ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود پر متفق
شیئر کریں
ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ،یہ اسی صورت ممکن ، جب کوئی تیسرا فریق اس میں مداخلت نہ کرے،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
معاہدے کے تحت خلیجی ملکوں کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایرانی پانیوں کا راستہ اختیار کریں گے، 60دن کی اس مدت کے دوران کوئی فیس نہیں لی جائے گی، ذرائع امریکی میڈیا
مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں، واشنگٹن کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، اگر امریکا کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی،ایرانی سرکاری میڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود پر متفق ہوگئے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہے، جب کوئی تیسرا فریق اس میں مداخلت نہ کرے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ ایرانی حکام پاکستان اور قطر میں اس معاملے میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا، عمان اور ایران کے درمیان 60روز کے عارضی انتظام پر اتفاق ہوا ہے، معاہدے کے تحت خلیجی ملکوں کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی پانیوں کا راستہ اختیار کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب جانے والے بحری جہاز عمانی پانیوں سے سفر کریں گے۔60دن کی اس مدت کے دوران کوئی فیس نہیں لی جائے گی، فریقین 30دن کے اندر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں، واشنگٹن کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، اگر امریکا کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20فیصد تیل اور 30فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90اور سال بھر میں 33ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز مشرقِ وسطی کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔33کلومیٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی 3کلو میٹر ہے، جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20فیصد اسی راستے سے جاتا ہے۔آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8ممالک ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے، جبکہ جاپان یہاں سے 95فیصد اور جنوبی کوریا 71فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔


