سندھ بلڈنگ،عمارت کے انہدام کے بعد دوبارہ تعمیر، جعلی کارروائی بے نقاب
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 5 میں ای 22/1, سی 4/24 پر خلافِ ضابطہ منہدم عمارتیں دوبارہ تعمیر
ڈائریکٹر الطاف کھوکھر پر ملی بھگت کے الزامات، مکینوں کا تحقیقات کا مطالبہ
……………………………..
ناظم آباد نمبر 5 میں خلافِ ضابطہ قرار دے کر گزشتہ دنوں جن عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی تھی، انہی مقامات پر دوبارہ تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر ای 22/1 پر تعمیراتی کام مکمل کرلیا گیا ہے،جبکہ پلاٹ نمبر سی 4/24 پر بھی ازسرِنو تعمیر کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارتوں کے خلاف متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے انہیں خلافِ ضابطہ قرار دیا گیا تھا اور انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم کارروائی کے کچھ ہی عرصے بعد انہی پلاٹوں پر دوبارہ تعمیر شروع ہونے سے اتھارٹی کے نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مقامی مکینوں کے مطابق اگر مذکورہ عمارتیں واقعی خلافِ ضابطہ تھیں اور اسی بنیاد پر انہیں منہدم کیا گیا تھا تو دوبارہ تعمیر کی اجازت یا تعمیراتی سرگرمیوں کا جاری رہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ انہدامی کارروائی کے بعد تعمیراتی کام دوبارہ کس کی اجازت یا مبینہ سرپرستی میں شروع ہوا۔
دوسری جانب متعلقہ افسر ڈائریکٹر الطاف کھوکھر پر مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت، چشم پوشی یا مبینہ ملی بھگت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ ای 22/1 اور سی 4/24 پر ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں کا ریکارڈ، انہدامی کارروائی کے احکامات اور بعد ازاں تعمیر کی اجازت کی مکمل چھان بین کی جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ خلافِ ضابطہ قرار دی گئی عمارتیں انہدام کے بعد دوبارہ کس طرح تعمیر کے مرحلے میں پہنچ گئیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر خلافِ ضابطہ تعمیرات کے خلاف کارروائی محض دکھاوے تک محدود رہی اور انہدام کے بعد دوبارہ تعمیر کی راہ ہموار کردی گئی تو اس سے نہ صرف اتھارٹی کی کارروائی پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ شہریوں میں قانون کے یکساں اطلاق کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوتی ہے۔


