میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
طالبان دور میں خواتین کے حقوق

طالبان دور میں خواتین کے حقوق

جرات ڈیسک
هفته, ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغان طالبان کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمے کا مسودہ تیار کرلیا۔ افغان طالبان کو خواتین کے حقوق کے کنونشن 2003 کی سنگین خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نورو جی کے مطابق اگست 2021 میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان اب تک خواتین کیخلاف 100 سے زائد غیرقانونی احکامات جاری کر چکے ہیں۔

افغان خواتین پر محرم کے بغیر باہر نکلنے، نوکری کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ افغانستان کی اس سنگین صورتحال کو باقاعدہ صنفی امتیاز قرار دے چکے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدر لینڈز کے ستمبر 2024 کے قانونی نوٹس کے بعد یہ کیس افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کا اہم ذریعہ ہوگا۔

اقوام متحدہ کی قانونی چارہ جوئی اور مستقل عالمی دباؤ، افغان خواتین کے حقوق کی بحالی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نوروجی نے آسٹریلوی تھنک ٹینک دی سٹریٹجسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتایا کہ طالبان حکومت کے اقدامات کو خواتین کے خلاف امتیازی پالیسیوں کی ایک منظم شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان انتظامیہ خواتین اور لڑکیوں سے متعلق 100 سے زائد ایسے احکامات جاری کر چکی ہے جن پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی۔مجوزہ قانونی کیس میں مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ طالبان نے خواتین کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ افغانستان میں خواتین کو محرم کے بغیر سفر، روزگار اور چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے سمیت متعدد بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین افغانستان میں خواتین کی صورتحال کو "صنفی امتیاز” قرار دے چکے ہیں، جس کے باعث طالبان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی مبصرین کے مطابق افغانستان میں نافذ سخت پابندیوں نے خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ عالمی عدالت تک پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف خواتین کے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی توجہ مزید بڑھے گی بلکہ طالبان حکومت کی عالمی سطح پر ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تفریق، اخراج اور انسانی وقار کی توہین پر مبنی منظم پالیسیوں کو نظرانداز نہ کرے۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں افغانستان کے لوگوں کو اپنے حقوق اور آزادیوں پر ہولناک اور شدید حملوں کا سامنا رہا۔ قانونی جواز اور معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندگی سے محروم طالبان حکومت نے ہر طرح کی مخالفت کو کچلا، سول سوسائٹی اور میڈیا کو دبایا اور قانون، انصاف، عدم امتیاز اور مساوات کے اصولوں کی کھلی پامالی کا ارتکاب کیا۔یہ صورتحال متواتر بگڑ رہی ہے اور اسے روکنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے فوری طور پر مضبوط اقدامات درکار ہیں۔گزشتہ سال طالبان نے صنفی بنیادوں پر منظم جبر میں مزید شدت لاتے ہوئے امتیازی احکامات اور طریقہ ہائے کار نافذ کیے اور ان پر سخت اور متشدد انداز میں عملدرآمد کروایا۔ برسراقتدار آنے کے بعد حکام نے 80 سے زیادہ ایسے احکامات اور بیانات جاری کیے جن کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو نشانہ بنانا اور انہیں محدود کرنا تھا۔

طالبان خواتین اور لڑکیوں کو دانستہ طور پر محکوم رکھنے کی وسیع اور منظم کوشش کر رہے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم اور صنفی بنیاد پر ظلم کے مترادف ہے۔ یہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ افغان شہریوں اور بالخصوص خواتین کی جانب سے اسے صنفی عصبیت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود طالبان حکام کا اصرار ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال ملک کا ‘اندرونی معاملہ’ ہے۔طالبان بہت سے طبقات کے انسانی حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ ان میں مذہبی و نسلی اقلیتیں، بچے اور نوجوان، معذور افراد، ہم جنس پرست، دو جنسی رحجانات کے حامل، ٹرانس جینڈر اور متنوع جنسی خصوصیات رکھنے والے دیگر لوگ خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ انسانی حقوق کے محافظوں، طبی کارکنوں، اساتذہ، صحافیوں، ججوں، قانون دانوں، وکلا، فنکاروں، ثقافتی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، سابق حکومت کے عہدیداروں اور دیگر کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان لوگوں کے خلاف روا رکھے جانے والے سلوک میں ناجائز گرفتاریاں اور قید، غیرقانونی ہلاکتیں، جبری گمشدگی کے مترادف اقدامات، جنسی جرائم، تشدد اور بدسلوکی شامل ہے۔ اگرچہ ملک میں واپس آنے والے پناہ گزینوں کو مدد دینے کی کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن قدرتی آفات سمیت کئی وجوہات کی بنا پر اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگوں کی صورتحال قابل تشویش ہے۔ ملکی حکام ان لوگوں کو غیررسمی آبادیاں خالی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔یہ حقوق انسانی امداد سے بڑھ کر ایسے اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں جن سے ملکی حکمران فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ انسانی امداد اور افغانوں کو دی جانے والی کسی اور طرح کی مدد کو روکنا درست نہیں ہو گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں