میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکا رو بہ زوال

امریکا رو بہ زوال

جرات ڈیسک
منگل, ۱۸ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی صدر کے متعلق واحد یقینی امر ، اُن کی غیر یقینی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات اور جنگ کے درمیان متضاد بیانات کے جھولے میں مسلسل جھولتے رہنے والے صدر ٹرمپ اب عمان سے بھی ناراض ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ بندی کی 60روزہ میعاد ختم ہونے پر اپنے پالیسی بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو امریکا عمان پر شدید بمباری کرسکتا ہے ۔ امریکی صدر نے اُسی سانس میں ایران کو ہتھیار ڈال کر سفید جھنڈا لہرانے کا مشورہ بھی دے دیا ہے۔ امریکی صدر کو فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں ایک ایسے سوال کا بھی سامنا کرنا پڑا جو ایران جنگ میں پٹریاٹ میزائل اور ٹوما ہاکس جیسے جدید ہتھیاروں کے بڑے ذخیرہ کے ختم ہونے سے متعلق ہے۔ اگر چہ امریکی صدر نے اس نوعیت کی تمام خبروں کو مسترد کیا اور کہا کہ امریکا کے صرف مونگ پھلی کے دانے جتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے ۔یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے، مگر ان دنوں امریکا کو ایران جنگ میں اپنے متعدد ملاحوں کی خود کشیوں کے بحران کا سامنا ہے۔ یہ بحران ایک بڑی بحث میں امریکی زوال کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے جنگی بحری جہازوں میں شمار ہونے والے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے متعدد ملاحوں نے خودکشی کے لیے جہاز سے کودنے کی کوشش کی۔ جس میں کچھ ہلاکتوں کی خبریں متبادل ذرائع ابلاغ پر موجودہیں، تاہم امریکا سرکاری طور پر ان خبروں کی تصدیق سے گریزاں ہے۔مگر ملاحوں کی جانب سے سمندر میں کودنا ہی اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جو امریکا کو درپیش ہے۔ امریکا کو ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے ساتھ ان خبروں کو دیکھیں، پھر فوج میں بھرتی کے مسائل اور صنعتی صلاحیت میں بڑھتے ہوئے خلاء کو بھی پیش نظر رکھیں تو ایک ایسی تصویر اُبھرتی ہے جو عالمی طاقت ہونے کے دعوے دار امریکا کے زوال کی آہٹ بھی سناتی ہے۔

گزشتہ ہفتے یوایس ایس ابراہم لنک پر جن متعدد امریکی ملاحوں کے سمندر میں کودنے کی خبریں آئیں، اُسے محض ذہنی دباؤ کے واقعات قرار دے کر الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ طیارہ بردار جہاز نومبر 2025میں کیلیفورنیا سے بحیرۂ جنوبی چین کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن بعد میں فروری 2026میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل اسے مشرقِ وسطیٰ (بحیرہ عرب) موڑ دیا گیا۔ اس کے طیاروں نے ایران پر ابتدائی فضائی حملوں میں حصہ لیا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مشن کے دوران جہاز کے دفاعی نظام نے اپنے اوپر داغے جانے والے سینکڑوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کیا۔مگر جہاز کے اندر کے حالات ناگفتہ بہ ہوتے گئے جس کا سبب اُس کی طویل تعیناتی ہے۔ اس جہاز نے بندرگاہ پر رکے بغیر مسلسل 260سے زائد دن سمندر میں گزارنے کا ایک جدید ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ طویل ترین ڈیوٹی اور رسد کی کمی نے عملے کو بلاشبہ پریشان کیا ہے، جس کے بعد اگست 2026میں امریکی انتظامیہ نے اسے واپس وطن بلانے اور اس کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس دوران میں امریکا کے اندر قانون ساز ٹرمپ انتظامیہ سے جواب طلب کرنے لگے ہیں۔اس طرح بظاہر جہاز میں معمول کی فوجی ذمہ داری ایک طویل اور کٹھن امتحان میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس پورے بحران کو سنجیدہ دانشور کوئی اچانک پیدا ہونے والی خرابی کے طور پر نہیں لیتے بلکہ اسے ایک بڑے بحران کی ایسی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جو مجموعی طور پر فوج کے اندر پروان چڑھ رہا ہے۔ امریکا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اُس کے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، بلکہ امریکی مسلح افوان کو کافی عرصے سے فوجی بھرتی میں کمی کا بھی سامنا ہے۔ 2023تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ 17سے 24 سال عمر کے صرف23فیصد نوجوان بغیر خصوصی رعایت کے فوجی خدمت کے لیے اہل ہیں ۔یعنی امریکا کے 77 فیصد نوجوان ایسے تھے جو کسی خصوصی رعایت کے بغیر فوج کا حصہ بننے کے اہل ہی نہ رہے تھے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں وزن کے مسائل ، منشیات کا استعمال اورطبی مشکلات شامل تھیں ۔اس وقت فوج میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے میں دلچسپی بھی تاریخ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی تھی، اور صرف 9فیصد نوجوانوں نے فوجی خدمت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کا اظہار کیا تھا۔مزید برآں، ‘‘تمام رضاکار فوج’’ کو( جو 1973 میں آخری لازمی فوجی بھرتی ہونے والے فرد کی رخصتی کے بعد قائم ہوئی ) برقرار رکھنا بتدریج زیادہ مہنگا اور مشکل ہوتا گیا ہے ۔ زیادہ تنخواہوں اور مراعات نے بعض ادوار میں فوجی تعداد برقرار رکھنے میں مدد دی، لیکن معاشرے میں موجود بنیادی مسائل، مثلاً اوپیئڈز(Opioids) کی لت، نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل اور دباؤ کا شکار طبی نظام، نے فوجی بھرتی کے لیے دستیاب افراد کے دائرے کو ضرورت سے زیادہ محدود کر دیا ہے۔ 2023 کی ان رپورٹس پر تب کسی نے توجہ نہیں دی تھی۔
امریکا میں پینٹاگون کی جواب دہی کا مسئلہ بھی خاموش خطرہ بن رہا ہے، جو اپنے متعدد آڈٹس میں ناکام رہا ہے ، اربوں ڈالر ضیاع اور فراڈ کی نذر ہوئے ہیں۔

یہ سب ایک کھرب ڈالر کے اسکینڈل کے تناظر میں ہو رہا ہے جبکہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں بیک وقت پیدا ہونے والی ضروریات کے باعث جدید اور درست نشانے والے ہتھیاروں کے ذخائر بھی کم ہو گئے ہیں۔امریکی مسلح افواج کا بنیادی ڈھانچہ بھی کئی برسوں سے بوسیدہ ہوتا جا رہا ہے ، اور فوجی عزائم اور حقیقی صلاحیت کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ حتیٰ کہ سابق حکام بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ صرف بمباری کی مہمات سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے ، اس کی حدود ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہوں اور نئی پیداوار میں کئی سال لگ رہے ہوں۔اگر اس کا ایک موازنہ اُبھرتے چین کے ساتھ کیا جائے تو چین کی آج کی بحری جہاز سازی کی صلاحیت امریکاسے 200گنا زیادہ ہے ۔

قصہ کوتاہ! امریکی صدر جہاں ایران سے نمٹنے اور عمان پر بمباری کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو تلخ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی فوج اپنے بحری جہازوں کے لیے قابلِ اعتماد افرادی قوت فراہم نہیں کر پا رہی یا اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں۔اگر ویتنام جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ جنگ 19سال سے زیادہ جاری رہی اور طویل عرصے تک امریکی وسائل اور فوجی و عوامی حوصلے کو نچوڑتی رہی۔جبکہ ایران سے متعلق موجودہ مہم ابھی ایک سال پرانی بھی نہیں ہوئی، لیکن اس دوران میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں گراوٹ کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ دوسری جانب ملاح کئی ماہ سمندر میں گزارنے کے بعد خودکشی جیسے مایوس کن اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔کثیر النوع دباؤ کے اتنی تیزی سے سامنے آنے کی یہ رفتار خاصی حیران کن ہے ۔ اس مرحلے پر فوجی بحران ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے ، اور یہ ایک ایسی عالمی سپر پاور کی وسیع تر کہانی کا حصہ ہے جو حد سے زیادہ پھیلاؤ اور بتدریج زوال کا شکار ہے ۔اس حقیقت سے بے خبر امریکی صدر ایران کو سلجھانے سے پہلے عمان میں اپنا دامن الجھانے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اور یہ زوال کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ زوال آمادہ ریاست اپنی ناکامی اور زوال کو دیکھنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں