میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بد گوئی،بدزبانی و فحش کلامی۔۔ایک معاشرتی خرابی

بد گوئی،بدزبانی و فحش کلامی۔۔ایک معاشرتی خرابی

جرات ڈیسک
جمعه, ۷ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

اسلام ایسا دین ہے جو انسان کو ہر پہلو سے حسن اخلاق اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق، نرم لہجے اور پاکیزہ
گفتگو پرہے۔بدگوئی، فحش کلامی، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں،
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے۔

سورۃالحجرات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے سے منع فرمایا ہے اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے،تم میں سے بہتر
وہ شخص ہے جو تم سب میں زیادہ بااخلاق ہو (صحیح بخاری) اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہوتا ہے۔جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر
ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری) اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ بندے کو
سب سے اچھی چیز کیا عطا کی گئی؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: خوش خلقی (سنن ابن ماجہ)مسلمان کو گالی دینا فسق یعنی گناہ ہے۔

ایک اور مقام پر نبی کریمﷺ نے فرمایاوہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو بکواس اور جھوٹ
بولتے ہیں (مسند احمد) اسی طرح آپؐ نے منافق کی خصلتوں میں سے ایک خصلت یہ بتائی ہے کہ جب بھی وہ کسی سے اختلاف کرے تو
گالیاں بکے (صحیح بخاری)رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا مسلمان کو اذیت نہ دو، انہیں عار نہ دلاؤ، اور ان میں عیوب مت تلاش کرو، کیونکہ
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا اور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو
جائے گا اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو (جامع ترمذی)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل
اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ساری بھلائی اسی میں ہے، جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ
یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے، اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکراور قرآن مجید کی تلاوت سے مصروف رکھو کیونکہ یہ زمین پر نور کا سر چشمہ
ہیں اور آسمان پر معروف ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو ورنہ خاموش رہو کیونکہ ایسا
کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی (المعجم الکبیر، ابن حبان)حضرت عبداللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ”جو مسلمان ہے وہ طعنے نہیں مارتا اور نہ لعنت بھیجتا ہے اور نہ فحش گوئی
کرتا ہے اور نہ بد زبانی کرتا ہے (ترمذی شریف)بیہودہ گوئی کی پہلی قسم کو قرآن وحدیث میں اس کی تمام صورتوں کے ساتھ ممنوع قرار دیا
گیا ہے اور بد زبانی کو بے حیائی وبے غیرتی میں داخل کر کے اس سے روکا گیا ہے، چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ جس کے
اندر حیا آجائے تو وہ اس کو زینت یعنی شرافت وعزت دیتی ہے اور جس کے اندر بد زبانی اور تند خوئی آجائے تو اس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ بد زبانی ذلت ورسوائی کا اور شرم وحیا عزت وعظمت کا سبب ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اس دنیا میں لوگوں
کے وقار کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا، جو کوئی بھی دنیا میں لوگوں پرآنے والے غصے
پر قابو کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا (احیا علوم الدین)بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم
ﷺ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایامنافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے
تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے۔مسلم شریف کی روایت ہے کہ
جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہی ہوگا،جب تک کے مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ایک طرف تو نبی اکرم
ﷺ نے گالی گلوچ سے منع کیا اورفرمایا کہ گالی گلوچ کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگااور دوسری طرف اخلاقی طور پر یہ بھی ہدایت کی ہے کہ
گالی کا جواب گالی سے نہ دیا جائے،اس لیے کہ اس طرح کرنے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم
آخرت پر ایمان رکھتا ہے(اسے چاہیئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ (صحیح بخاری6018، صحیح مسلم:4774)ابو الیث
سمر قندی ؒ فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے۔ اسی طرح
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں
حساب سے زیادہ آسان ہے۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے (تنبۃالغافلین)

آج کے دور میں سوشل میڈیاودیگر ذرائع ابلاغ میں عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا
ہے جو کہ ایک خطر ناک رحجان ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بد گوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہو گا۔بد
زبانی اور گالی گلوچ سے مغلظ اور گندی گالیاں ہی مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے
کی توہین وتحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب ہو، حضو راکرم ﷺنے نہایت بلیغ اور مؤثر انداز میں ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ماں
باپ کو بُرا بھلا نہ کہے، لوگوں نے عرض کیا کہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بُرا بھلا کہہ سکتا ہے؟ یعنی یہ بات تو کسی بھی شخص سے نہیں ہو سکتی۔ آپ
نے فرمایا کہ جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے گا تو وہ پلٹ کر اس کے ماں باپ کو ایسا ہی کہے گا، گویا اس کی گالی سبب بن گئی ہے، اپنے
ماں باپ کی گالی کا، اس لیے ایسی بد زبانی نہ کی جائے۔ بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا بہت بڑا گناہ ہے او
راس سے قتل وقتال کرنا تو گویا کفر ہے،بد زبانی یا گالی گلوچ کرنا اتنا سنگین گنا ہ ہے کہ اس کی معافی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک وہ شخص
معاف نہ کرے جس کے ساتھ بد زبانی کی گئی ہے کیونکہ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔حضوراکرم ﷺنے اپنی اُمت کو بد زبانی او رگالی دینے
سے اس حد تک روکا ہے کہ اپنے زیر دستوں، اپنے نوکر چاکر او راپنے خادموں کے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ صرف جُرم قرار دیا بلکہ اس کو دور ِ
وحشت اورزمانہ جاہلیت کی یاد گار قرار دے کر اس سے دلوں میں نفرت بھی پیدا کر دی، بخاری شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر
غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو ڈانٹااور برا بھلا کہا، حضور اکرم ﷺکو معلوم ہوا تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ تم میں ابھی تک دورِ
جاہلیت کا اثر باقی ہے، یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ ان سے
بھائیوں جیسا معاملہ کرو۔مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے، اس کی نمازیں تک قبول نہیں
ہوتیں۔ آپﷺ کا ارشاد ہے:جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی
فرض عبادت قبول نہیں ہوتی (صحیح بخاری)

حدیث میں لعنت کرنے کو مومن کے قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ”مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کرنے
کی طرح ہے“ (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1058)یہ تو وہ سنگین بد زبانی اور فحش گوئی تھی جس کا تعلق انسانوں سے تھا، آپ ﷺ نے
تو جانوروں کو بھی گالی کوسنے کو نہ صرف یہ کہ ناپسند فرمایا، بلکہ اس پر مناسب سزا بھی دی ہے۔ چنانچہ ابوداؤد شریف میں ہے کہ آپ ایک مرتبہ
سفر میں تھے، مسافروں میں ایک خاتون بھی تھیں، ان کی اس اُونٹنی نے جس پر وہ سوار تھیں کچھ شوخی کی، اس پر اس خاتون نے اُونٹنی پر لعنت
بھیج دی، آپ ﷺنے تنبیہ فرمائی اور حکم دیا کہ اس خاتون کو اُس اُونٹنی سے اتار دیا جائے، آپ نے ان کو اونٹنی سے محروم کرکے گویا سزا دی،
تاکہ آئندہ ان کو عبرت ہو۔ اللہ جل شانہُ ہمیں صحیح معنوں میں دین پر چلنے والا بنائے گالی بے ہو دہ کلام بدگوئی سے بچنے کی توفیق نصیب
فرمائے۔ آمین


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں