میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ،ایک انگلی سے لیپ ٹاپ چلا کر لاکھوں روپے کمانے والا عبدالمعید

پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ،ایک انگلی سے لیپ ٹاپ چلا کر لاکھوں روپے کمانے والا عبدالمعید

جرات ڈیسک
پیر, ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایک بیماری کے بعد عبدالمعید کے  جسم اور ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا، سانس کے لیے وینٹی لیٹر زندگی کا مستقل حصہ بن گیا

عمرے کی ادائیگی کی خواہش کے باوجود ہوائی سفر ان کے لیے ایک بڑا طبی چیلنج بنا ہوا ہے

صرف ایک انگلی کی مدد سے لیپ ٹاپ چلاتے ہیں، روزانہ گھر سے اپنی فیکٹری جاتے ہیں، کاروبار کی نگرانی کرتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ کہلانے والے عبدالمعید گزشتہ 16 سال سے وینٹیلیٹر کے سہارے زندگی گزار رہا ہے، بیماری کے باعث ان کے جسم اور ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ مشین کے بغیر سانس لینا بھی ممکن نہیں رہا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

جسمانی مشکلات کے باوجود وہ صرف ایک انگلی کی مدد سے لیپ ٹاپ چلاتے ہیں، روزانہ گھر سے اپنی فیکٹری جاتے ہیں، کاروبار کی نگرانی کرتے ہیں، اسٹاک مارکیٹ اور ایس ای او کے شعبے میں کام کرتے ہیں اور لاکھوں روپے کماتے ہیں۔

یہ عبدالمعید کی زندگی کی ایسی کہانی ہے جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ایک بیماری کے بعد ان کے جسم اور ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن گیا۔

گزشتہ 16 برس سے وہ ہر وقت اس مشین کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں، تاہم انہوں نے اپنی جسمانی محدودیت کو زندگی کے تمام راستے بند ہونے کا سبب نہیں بننے دیا۔

عبدالمعید کے مطابق اس طویل اور مشکل سفر میں ان کے والدین اور گھر والوں کی حمایت ان کی سب سے بڑی طاقت رہی۔  خاندان نے ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا اور اسی تعاون کی بدولت وہ آج بھی اپنے کام اور کاروبار کو خود سنبھال رہے ہیں۔

وہ روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ گھر سے فیکٹری پہنچتے ہیں، وہاں مختلف چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں اور کاروباری معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔

ان کی سرگرمیاں صرف فیکٹری تک محدود نہیں بلکہ وہ اسٹاک مارکیٹ اور ایس ای او کے شعبے میں بھی کام کرتے ہیں۔ عبدالمعید نے گھر میں تیار کیے جانے والے کھانے کا کاروبار بھی کیا ہے۔

وہ دوستوں کے ساتھ باہر جاتے ہیں اور اپنی زندگی کو صرف چار دیواری تک محدود نہیں رکھا۔ وینٹیلیٹر پر رہنے کے باوجود وہ اپنے روزمرہ معمولات، کاروباری سرگرمیوں اور سماجی زندگی کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کی زندگی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ جسمانی حرکت انتہائی محدود ہونے کے باوجود ان کی ایک انگلی کام کرتی ہے۔ وہ اسی ایک انگلی کی مدد سے لیپ ٹاپ چلاتے ہیں، آرڈرز دیکھتے ہیں، اسٹاک کا حساب رکھتے ہیں اور آن لائن کام مکمل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ عبدالمعید شادی نہیں کرنا چاہتے، تاہم ان کی سب سے بڑی خواہش بیت اللہ کی زیارت کرنا اور عمرے کی سعادت حاصل کرنا ہے۔ وہ اس خواہش کو پورا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں ہوائی سفر سے منع کیا ہے۔

ان کے مطابق ہوائی جہاز کے کیبن میں نمی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وینٹیلیٹر پر موجود مریض کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمرے کی ادائیگی کی خواہش کے باوجود ہوائی سفر ان کے لیے ایک بڑا طبی چیلنج بنا ہوا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں