میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت۔۔ اقتدار مل گیا،مگر امتحان ابھی شروع ہوا ہے!

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت۔۔ اقتدار مل گیا،مگر امتحان ابھی شروع ہوا ہے!

جرات ڈیسک
پیر, ۳۱ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

باسط علی

 

افتخار گیلانی کا انتخاب، ن لیگ کی اندرونی دراڑ، عوامی ایکشن کمیٹی کا بحران اور حکومت کے مستقبل کے خدشات

 

٭ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے پہلے ہی مرحلے میں سامنے آنے والے اختلافات نے اس کامیابی کے سیاسی جواز، جماعت کے اندرونی اتحاد اور نئی حکومت کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں

٭بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی 28؍اگست کو 44ڈالے گئے ووٹوں میں سے 30ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے ، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے

٭آزاد کشمیر کی موجودہ53رکنی اسمبلی اس وقت صرف 46ارکان پر مشتمل ہے کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات نہیں ہو سکے

٭اعداد بظاہر ن لیگ کی مضبوط پارلیمانی پوزیشن دکھاتے ہیں، لیکن پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر کا غیر حاضر رہنا او راجہ فاروق حیدر کا آخری وقت پر اسمبلی آنا اس سیاسی کہانی کا دوسرا رخ سامنے لاتا ہے

٭ افتخار گیلانی نے مظفرآباد۔ IIIکی عام نشست ہاری، مگر انہیں ٹیکنوکریٹ نشست پر واپس لایا گیا، پارٹی کے اندر ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کے سیاسی بیانیے کے ساتھ یہ فیصلہ کیسے ہم آہنگ ہوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک دہائی بعد اقتدار تو دوبارہ حاصل کر لیا ہے ، لیکن حکومت سازی کے پہلے ہی مرحلے میں سامنے آنے والے اختلافات نے اس کامیابی کے سیاسی جواز، جماعت کے اندرونی اتحاد اور نئی حکومت کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی 28؍اگست کو 44ڈالے گئے ووٹوں میں سے 30ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے ، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے ۔ تاہم 53 رکنی اسمبلی اس وقت صرف 46 ارکان پر مشتمل ہے کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات نہیں ہو سکے ۔ یہ اعداد بظاہر ن لیگ کی مضبوط پارلیمانی پوزیشن دکھاتے ہیں، لیکن اسی انتخاب میں پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر کا غیر حاضر رہنا اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا آخری وقت پر اسمبلی آنا اس سیاسی کہانی کا دوسرا رخ سامنے لاتا ہے ۔چنانچہ بنیادی سوال یہ نہیں کہ ن لیگ حکومت بنا سکتی تھی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس حکومت کو سیاسی طور پر قابلِ قبول، متحد اور مؤثر بنا سکتی ہے ؟

1۔ ایک دہائی بعد اقتدار، مگر پہلے دن ہی اختلاف
2021 کے انتخابات میں ن لیگ کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور جماعت صرف چار علاقائی نشستوں تک محدود ہو گئی تھی۔ افتخار گیلانی بھی اپنی نشست ہار گئے تھے ۔ 2026 میں وہ دوبارہ اسمبلی میں تو آئے ، مگر عام نشست جیت کر نہیں بلکہ ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر۔
دوسری طرف 2026 کے عام انتخابات میں ن لیگ نے براہ راست 38 نشستوں میں سے 25 جیتیں، جبکہ پیپلز پارٹی کو 12 نشستیں ملیں۔ مخصوص نشستوں کے بعد ن لیگ کی تعداد 31ہوئی اور اتحادی حمایت کے ساتھ اس کی پارلیمانی طاقت 32 تک پہنچ گئی۔
یوں ایک طرف‘‘انتخابی کامیابی غیر معمولی تھی’’اور دوسری طرف وزیراعظم کے انتخاب کے لیے نامزد شخص کا اپنا حلقہ انتخاب ہار جانا سیاسی بحث کا مرکز بن گیا۔
واضح رہے کہ افتخار گیلانی نے مظفرآباد۔IIIکی عام نشست ہاری، جبکہ انہیں بعد میں ٹیکنوکریٹ نشست پر واپس اسمبلی لایا گیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس پر پارٹی کے اندر ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کے سیاسی بیانیے کے ساتھ یہ فیصلہ کیسے ہم آہنگ ہوگا۔افتخار گیلانی 2021 اور 2026 کے عام انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے ، جبکہ 2011اور 2016میں وہ منتخب ہو کر وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔

2۔ افتخار گیلانی کے خلاف اصل اعتراض کیا تھا؟
یہ اختلاف ذاتی نوعیت کا کم اور‘‘سیاسی اصول کا زیادہ’’ بنا دیا گیا۔ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے نامزدگی پر ‘‘سخت اصولی اختلاف’’ کا اظہار کیا۔ ان کا بنیادی مؤقف تھا کہ جو شخص مسلسل دو عام انتخابات ہار چکا ہو، اسے وزیراعظم نہیں بنانا چاہیے ، کیونکہ اس سے ن لیگ کے ‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کے مؤقف کو نقصان پہنچتا ہے ۔ ان کے مطابق اگر کسی مقبول رہنما کو وزیراعظم نہیں بنانا تھا تو کم از کم ایسا رکن منتخب کیا جاتا جو براہ راست عوام کے ووٹ سے اسمبلی میں آیا ہو۔ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر دونوں نے ابتدا میں افتخار گیلانی کی نامزدگی کی مخالفت کی اور اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔یہاں تنازع کا اصل سیاسی نکتہ سامنے آتا ہے :‘‘کیا آزاد کشمیر میں وزیراعظم کا انتخاب مقامی پارلیمانی قیادت کے سیاسی وزن سے ہونا چاہیے یا مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کے فیصلے سے ’’؟افتخار گیلانی کی نامزدگی نے اس سوال کو کھول دیا ہے ۔

3۔ فیصلہ کہاں ہوا؟ اسلام آباد یا مظفرآباد؟
حکومت سازی کے لیے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر، اسپیکر چوہدری طارق فاروق، ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری اور دیگر رہنما شریک تھے ۔بعد ازاں ن لیگ کی مرکزی قیادت نے اعلان کیا کہ پارٹی قائد نواز شریف نے افتخار گیلانی کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا ہے ۔ یہ پہلو انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے اختلاف کا ایک نیا زاویہ پیدا ہوتا ہے :‘‘ن لیگ نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے مقامی انتخاب جیتا، لیکن وزیراعظم کے انتخاب کا فیصلہ آخرکار مرکزی قیادت نے کیا’’۔
30 اگست کو وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی واضح کیا کہ افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ نواز شریف کا تھا اور یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، تاہم ان کے مطابق کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو ٹیم میں شامل رکھا جائے گا۔یہ بیان دراصل اس بات کا اعتراف بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ‘‘پارٹی قیادت اب اختلاف ختم کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ’’۔

4۔ شاہ غلام قادر کا بائیکاٹ:معمولی اختلاف نہیں
افتخار گیلانی کے انتخاب کے وقت 44ووٹ ڈالے گئے ۔ اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے ووٹ نہیں دیا جبکہ شاہ غلام قادر اسمبلی اجلاس میں موجود نہیں تھے ۔ یوں ن لیگ کے اپنے صدر نے اپنی جماعت کے نامزد امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ شاہ غلام قادر محض ایک ناراض رکن نہیں بلکہ‘‘ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر’’ہیں۔اس کے سیاسی اثرات تین سطحوں پر پڑتے ہیں:
٭ مرکزی قیادت کے فیصلے پر مقامی صدر کا اختلاف
٭‘‘ووٹ کو عزت دو’’ کے بیانیے اور عملی فیصلے میں تضاد
٭نئی حکومت کے آغاز ہی میں پارٹی ڈسپلن کا سوال
وفاقی سطح پر بیرسٹر عقیل ملک کی جانب سے پارٹی پالیسی سے انحراف پر تادیبی کارروائی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا، تاہم بعد کی پیش رفت میں مصالحت کا راستہ غالب آتا دکھائی دیا۔

5۔ راجہ فاروق حیدر:بغاوت سے مفاہمت تک
راجہ فاروق حیدر کا کردار اس تنازع میں شاید سب سے زیادہ دلچسپ ہے ۔وہ براہ راست انتخاب جیت کر اسمبلی پہنچے ، سابق وزیراعظم ہیں اور ن لیگ کے اندر ایک مضبوط سیاسی شناخت رکھتے ہیں۔ افتخار گیلانی کی نامزدگی پر انہوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا اور ابتدا میں ووٹنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔لیکن آخری وقت میں صورتحال بدل گئی۔اطلاعات کے مطابق افتخار گیلانی خود راجہ فاروق حیدر کی رہائش گاہ پہنچے ، انہیں ساتھ لے کر اسمبلی آئے اور یوں وزیراعظم کے انتخاب میں فاروق حیدر شریک ہوئے ۔اس واقعے کی سیاسی اہمیت کم نہیں۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ افتخار گیلانی نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ سمجھ لیا کہ ‘‘اپنی حکومت بچانے کے لیے پرانے سیاسی دھڑے کو ساتھ رکھنا ضروری ہے ’’۔یعنی افتخار گیلانی کی پہلی سیاسی کامیابی شاید وزیراعظم بننا نہیں بلکہ ‘‘راجہ فاروق حیدر کو اسمبلی میں واپس لانا’’تھی۔

6۔ ‘‘فارم 47’’ کا طعنہ
راجہ فاروق حیدر کی جانب سے پارٹی قیادت کے فیصلے پر ‘‘فارم 47کی حکومت’’ جیسے اعتراض کی بات سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا میں
گردش کرتی رہی ہے ۔ سیاسی اعتبار سے اگر ‘‘فارم 47’’والی تنقید درست ثابت ہوتی ہے تو اس کا مطلب بہت بڑا ہوگا:ن لیگ کے اندر ایک سابق وزیراعظم اپنی ہی جماعت کی نئی حکومت پر وہی سیاسی زبان استعمال کر رہا ہوگا جو قومی سطح پر ن لیگ کے مخالفین استعمال کرتے ہیں’’۔یہ جماعتی بیانیے کے لیے خطرناک صورتحال ہے ۔

7۔ ن لیگ کی کامیابی اور انتخابی جادوگری
2026 کے انتخابات میں ن لیگ نے واضح پارلیمانی برتری حاصل کی۔ براہ راست نشستوں میں 25کامیابیاں، مخصوص نشستوں کے بعد 31ارکان اور اتحادی حمایت کے ساتھ 32کی طاقت معمولی کامیابی نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ن لیگ انتخاب ہار کر حکومت میں آئی ہے ۔تاہم گلگت بلتسان اور آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پاکستان کی روایتی انتخابی جادوگری اور ووٹ گننے کی کرشمہ سازی کے تناظر میں ہی لیے جاتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ن لیگ نے انتخابی اور پارلیمانی کامیابی حاصل کی ہے ۔مگراس میں بھی شبہ نہیں کہ ان انتخابی نتائم پر دھاندلی کے الزامات بھی مسلسل لگے ہیں۔ اوریہ بھی حقیقت ہے کہ:انتخابات تین مرحلوں میں ہوئے ۔سات نشستوں پر پولنگ ابھی باقی ہے ۔اوربعض علاقوں میں شدید بدامنی رہی۔ اسی طرح جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگے ۔پیپلز پارٹی نے نتائج پر تحفظات ظاہر کیے ۔اور انتخابات کے بعد بھی پونچھ میں صورتحال معمول پر نہیں آئی۔
اسی لیے ن لیگ کی عددی طاقت مضبوط لیکن سیاسی قبولیت مکمل طور پر غیر متنازع نہیں کہی جا سکتی ہے ۔

8۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومت کے سامنے اصل اپوزیشن کون؟
نئی حکومت کے لیے شاید سب سے بڑا خطرہ اسمبلی کے اندر پیپلز پارٹی نہیں بلکہ اسمبلی کے باہر ‘‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ’’(JAAC) ہے ۔عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا آغاز بجلی کے نرخ، آٹے /گندم، حکومتی مراعات اور عوامی اخراجات جیسے معاشی مسائل سے ہوا، لیکن بعد میں یہ مطالبات وسیع ہو کر سیاسی اور آئینی اصلاحات تک پہنچ گئے ۔سب سے حساس مطالبہ آزاد کشمیر اسمبلی کی 12مہاجر نشستوں کا خاتمہ بن گیا۔عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص یہ نشستیں مقامی سیاست میں باہر سے سیاسی اثراندازی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ حکومت کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی حکم سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جون میں آزاد کشمیر حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کردی تھی، حکومت نے تشدد، پولیس پر حملوں اور ریاستی نظم متاثر کرنے کے الزامات لگائے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے خود کو پرامن حقوق کی تحریک قرار دیا۔

9۔ 38مطالبات، معاہدے اور اصل تنازع
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اب صرف بجلی اور آٹے تک محدود نہیں رہے ۔رپورٹس کے مطابق حکومت اورعوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان پہلے 38میں سے 36انتظامی نوعیت کے مطالبات پر اتفاق ہوا تھا، جبکہ مہاجر نشستوں کا مسئلہ آئینی پیچیدگی کی وجہ سے باقی رہا۔
بعد میں حکومت کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا کہ 38میں سے 37مطالبات قبول یا ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے ، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس پیش رفت کو ناکافی قرار دیا۔یہاں بنیادی مسئلہ صرف مطالبات نہیں بلکہ ‘‘اعتماد کا بحران’’ہے ۔
حکومت کہتی ہے : زیادہ تر مطالبات مانے جا چکے ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کہتی ہے :معاہدوں پر حقیقی اور مکمل عملدرآمد نہیں ہوا۔جب ایک فریق ‘‘عملدرآمد’’ کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو اور دوسرا اسے ‘‘ادھورا وعدہ’’، تو تنازع دوبارہ بھڑکنے کے لیے کسی نئے واقعے کا منتظر رہتا ہے۔

10۔ پونچھ:نئی حکومت کا سب سے حساس محاذ
پونچھ اور بالخصوص راولاکوٹ اس بحران کا مرکز بن چکے ہیں۔جولائی میں عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی، جبکہ راولاکوٹ کے گرد متعدد دھرنے جاری رہے ۔بعد ازاں یہی امن و امان کا بحران انتخابی عمل تک پہنچا اور پونچھ کی پانچ جبکہ سدھنوتی کی دو نشستوں پر پولنگ مؤخر کردی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد کشمیر میں نئی حکومت ایک ایسی اسمبلی کے ساتھ وجود میں آئی جس کا مینڈیٹ ابھی مکمل نہیں ہوا۔یہ صورتحال پارلیمانی طور پر غیر معمولی ہے اور سیاسی طور پر حکومت کے لیے مستقل دباؤ کا ذریعہ رہے گی۔

11۔ حکومت کے لیے ایک عجیب تضاد
افتخار گیلانی کے پاس حکومت چلانے کے لیے عددی اکثریت ہے ، مگر وہ ان علاقوں سے آنے والے سات ارکان کے بغیر حکومت چلا رہے ہیں جہاں عوامی بے چینی سب سے زیادہ ہے ۔یہ ایک سیاسی تضاد ہے ۔جس خطے میں سب سے زیادہ سیاسی بحران ہے ، وہی خطہ نئی اسمبلی میں مکمل طور پر نمائندگی نہیں رکھتا۔اسی لیے نئی حکومت کے جواز پر بحث ختم نہیں ہوگی جب تک باقی سات نشستوں پر انتخابات نہیں ہو جاتے ۔خود افتخار گیلانی نے اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں ان نشستوں کے انتخابات جلد مکمل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔

12۔ انتخابات کی ساکھ بھی حکومت کے لیے مسئلہ ہے
ن لیگ کی کامیابی کے باوجود انتخابات کے بارے میں سوالات ختم نہیں ہوئے ۔پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل پر تحفظات اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے جبکہ ن لیگ نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ رائٹرز کے مطابق پی ٹی آئی نے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جبکہ الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں کی تردید کی۔ انتخابی عمل کے تین مرحلوں میں ہونے ، نتائج کے مرحلہ وار اعلان اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث پیدا ہونے والے سوالات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو انتخابات جیتنے کے ساتھ ساتھ انتخابات کی ساکھ کا دفاع بھی کرنا ہوگا۔

13۔ ‘‘سکڑتی حمایت’’ حقیقت کیا ہے ؟
یہاں سب سے اہم تجزیاتی فرق ضروری ہے ۔ن لیگ کی نشستیں نہیں سکڑی ہیں؛ اس کی پارلیمانی پوزیشن تو مضبوط ہوئی ہے ۔لیکن اس کے باوجود ‘‘سیاسی قبولیت کے سکڑنے کا خطرہ’’موجود ہے ۔کیوں؟کیونکہ ن لیگ کے لیے اصل مسئلہ ووٹوں کی تعداد نہیں بلکہ ان ووٹوں کے پیچھے موجود سیاسی ماحول ہے ۔2026کا انتخاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب عوامی ایکشن کمیٹی احتجاج کر رہی تھی؛بعض علاقوں میں ریاستی اداروں اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوئے :
٭ انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا؛
٭سات حلقوں میں پولنگ ملتوی ہوئی؛
٭پونچھ میں صورتحال بدستور حساس ہے ؛
٭اور ن لیگ کے اندر ہی وزیراعظم کے انتخاب پر اختلاف سامنے آیا۔
رائٹرز نے بھی انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کے لیے انتخابی، سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مسائل کے ‘‘مشترکہ بوجھ’’ کو بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔اس لیے ن لیگ کا اصل خطرہ اگلا الیکشن نہیں، اگلے چند ماہ ہیں۔

14۔ افتخار گیلانی کے پاس ایک بڑا سیاسی موقع بھی ہے
یہ کہانی صرف بحران کی نہیں۔افتخار گیلانی کی شخصیت میں کچھ ایسے عوامل موجود ہیں جو انہیں کامیاب بھی بنا سکتے ہیں۔وہ2011اور 2016میں منتخب ہو چکے ہیں،وزیر تعلیم رہ چکے ہیں،بیوروکریسی اور حکومت کے کام کا تجربہ رکھتے ہیں،نوجوان قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں اورجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض لوگوں کے ساتھ ذاتی،سیاسی روابط بھی رکھتے ہیں۔یہ ان کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے ۔

15۔ افتخار گیلانی نے ابتدائی 48 گھنٹوں میں کیا اشارے دیے ؟
یہاں تازہ ترین صورتحال خاصی اہم ہے ۔وزیراعظم افتخار گیلانی نے انٹرنیٹ سروسز، بالخصوص تعلیمی اداروں میں، بحال کرنے اور پنجاب و خیبر پختونخوا سے آزاد کشمیر کے راستوں پر عائد پابندیاں چند دنوں میں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ انہوں نے راولاکوٹ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے کاروباری طبقے کو حالیہ انٹرنیٹ بندش اور احتجاج کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے پالیسی بنانے کا بھی عندیہ دیا۔ یہ اشارے اہم ہیں کیونکہ حکومت اگر ابتدا ہی میں انٹرنیٹ ، راستے ، کاروبار اور تعلیم کے مسائل حل کرتی ہے تو اسے عوامی سطح پر ایک فوری ‘‘ڈی ایسکلیشن’’ مل سکتی ہے ۔

16۔ افتخار گیلانی کا گورننس ماڈل
وزیراعظم نے ابتدائی خطاب میں چند واضح ترجیحات دی ہیں۔نوجوانوں کے لیے روزگار،میرٹ پر بھرتیاں،شفافیت،بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس،ڈیجیٹل معیشت،صحت اور تعلیم میں اصلاحات،شہری شکایات کے لیے ‘‘بولو کشمیر’’پورٹل اور نجی شعبے میں روزگار کے مواقع۔یہاں ان کے ماضی کا وزیر تعلیم ہونا بھی اہم ہے ۔ ان کے دور میں این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں، بائیومیٹرک حاضری اور تعلیمی اصلاحات جیسے اقدامات کیے گئے تھے ۔ لیکن اب مسئلہ ایک وزارت کا نہیں، پوری ریاست کا ہے ۔

17۔ سب سے بڑا امتحان:وعدہ نہیں، فوری نتیجہ
افتخار گیلانی کی حکومت کے لیے سیاسی گھڑی بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔اگر ابتدائی تین سے چھ ماہ میں عوام کو یہ نظر آیا کہ:
٭ بجلی اور آٹے کے معاملات بہتر ہوئے ؛
٭سرکاری مراعات پر قابو آیا؛
٭صحت و تعلیم میں قابلِ مشاہدہ تبدیلی آئی؛
٭نوجوانوں کے لیے روزگار کی سمت بنی؛
٭انٹرنیٹ اور آمدورفت معمول پر آئی؛
٭اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے ؛
تو ‘‘مخصوص نشست پر آنے والے وزیراعظم’’ کا اعتراض رفتہ رفتہ کمزور ہو سکتا ہے ۔لیکن اگر حکومت بھی روایتی آزاد کشمیر حکومتوں کی طرح
تبادلے ، تعیناتیاں، ترقیاتی اسکیمیں، سیاسی مفادات اور اسلام آباد کے دورے ،تک محدود ہوگئی تو افتخار گیلانی کی نامزدگی پر اٹھنے والے ابتدائی سوالات مزید شدت اختیار کریں گے ۔کیونکہ موجودہ حالات میں حکومت چلانا روایتی طرز پر ممکن نہیں اور کامیابی کا انحصار وزیراعظم کی ٹیم اور عوامی شکایات سے نمٹنے کے طریقے پر ہوگا۔

18۔ ن لیگ کے لیے اصل اندرونی خطرہ کیا ہے ؟
ن لیگ کے اندر اس وقت کم از کم تین سیاسی رجحانات دکھائی دیتے ہیں:
پہلا دھڑا ۔۔ مرکزی قیادت
نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت کا فیصلہ، جس کے تحت افتخار گیلانی کو آگے لایا گیا۔
دوسرا دھڑا ۔۔پرانی مقامی قیادت
شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر جیسے رہنما جو براہ راست عوامی سیاست اور سابقہ حکومتی تجربے کا وزن رکھتے ہیں۔
تیسرا دھڑا۔۔ نئی نسل
نئے منتخب ہونے والے نوجوان ارکان جن پر افتخار گیلانی نے خود اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔گیلانی نے نئی نسل کے متعدد لیگی ارکان کی کامیابی کو آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں ‘‘واضح تبدیلی’’ قرار دیا ہے ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ن لیگ نے شاید ایک شعوری سیاسی انتخاب کیا ہے ،پرانے سیاسی محافظوں کے بجائے نسبتاً نوجوان چہرے کو آگے لانا۔سوال صرف یہ ہے کہ کیا پرانی قیادت اس تبدیلی کو قبول کرے گی؟

19۔ شاہ غلام قادر کو ساتھ رکھنا کیوں ضروری ہے ؟
شاہ غلام قادر کو نظرانداز کرنا افتخار گیلانی کے لیے مشکل ہوگا۔وہ پارٹی صدر ہیں، مرکزی قیادت سے براہ راست رابطہ رکھتے ہیں اور ان کا سیاسی وزن محض ایک نشست سے کہیں زیادہ ہے ۔اسی لیے 30اگست کو افتخار گیلانی کا شاہ غلام قادر سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنا محض رسمی ملاقات نہیں سمجھی جا سکتی۔ اس ملاقات کو پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی ناراضی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
رانا ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا بھی اسی مفاہمتی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

20۔ لیکن کیا ناراضی ختم ہوگئی؟
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ ن لیگ کے اندر کھلی بغاوت فوری طور پر ٹل گئی ہے ، لیکن اختلاف کی بنیادی وجوہ ختم نہیں ہوئیں۔کیونکہ اصل سوالات بدستور موجود ہیں۔
٭وزیراعظم کے انتخاب کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟
٭مخصوص نشست سے آنے والا رکن وزیراعظم کیوں بنا؟
٭مقامی قیادت کی رائے کو مرکزی قیادت نے کتنا وزن دیا؟
٭آئندہ کابینہ میں پرانے اور نئے دھڑوں کا توازن کیسے ہوگا؟
٭باقی سات نشستوں کے انتخابات میں ن لیگ کیا حکمت عملی اپنائے گی؟
یہ سوالات مستقبل میں دوبارہ اختلاف کا باعث بن سکتے ہیں۔

21۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بارے میں ن لیگ کی حکمت عملی فیصلہ کن
یہاں ایک تاریخی موقع موجود ہے ۔اگر افتخار گیلانی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو صرف ‘‘ریاست مخالف’’ یا ‘‘امن و امان کا مسئلہ’’ سمجھتے ہیں تو ان کی حکومت کا راستہ مشکل ہوگا۔اگر وہ اسے ‘‘عوامی ناراضی کا سیاسی اظہار’’سمجھ کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اپنے پیشروؤں سے مختلف طرز حکمرانی قائم کر سکتے ہیں۔ نئی حکومت کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے ، گرفتار افراد کے معاملات دیکھنے اور مہاجر نشستوں کے مسئلے پر وسیع پارلیمانی بحث کرنی چاہیے ۔یہی شاید حکومت کے لیے سب سے زیادہ قابلِ عمل راستہ ہے ۔

22۔ مہاجر نشستیں:حکومت کے لیے سب سے مشکل فیصلہ
یہ وہ مسئلہ ہے جہاں افتخار گیلانی حکومت کو اپنے ہی پارلیمانی مفاد اور عوامی مطالبے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی چاہتی ہے کہ 12مخصوص نشستیں ختم ہوں۔حکومت کہتی ہے کہ یہ آئینی نشستیں ہیں اور انہیں ختم کرنے کے لیے آئینی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے بھی جون میں قرار دیا تھا کہ ان نشستوں کو محض انتظامی کارروائی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ اسمبلی کی تشکیل میں یہی نشستیں ن لیگ کی طاقت بڑھانے میں اہم رہی ہیں۔رائٹرز نے بھی نشاندہی کی تھی کہ ن لیگ کی اکثریت میں ان مخصوص نشستوں کا کردار اہم ہے ، جبکہ یہی نشستیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا بنیادی مرکز ہیں۔اس لیے
جس نظام سے ن لیگ کو پارلیمانی فائدہ ملا، اسی نظام کے خلاف عوامی تحریک کھڑی ہے ۔یہ افتخار گیلانی حکومت کا بنیادی اسٹرکچرل مخمصہ ہے۔

23۔ حکومت ناکام کیسے ہو سکتی ہے ؟
نئی حکومت کی ممکنہ ناکامی کے کم از کم سات راستے ہیں:
1۔ پارٹی اختلاف مستقل دھڑے بندی بن جائے
اگر شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو محض عہدوں یا مراعات سے مطمئن کرنے کی کوشش ہوئی اور بنیادی سیاسی اختلاف حل نہ ہوا تو مسئلہ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے ۔
2۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دوبارہ سڑکوں پر آ جائے۔
پونچھ میں صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہ آنے کی صورت میں ایک چھوٹا واقعہ بھی بڑے احتجاج کو دوبارہ جنم دے سکتا ہے ۔

3۔ حکومت ‘‘اسلام آباد کی حکومت’’ کا تاثر پیدا کرے
یہ سب سے خطرناک سیاسی تاثر ہوگا۔
4۔ انتخابی ساکھ کا بحران برقرار رہے
پیپلز پارٹی کے تحفظات اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اگر مسلسل سیاسی بحث میں رہے تو حکومت کی اخلاقی طاقت متاثر ہوگی۔
5۔ باقی سات نشستوں کے انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہوں
اس سے اسمبلی کی نمائندگی اور حکومت کی سیاسی بنیاد پر سوال برقرار رہے گا۔
6۔ معاشی مسائل پر فوری پیش رفت نہ ہو
بجلی، آٹا، روزگار، صحت اور تعلیم وہ موضوعات ہیں جنہوں نے عوامی تحریک کو جنم دیا۔
7۔ روایتی گورننس دوبارہ غالب آ جائے
اگر حکومت صرف افسران کے تبادلے ، ترقیاتی اسکیموں اور سیاسی تقرریوں تک محدود رہی تو افتخار گیلانی کی ‘‘نئی نسل’’ کا دعویٰ کمزور پڑ جائے گا۔

24۔ اور حکومت کامیاب کیسے ہو سکتی ہے ؟
اس کے برعکس کامیابی کا راستہ بھی واضح ہے :
پہلا:شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو فیصلہ سازی میں حقیقی جگہ دی جائے ۔
دوسرا:عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کیے جائیں۔
تیسرا:گرفتار افراد اور حالیہ تصادم کے معاملات کے لیے شفاف قانونی، تحقیقی طریقہ اختیار کیا جائے ۔
چوتھا:سات باقی نشستوں پر جلد اور پرامن انتخابات کرائے جائیں۔
پانچواں:پہلے 100 دنوں کے لیے قابلِ پیمائش اصلاحاتی ایجنڈا دیا جائے ۔
چھٹا:بجلی، انٹرنیٹ، آمدورفت، تعلیم، صحت اور روزگار پر فوری اقدامات کیے جائیں۔
ساتواں:مہاجر نشستوں کے مسئلے کو ‘‘مانیں یا نہ مانیں’’ کے بجائے وسیع سیاسی اور آئینی مکالمے میں تبدیل کیا جائے ۔

25۔ ن لیگ کے لیے سب سے بڑا سیاسی سوال
آزاد کشمیر میں ن لیگ کی موجودہ پوزیشن کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے :پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے کافی ووٹ حاصل کر لیے ہیں، لیکن حکومت چلانے کے لیے اسے ایک نئی سیاسی رضامندی پیدا کرنا ہوگی۔یہ رضامندی صرف اسمبلی کے اندر نہیں چاہیے ۔
اسے تین جگہ پیدا کرنا ہوگا:مظفرآباد میں اپنی پارٹی کے اندر،راولاکوٹ میں عوامی تحریک کے ساتھ،اسلام آباد میں مرکزی قیادت اور مقامی سیاسی اختیار کے درمیان۔

26۔ آخری تجزیہ:افتخار گیلانی ‘‘کمزور وزیراعظم’’ ہیں یا نئی شروعات؟

افتخار گیلانی کے ناقدین کے پاس مضبوط دلائل ہیں:
٭ دو عام انتخابات میں شکست؛
٭حالیہ عام انتخاب میں بھی شکست؛
٭مخصوص نشست سے واپسی؛
٭مرکزی قیادت کا فیصلہ؛
٭مقامی پارٹی صدر کی مخالفت۔
لیکن ان کے حق میں بھی دلائل کم نہیں:
2011 اور 2016کا انتخابی تجربہ؛
٭سابق وزیر تعلیم؛
٭حکومت کا تجربہ؛
٭نسبتاً نوجوان عمر؛
٭نئی نسل کے ارکان کی حمایت؛
٭پارٹی کی واضح عددی اکثریت؛
اور سب سے بڑھ کر، یہ موقع کہ وہ پرانے سیاسی انداز کے بجائے مذاکرات اور گورننس کو اپنی شناخت بنائیں۔اس لیے ابھی انہیں ‘‘کمزور وزیراعظم’’ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔زیادہ درست تعبیر یہ ہے :وہ ایک کمزور سیاسی بنیاد سے شروع کرنے والے مضبوط پارلیمانی اکثریت کے وزیراعظم ہیں۔یہ بظاہر تضاد ہے ، لیکن یہی ان کی اصل طاقت اور اصل خطرہ دونوں ہے ۔

نتیجہ
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) نے اقتدار حاصل کرلیا ہے ، مگر اقتدار حاصل کرنا اس بحران کا حل نہیں بلکہ اس کے اگلے مرحلے کا آغاز ہے ۔افتخار گیلانی کا وزیراعظم بننا ن لیگ کی اندرونی سیاست میں ایک نسل کی تبدیلی کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے ۔پرانے مقامی سیاسی محافظوں کے مقابلے میں مرکزی قیادت نے ایک نسبتاً نوجوان چہرے کو منتخب کیا ہے ۔ لیکن اس تبدیلی کی قیمت پارٹی کے اندر مزاحمت کی صورت میں سامنے آ چکی ہے ۔ مرکزی قیادت نے بظاہرآزاد کشمیرکے ‘‘اولڈ گارڈــ’’ کے مقابلے میں ایک نوجوان چہرے پر اعتماد کیا ہے اور اب اس فیصلے کا نتیجہ دیکھنا باقی ہے ۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کی سڑکوں پر اٹھنے والی عوامی تحریک نے سیاست کا پیمانہ بدل دیا ہے ۔ اب صرف یہ کافی نہیں ہوگا کہ حکومت کتنی نشستیں رکھتی ہے ۔ سوال یہ ہوگا کہ ‘‘عوام اسے کتنا اپنا سمجھتے ہیں’’۔افتخار گیلانی نے 30اگست کو انٹرنیٹ اور راستوں کی بحالی، کاروباری نقصانات کے ازالے اور راولاکوٹ میں حالات بہتر بنانے کے اشارے دے کر ابتدائی طور پر ایک نسبتاً مصالحتی راستہ اختیار کیا ہے ۔
اگر یہ راستہ آگے چل کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات، سیاسی مفاہمت، میرٹ، شفافیت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فوری بحالی میں تبدیل ہوتا ہے تو افتخار گیلانی اپنی متنازع نامزدگی کو کارکردگی کے ذریعے سیاسی جواز میں بدل سکتے ہیں۔لیکن اگر حکومت نے اپنے ابتدائی اختلافات کو محض عہدوں کی تقسیم سے دبانے ، عوامی تحریک کو انتظامی مسئلہ سمجھنے اور روایتی طرز حکمرانی اختیار کرنے کی کوشش کی تو ن لیگ کی موجودہ عددی اکثریت بھی اسے بچانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔کیونکہ آزاد کشمیر میں ن لیگ نے الیکشن جیت لیا ہے ، اب اسے عوامی اعتماد، اپنی جماعت کا اتحاد اور ریاست کا سکون تینوں ایک ساتھ جیتنے ہیں۔
اور یہی افتخار گیلانی حکومت کا اصل امتحان ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں