سندھ بلڈنگ، کمرشل قبضوں سے اسکیم 33کی رہائشی شناخت خطرے میں
شیئر کریں
اسٹیٹ بینک سوسائٹی کے پلاٹ نمبر A-43پر بالائی منزل کی تعمیر شروع،شہری بے چین
قابض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی کی تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت ، ادارے خاموش تماشائی
اسکیم 33 کی رہائشی سوسائٹیوں میں مبینہ غیر قانونی کمرشل قبضوں اور بے ضابطہ تعمیرات نے شہریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے ۔ اسٹیٹ بینک سوسائٹی کے مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پلاٹ نمبر A-43پر قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالائی منزل کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے ، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر جاری تعمیرات رہائشی قوانین اور منظور شدہ نقشوں کی خلاف ورزی ہیں، لیکن متعدد شکایات کے باوجود ذمہ دار اداروں نے کوئی مؤثر کاروائی نہیں کی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر غیر قانونی تعمیرات نہ روکی گئیں تو پورا علاقہ کمرشلائزیشن کی لپیٹ میں آ جائے گا اور رہائشی ماحول مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔شہریوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے میں طویل عرصے سے قابض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عدیل قریشی اور مبینہ تعمیراتی مافیا کے درمیان ملی بھگت کے باعث کاروائی نہیں کی جا رہی، جس کے نتیجے میں غیر قانونی تعمیرات بلاخوف جاری ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی اور متعلقہ افسر کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔متاثرہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی یکساں عملداری یقینی نہ بنائی گئی تو اسکیم 33 کی رہائشی سوسائٹیاں غیر قانونی کمرشل قبضوں کی نذر ہو جائیں گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
سندھ بلڈنگ


