کا نشہ ۔ ایک حکمران کو اپنی کرسی محفوظ چاہیے ، اسے اپنے مخالفین سے نجات چاہیے، اسے وسائل چاہیے ،
اسے بین الاقوامی قبولیت چاہیے ۔ بڑی طاقت کے پاس بھی کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو ایک کمزور حکمران کے لیے بہت قیمتی ہوسکتا
ہے۔یوں مفادات ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ ایک طرف عالمی طاقت کہتی ہے ، ہمیں آپ کے ملک میں یہ سہولت چاہیے ، یہ راستہ چاہیے ، یہ تعاون چاہیے ، یہ پالیسی چاہیے، دوسری طرف حکمران کہتا ہے ، مجھے کیا ملے گا؟ اوراگر سودا طے ہوجائے تو بیچ میں عوام کہاں رہ گئے ، یہ سوال اکثر فائل کے آخری صفحے تک بھی نہیں پہنچتا۔تاریخ کے صفحات اٹھائیے تو ایسی مثالیں کم نہیں ملتیں۔ کبھی فوجی وردی میں حکمران بڑی طاقتوں کے قریب دکھائی دیتے ہیں، کبھی شاہی تاج پہنے بادشاہ عالمی طاقتوں کے لیے قابلِ اعتماد ساتھی بن جاتے ہیں۔ نام مختلف ہوتے ہیں، نظام مختلف ہوتے ہیں، زمانے مختلف ہوتے ہیں۔ مگرایک چیزمشترک ہوتی ہے ۔‘‘ ون ونڈو آپریشن ’’۔اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈکٹیٹر سے مراد صرف فوجی سربراہ نہیں۔ مطلق اختیار رکھنے والا بادشاہ بھی اسی تصورکا حصہ ہوسکتا ہے ، جہاں ملک کے بڑے فیصلوں کے لیے عوامی رضامندی سے زیادہ حکمران کی رضامندی اہم ہوجائے ۔یہ نظام عوام کے لیے چاہے کتنا ہی بھاری کیوں نہ ہو، طاقت کے مراکز کے لیے بسا اوقات بہت سہل ہوتا ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ آخر تاریخ میں بار بار ایسا کیوں ہورہا؟کیا بڑی طاقتوں کو واقعی جمہوریت سے مسئلہ ہوتا ہے ؟ یا مسئلہ جمہوریت نہیں۔ فیصلہ کرنے والوں کی تعداد ہوتی ہے ؟ کیونکہ ایک شخص سے بات کرنا آسان ہے ، ایک قوم سے بات کرنا مشکل۔
تاریخ میں جھانکیں تو یہ بات محض ایک سیاسی خیال نہیں رہتی، اس کے کئی کردارسامنے آجاتے ہیں۔رضا شاہ پہلوی سے صدام حسین تک ،حسنی مبارک سے جنرل سیسی تک۔آپ کویاد ہوگا،ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورمیں عرب، اسلامی،امریکی سربراہی اجلاس میں جنرل سیسی کے بوٹوں کی تعریف کی تھی، یہ وہی بوٹ تھے جو اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنوں کی لاشوں سے گزر کراقتدارتک پہنچے تھے۔ عرب ممالک کے بادشاہ دیکھ لیں،سب امریکا کے لاڈلے ۔یہاں تاریخ کا ایک دلچسپ اصول سامنے آتا ہے ،عالمی سیاست میں دوستیاں اکثراصولوں سے نہیں، مفادات سے چلتی ہیں۔جب مفاد بدلتا ہے تو لہجہ بھی بدل جاتا ہے ۔عالمی طاقتیں اپنے مفاد نکالنے کے بعد اپنے ڈکٹیٹر ٹھکانے لگا دیتی ہیں،پھر نیا پتھر تراشتی ہیں،قوم کے سامنے بت رکھ دیا جاتا ہے ،جس کی پوجا شروع ہوجاتی ہے ،یہی ایک کھیل ہے ، جو دنیا بھرمیں کھیلا جارہا ہے ،صرف امریکا ہی نہیں،چین اورروس کے بھی اپنے اپنے ٹارگٹ ہیں۔
اب سوال پاکستان کا ہے ۔
قیام پاکستان کو پون صدی گزرنے کو ہے ، مگر جمہوریت کا سفر آج بھی مکمل اورمسلسل کیوں نہیں ہوسکا؟ صرف اور صرف ایک وجہ ‘‘ ون ونڈو آپریشن ’’۔انداز الگ الگ، کبھی مارشل لا، کبھی ‘‘ چنتخب حکومت ’’ اورآج کل ‘‘ ہائبرڈ حکومت ’’ ۔لیکن۔ہمیشہ ایک ہی ادارے کی بالادستی ۔کہتے ہیں، بدترین غلامی وہ ہوتی ہے جو آزادی کے نام پرمسلط کی جائے ، اوربدترین آمریت وہ ہوتی ہے جو جمہوریت کے نام پر قائم کی جائے ۔ کیونکہ غلامی اگر زنجیروں کے ساتھ آئے تو انسان اسے پہچان لیتا ہے ، مگر جب زنجیروں کو آزادی کا نام دے دیا جائے تو قیدی خود کو آزاد سمجھنے لگتا ہے ۔ آمریت اگر وردی پہن کر آئے تو خطرہ دکھائی دیتا ہے ، لیکن جب وہ جمہوریت کا لباس اوڑھ لے تو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اقتدارعوام کے ہاتھ میں ہے یا صرف اقتدار کا نام عوام رکھ دیا گیا ہے ۔ جمہوریت میں عوام سوال کرتے ہیں، پارلیمنٹ بحث کرتی ہے ، ادارے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈکٹیٹر شپ میں سوال اکثر ایک ہی دروازے پر جا کر رک جاتا ہے ۔شاید اسی لیے دنیا کی طاقتورسیاست میں جمہوریت اور مفاد کی کشمکش ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتی رہی ہے ۔مگر قوموں کی تقدیر کسی ایک کھڑکی سے نہیں لکھی جاسکتی،ون ونڈو آپریشن دفترچلانے کے لیے اچھا ہوسکتا ہے ، ملک چلانے کے لیے نہیں۔آخرمیں ایک سوال چھوڑے جارہاہوں،پاکستان ایک ملک ہے ۔ یا دفتر؟
٭٭٭


