پیسے کے غلام
شیئر کریں
صبح کے سات بجے تھے ،دنیا سوکراٹھی تو سورج وہی تھا، سڑکیں وہی تھیں، گاڑیاں وہی تھیں، دکانیں وہی تھیں۔ صرف ایک چیزغائب تھی۔‘‘ پیسہ ’’۔کسی کی جیب میں نوٹ نہیں تھا، کسی کے موبائل میں بینک بیلنس نہیں تھا، اے ٹی ایم مشینیں کھڑی تھیں، مگران کی اسکرین
پرایک ہی جملہ لکھا تھا۔‘‘رقم دستیاب نہیں ’’۔ لوگوں نے پہلے اسے مذاق سمجھا،کسی نے کہا، بینک کا سسٹم خراب ہوگیا ہوگا، کسی نے موبائل
دوبارہ آن کیا، کسی نے بینک کی ایپ کھولی، کسی نے اے ٹی ایم کا دوسرا کارڈ ڈالا، کسی نے بینک کی ہیلپ لائن ملائی۔ مگردنیا بھر میں جواب
ایک ہی تھا۔‘‘صفر’’۔صرف اکاؤنٹ میں صفر نہیں تھا، پیسہ ہی صفر ہوگیا تھا۔ ایک شخص جلدی سے گھر سے نکلا اورقریب کی دکان پر پہنچا۔
بھائی !! دودھ دینا ۔ دکاندار نے دودھ کا پیکٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔پیسے ؟ اس شخص نے جیب میں ہاتھ ڈالا، جیب خالی تھی، وہ گھبرا
کربولا، موبائل سے بھیج دیتا ہوں، دکاندار نے موبائل آگے کردیا، دونوں نے اپنی اپنی اسکرین دیکھی، دونوں خاموش ہوگئے ۔ دکاندار نے
پہلی بارغورسے اس شخص کو دیکھا اورکہا۔ بھائی!! پیسے تو واقعی ختم ہوگئے ہیں۔یہ جملہ چند منٹوں میں پورے محلے میں پھیل گیا،پھر شہرمیں، پھر
ملک میں، پھر پوری دنیا میں، اسٹاک مارکیٹیں بند ہوگئیں، بینکوں کے دروازے بند ہوگئے ، بازاروں میں لوگ کھڑے تھے ، مگرخریدنے والا
کوئی نہیں تھا۔ دکاندار سامان ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے ، مگر قیمت بتانے کے لیے ان کے پاس کوئی قیمت نہیں تھی۔
ایک تندور والے نے آواز لگائی،روٹی لے جاؤ، لوگ دوڑ کر پہنچے ۔ کتنے کی ؟ تندور والا خاموش ہوگیا، اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ روٹی
کی قیمت بتانے سے پہلے سوچا، پھرآہستہ سے بولا،پتا نہیں۔ شہر کے ایک بڑے اسپتال میں صورتحال اس سے بھی عجیب تھی۔ ڈاکٹر موجود
تھے ، دوائیں موجود تھیں، مشینیں موجود تھیں، مریض موجود تھے ، مگر انتظامیہ نے عملے سے کہا آج کسی سے فیس نہیں لی جائے گی،ایک نرس
نے حیرت سے پوچھا۔ کیوں ؟ انتظامیہ کے پاس جواب نہیں تھا، کیونکہ فیس لینے کے لیے پیسہ ہی نہیں تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے
سربراہ اپنے دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔اربوں ڈالر کی کمپنیاں چند گھنٹوں میں بے معنی ہوگئی تھیں۔ ایک کروڑ پتی نے
اپنی الماری کھولی، سونے کی گھڑی نکالی، مہنگی گاڑی کی چابی ہاتھ میں لی، پھر بینک اکاؤنٹ دیکھا۔ پہلی مرتبہ اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس
بہت کچھ ہے ، مگر ‘‘ کچھ بھی نہیں ’’۔ادھر ایک مزدور صبح کی طرح چوراہے پر کھڑا تھا۔ وہ کام کی تلاش میں آیا تھا، مگر آج کسی کو مزدور نہیں
چاہیے تھا، وہ خاموشی سے سڑک کنارے بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد ایک بوڑھا آدمی اس کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا!! کام ملا ؟ مزدور نے سر
ہلایا۔نہیں۔ بوڑھے نے جیب ٹٹولی، خالی تھی، پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے ، پہلی بار ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا،
ایک کے پاس کل تک کروڑوں تھے ۔ دوسرے کے پاس کل بھی کچھ نہیں تھا۔ آج دونوں کے پاس ایک ہی چیز تھی۔ خالی جیب ۔ اور شاید دنیا
کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانوں کو یہ سمجھ آنے والی تھی کہ جس چیز کے پیچھے وہ پوری زندگی بھاگتے رہے ، وہ چیز اگر ایک صبح اچانک ختم ہو
جائے تو۔ انسان کے پاس آخر بچتا کیا ہے ؟
دوپہرتک دنیا بدل چکی تھی۔ پیسہ ختم ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ لوگوں کی جیبیں خالی ہوگئی تھیں۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ دنیا کا پورا
نظام جس چیز کے گرد گھومتا تھا، وہ چیز ہی غائب ہوچکی تھی۔ پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔شہر کے بڑے شاپنگ مال میں
کروڑوں روپے کا سامان موجود تھا۔ کپڑے ، جوتے ، موبائل، زیورات، کھانے پینے کی چیزیں۔ سب کچھ اپنی جگہ موجود تھا،مگرخریدنے
والا کوئی نہیں تھا،پھرعجیب منظرشروع ہوا،لوگوں نے ایک دوسرے سے چیزیں مانگنا شروع کردیں۔ کسی نے کہا، میرے پاس آٹا ہے ، تم
سبزی دے دو۔ کسی نے کہا، میرے پاس دوائی ہے ، تم دودھ دے دو۔ ایک استاد نے محلے کے دکاندار سے کہا، میں تمہارے بچوں کو پڑھا
دوں گا، تم مجھے گھرکا راشن دے دینا، دکاندار نے پہلی مرتبہ استاد کو غورسے دیکھا، کل تک استاد اس کے سامنے فیس، تنخواہ اورمہنگائی کی بات
کرتا تھا۔ آج دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے تھے ، شام تک لوگوں کو ایک عجیب حقیقت سمجھ آنے لگی۔ شام تک لوگوں کو ایک
عجیب حقیقت سمجھ آنے لگی۔ صرف ان چیزوں کی قیمت ختم ہوئی تھی۔ اور جب قیمت ختم ہوئی تو انسان کو اپنی اصل ضرورت یاد آنے لگی۔
روٹی چاہیے تھی، پانی چاہیے تھا، دوائی چاہیے تھی، چھت چاہیے تھی۔ اورکسی ایسے انسان کی ضرورت تھی جو مشکل وقت میں دوسرے انسان
کے کام آسکے ۔اسی شام ایک امیر شخص اپنے بڑے گھر کی چھت پر کھڑا شہر دیکھ رہا تھا،نیچے ہزاروں لوگ پریشان تھے ، اس نے اپنے نوکر کو
آوازدی، گھرمیں کھانا کتنا ہے ؟ نوکر نے جواب دیا، تقریباً دس دن کا،امیر شخص نے پوچھا۔ اورہمارے پاس پیسہ؟ نوکر کچھ دیرخاموش رہا،
پھربولا، صاحب!! پیسہ تو آج دنیا میں کسی کے پاس نہیں، امیرشخص نے پہلی بارآسمان کی طرف دیکھا۔ اورشاید پہلی بار اسے احساس ہوا کہ
‘‘دولت نے اسے دنیا سے بہت بڑا سمجھنے کی غلط فہمی دے رکھی تھی ’’۔مگراگلی صبح دنیا کے سامنے اس سے بھی بڑا سوال کھڑا تھا۔ اگر پیسہ واپس
نہ آیا تو انسان ایک دوسرے کے ساتھ کس بنیاد پر جینا سیکھیں گے ؟
تیسرے دن ایک عجیب واقعہ ہوا،ایک آدمی سڑک کنارے بھوکا بیٹھا تھا،ایک اجنبی اس کے پاس آیا، ہاتھ میں روٹی تھی،اس نے روٹی
آگے بڑھائی، آدمی نے پوچھا!! کتنے کی؟ اجنبی مسکرایا۔ کچھ نہیں۔پھر کیوں دے رہے ہو؟ وہ بولا۔ کل مجھے بھوک لگی تھی، کسی نے مجھے کھانا
دیا تھا۔ آج میری باری ہے ۔ دنیا میں پہلی بار شاید کوئی چیز ‘‘ قیمت کے بغیر قیمتی’’ ہوگئی تھی۔ کچھ دن بعد لوگوں نے پیسے کے بغیرجینا سیکھ لیا۔
مزدور کام کرتا، بدلے میں کھانا مل جاتا۔ استاد پڑھاتا، بدلے میں ضرورت کی چیزیں مل جاتیں۔ ڈاکٹرعلاج کرتا، لوگ اس کا خیال
رکھتے۔ کسان فصل اگاتا، شہروالے اس کے گھر کی ضرورتیں پوری کرتے ۔ پھرایک صبح دنیا کے سائنس دانوں نے اعلان کیا، پیسہ دوبارہ بنایا
جا سکتا ہے ۔لوگوں سے پوچھا گیا۔‘‘ بنائیں ’’۔ایک طویل خاموشی چھا گئی، پھر وہی بوڑھا مزدورآگے بڑھا اور بولا، بنا لیجیے ۔ مگراس بار
انسان کو اس کا غلام مت بنائیے گا۔ اورشاید یہیں سے دنیا کو پہلی مرتبہ سمجھ آیا کہ مسئلہ کبھی پیسہ نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ انسان نے پیسے کو اپنی
قیمت سمجھ لیا تھا۔
٭٭٭


