میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
لطیف آباد میں نقد رقوم پرتعمیراتی لاقانونیت کی سرپرستی

لطیف آباد میں نقد رقوم پرتعمیراتی لاقانونیت کی سرپرستی

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۲ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

یونٹ نمبر 11 C/1میں مبینہ رشوت کا نیا بازار گرم انسپکٹر شہاب الدین زرداری ملوث

ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی سرپرستی، زبانی اجازتوں کا انکشاف، تحقیقات کا مطالبہ

……………………………………..

لطیف آباد یونٹ نمبر 11سی ون میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معاملات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں شہریوں اور ذرائع کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ زیرِ تعمیر مکانوں سے مبینہ طور پر فی مکان نقدی رقم وصول کرکے زبانی اجازت دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ الزام ہے کہ یونٹ 11سی ون کے علاقے میں تعینات انسپکٹر شہاب الدین زرداری مبینہ طور پر تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے دوران رقم وصول کرکے معاملات نمٹاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق معاملہ صرف بڑے تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ گلیوں اور رہائشی علاقوں میں تعمیر ہونے والے عام مکان بھی مبینہ طور پر اس سلسلے کی زد میں آ گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی اجازت ناموں کے بجائے مبینہ طور پر زبانی اجازت اور رقم وصولی کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف متعلقہ قوانین اور ضابطوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے ۔ذرائع کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ مبینہ سرگرمیوں کو لطیف آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے ، شہری حلقوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ یونٹ نمبر 11سی ون میں حالیہ تعمیرات، اجازت ناموں، نقشوں اور فیسوں کا ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ مبینہ طور پر رقم وصول کرکے زبانی اجازت دینے کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ تعمیراتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں