بھارتی معیشت کی تباہی
شیئر کریں
مودی کے پاکستان مخالف جارحانہ اقدامات کا خمیازہ بھارتی ائیرلائنز کو ناقابل تلافی معاشی نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مودی سرکار کی معاشی ناکامیوں کے نتیجے میں انڈین ایئرلائنز مسلسل زوال کا شکار ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی کٹھ پتلی بھارتی حکومت کی ناقص حکمت عملی نے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کو تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور مودی کے بلند بانگ ترقیاتی دعووں کے پیچھے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کی مشکلات کی تلخ حقیقت سامنے آ گئی ہے۔بدترین پالیسیوں کے باعث ایوی ایشن سیکٹر شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کی وجہ سے مہنگے ایندھن اور کمزور بھارتی روپیہ نے ایوی ایشن کے شعبہ کی کمزوریاں آشکار کر دی ہیں۔ کم از کم 10 ایئرلائنز بھاری نقصانات کے باعث اپنا سفر ختم کرگئی ہیں۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ معروف بھارتی صحافی پالکی شرما کے مطابق مودی کی نااہلی اور تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے ایئرلائنز کی ناکامیاں بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کی مثال بن چکی ہے۔
بھارت کی 3 بڑی ایئر لائنز شدید بحران کا شکار ہونے کے سبب ملک میں پروازوں کی معطلی کا خدشہ پیدا ہوگیا، حکومت سے ہنگامی مدد کی اپیل کردی۔ بھارتی فضائی صنعت بحران کے دہانے پر پہنچ گئی، 3 فضائی کمپنیوں ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے حکومت سے فوری مدد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز (ایف آئی اے) جو ایئر انڈیا، انڈیگو، اور اسپائس جیٹ کی نمائندگی کرتی ہے، نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ صنعت ’’شدید دباؤ‘‘ کا شکار ہے اور فوری ریلیف نہ ملا تو پروازیں منسوخ اور طیارے گراؤنڈ کیے جاسکتے ہیں۔ایف آئی اے نے حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ حالیہ ایران جنگ اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا ہے۔بھارت دنیا کی پانچویں بڑی ایوی ایشن مارکیٹ ہے جو موجودہ صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے، ایندھن کے اخراجات بھارتی ایئر لائنز کے کل آپریٹنگ اخراجات کا 40 فیصد بنتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر منطقی اضافہ ایئرلائنز کے لیے ’’ناقابلِ برداشت نقصانات‘‘ کا باعث بنے گا، جس سے آپریشن معطل ہونے کا خدشہ ہے۔فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی آپریشنز مکمل طور پر غیر منافع بخش ہوچکے ہیں جبکہ اندرونِ ملک پروازیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں مقامی پروازوں کے لیے ایندھن کی قیمت میں اضافہ 15 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا، تاہم بین الاقوامی پروازوں کے لیے یہی اضافہ 73 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، جس سے عدم توازن پیدا ہوا۔
فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز نے حکومت سے ایندھن پر عائد 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کو عارضی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ٹیکس کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں کا ازسرِنو تعین کیا جائے، فیول پرائسنگ میکانزم کو مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے آپریشنز کے لیے یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئے اعداد و شمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا۔معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سیزمین بوس ہوچکا ہے۔
بھارتی عوام پوچھ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے اپنی انتخابی مہم میں ہر سال دو کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا ، اس وعدے کا کیا بنا۔ مودی سرکار کبھی ‘‘ میک ان انڈیا ’’ ، ‘‘ڈیجیٹل انڈیا’’ ، کبھی ‘‘سٹارٹ اپ انڈیا’’ کے نام سے نت نئی اسکیموں کا اعلان کرتی رہی ، اس سے کیا فائدہ پہنچا۔ مقبوضہ کشمیر میں کب امن ہو گا اور بھارت سرکار کی ریاستی دہشتگردی کب ختم ہو گی۔ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ تعلیم کے نظام کی از سرِ نو تشکیل کر کے اسے بہتر بنایا جائے گا ، نئی طرز سے تو کیا تشکیل ہوتی اس کی حالت پہلے سے بھی دگردوں ہو چکی ہے۔مودی کہتے تھے کہ ان کی سرکار آنے کی صورت میں بیرون ملکوں سے تمام کالا دھن واپس لایا جائے گا اور ہر بھارتی کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ جمع کرائے جائیں گے ، وہ وعدہ کیا ہوا۔ مودی نے ‘‘ سکِلڈ انڈیا ’’ کے نام سے نئی سکیم کا اعلان کیا ، بھارتی عوام کا سوال ہے کہ جب نوجوانوں کو نوکریاں ہی نہیں مل رہیں تو ان کی ‘‘ سکِلز ’’ سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے گا ؟۔ موصوف نے خود کہا تھا کہ ‘‘ گؤ رکھشک ’’ معاشرے کے لئے خطرہ ہیں ، لیکن ان کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا گیا بلکہ جس تواتر سے بے گناہوں پر گؤ رکھشا کے نام پر حملے ہو رہے ہیں اور لوگ شہید کیے جا رہے ہیں ، ان سے لگتا ہے کہ انھیں بھارت سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
٭٭٭


