میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
خان کاٹیج میں غیرقانونی تعمیرات، شہریوں میں تشویش

خان کاٹیج میں غیرقانونی تعمیرات، شہریوں میں تشویش

جرات ڈیسک
منگل, ۱۸ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

لطیف آباد یونٹ نمبر 10میں خان کاٹیج کا تعمیراتی سلسلہ تیز، کارروائی کا مطالبہ

بلڈنگ کنٹرول کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی مبینہ چشم پوشی پر سوالات

………………………………..

حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10 میں واقع خان کاٹیج میں تعمیراتی سرگرمیاں مبینہ طور پر تیزی سے جاری ہیں، جس پر علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور اینٹی کرپشن حکام کی توجہ مبذول کرانے کے باوجود تعمیراتی سلسلہ رکنے کے بجائے بدستور جاری ہے ۔

شہری حلقوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ افسر کی مبینہ چشم پوشی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنے کا راستہ ہموار ہوا۔

بعض شہریوں کی جانب سے اسے مبینہ بھاری رشوت کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے ،شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر خان کاٹیج میں جاری تعمیرات تمام قانونی تقاضے پورے کرکے کی جا رہی ہیں تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی واضح کرے کہ مذکورہ عمارت کا منظور شدہ نقشہ، تعمیراتی اجازت نامہ، زمین کا استعمال، کمرشل منظوری اور دیگر قانونی دستاویزات کیا ہیں اور تعمیرات کس قانون اور ضابطے کے تحت جاری ہیں۔

علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ متعلقہ ریکارڈ کی مکمل جانچ، موقع کا معائنہ اور تعمیراتی نقشے کی منظوری سمیت تمام قانونی تقاضوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔شہریوں نے اینٹی کرپشن حکام، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خان کاٹیج کی تعمیرات کا فوری نوٹس لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا تعمیراتی سرگرمیاں منظور شدہ نقشے اور قانونی اجازت کے مطابق جاری ہیں یا نہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مبینہ مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، جبکہ اگر تعمیرات مکمل طور پر قانونی ثابت ہوں تو متعلقہ ادارہ تمام دستاویزات اور منظوری کی حیثیت واضح کرکے شہریوں کے خدشات دور کرے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں