میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مراکش اورہسپانیہ میں مہاجرت کا مسئلہ

مراکش اورہسپانیہ میں مہاجرت کا مسئلہ

جرات ڈیسک
جمعرات, ۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

سرحدیں زمین کو تو تقسیم کر سکتی ہیں مگر انسانی خوابوں کو نہیں جب غربت ،بے روزگاری ،جنگ سیاسی کشمکش اور بے یقینی جیسے مسائل دستک دیتے ہیں تو انسان فرارکے راستے تلاش کرتاہے ، پھر سمندر،خاردارباڑیں اور سرحدی چوکیاں اُس کے قدم روکنے میں ناکام رہتی ہیں۔ شمالی افریقہ اورجنوبی یورپ کے درمیان موجود سیوتا کا شہر اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے ،جہاں جغرافیہ،سیاست ،انسانی المیہ اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے کچھ اِس طرح جُڑے ہیں کہ حقیقت ، سیاست اور سرحدوں کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں رہی۔ حکومتوں کی طرف سے ناراضگی کے طورپرمہاجرت جیسے مسائل کو جنم دینے کاکوئی اخلاقی اورقانونی جواز نہیں مگر مراکش سے ہسپانیہ کی طرف ہجرت میں دیگر مسائل کے ساتھ حکومتی ناراضگی بھی ایک وجہ ہے۔

ہسپانیہ کی طرف مہاجرت کا مسئلہ مغربی صحاراسے منسلک ہے جو نصف صدی سے زائدعرصے سے شمالی افریقہ کی سیاست پراثراندازہے مراکش اِسے اپنی علاقائی وحدت کا حصہ کہتا ہے جبکہ پولیساریوفرنٹ کامطالبہ حق ِ خود اِرادیت اور آزادی ہے۔ اِس حوالے سے اُسے الجزائر کی سفارتی حمایت حاصل ہے۔ ہسپانیہ نے کچھ عرصہ قبل مراکش کے موقف کوتسلیم کرلیا تو دونوں ممالک کے تعلقات میں معمولی بہتری آئی لیکن وزیرِ اعظم پیدروسانچز کا فیفا ورلڈ کپ سے الجزائر کے دورے پر جانا مراکش کودوبارہ ناراض کر گیا ہے۔ قبل ازیں پولیساریو فرنٹ کے رہنما ابراہیم غالی کو علاج کی غرض سے ملک میں داخل ہونے جیسے خالصتاًانسانی فیصلے پر بھی رباط اور میڈرڈ میں فاصلے بڑھے تھے مراکش کی طرف سے ہسپانیہ کے لیے سرحدی مسائل کوجنم دینے جیسے طرزِ عمل کا یورپ میں داخلے کے قوانین سخت بنانے میں نہ صرف اہم کردارہے بلکہ یورپی ممالک میں مہاجرت مخالف سیاسی جماعتوں کی مضبوطی کا باعث ہے ۔

ستمبراور اکتوبر2005میں مختلف افریقی ممالک سے 1400کے قریب لوگوں نے سیوتا اور میلیلا کی سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کی اِس دوران ہسپانیہ اور مراکش کے سرحدی محافظوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے یہ مہاجرت کاایسا پہلا بڑا بحران تھا جس نے یورپی یونین کی سرحدی پالیسیوں کو خاص طورپر متاثر کیا سترہ اور اٹھارہ مئی1 202میں دوسری بارآٹھ ہزار افراد تیر کر یاپیدل سیوتا میں داخل ہو گئے جن میں خواتین کے ساتھ نابالغ بچوں کی بڑی تعدادشامل تھی۔ یہ ہسپانیہ کی تاریخ کا ایک ہی وقت میں سب سے بڑا غیر قانونی سرحدی داخلہ تھا جس نے یورپ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا مگر ہسپانوی حکومت کی بہترین اور جامع حکمت عملی کے نتیجے میں داخل ہونے والے تمام افراد کوواپس مراکش دھکیل دیا گیا۔اِس پر یورپی اقوام نے سکون کا سانس لیا۔ 2024 میں تیسری بار مراکش میں سیوتا کی طرف مارچ کی اپیلیں ہوئیں لیکن سوشل میڈیا پرجاری مُہم کو مراکشی حکومت نے عملی طور کامیاب نہ ہونے دیا ۔راستوں کی ناکہ بندیاں اور نمایاں افراد کی گرفتاری سے یہ کوشش بھی ناکام بنا دی گئی لیکن ہسپانیہ کا خیال ہے کہ مراکش کی حکومت خود مہاجرت کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جس میں بڑی حدتک صداقت ہے ۔

2026جولائی کے آخر اور اگست کے آغاز میں پچاس سے ساٹھ ہزار افرادقافلوں کی صورت میں زبردستی سیوتا میں داخل ہوگئے جن کے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے۔ عام قیاس یہ ہے کہ ہسپانوی سپریم کورٹ کے تارکینِ وطن کوڈی پورٹ نہ کرنے اور آسان امیگریشن اہم وجہ وجہ ہے۔ مگر واقفانِ حال اِسے مراکشی حکومت کی سرپرستی قراردیتے ہیں جسے جھٹلانامشکل ہے۔

اِس افتاد کے بارے میں کسی کو بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی ۔اسی لیے سرحدی محافظ بروقت سخت کارروائی نہ کر سکے۔ مراکش سے ہسپانیہ میں داخل ہونے والے مہاجرین نے غیر قانونی آنے کے ساتھ انتظامیہ کے لیے امن و امان کے مسائل بھی پیداکیے ۔دکانوں کولوٹا گیا۔ مقامی رہائشیوں سے بھی بدسلوکی ہوتی رہی۔ اِس بار سرحدی محافظوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ہسپانیہ نے یورپی یونین سے بھی مددطلب کی۔ علاوہ ازیں مراکشی حکومت سے رابطہ کرکے غیرقانونی آمد پر احتجاج کرنے کے ساتھ شہریوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔عین ممکن تھا کہ مراکش ایسا نہ کرتامگر اتنی بڑی تعدادکامہاجرت اختیارکرنے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ جس سے مراکش میں سیاسی کشمکش اوربے یقینی اُجاگر ہوئی ۔اِس لیے غیر قانونی سرحدپارکرنے والے تمام افراد کو مراکش نے واپس لے لیا ،لیکن یورپ میں اِس واقعہ کے حوالہ سے تشویش ابھی تک کم نہیں ہوئی۔ اٹلی اور فرانس نے تو ہسپانیہ کوآڑے ہاتھوں لیا ۔اٹلی حکومت کے ہسپانیہ سے آنے والوں کی خصوصی جانچ پڑتال کے فیصلے سے دونوں تناؤآیاہے ۔اٹلی کی وزیر ِ اعظم جارجیا میلونی کا ہسپانیہ کو شینگن ممالک سے نکالنے کے مطالبے پرجنم لینے والی سفارتی کشیدگی ہنوزموجودہے ۔حالانکہ غیر قانونی مہاجرت میں ہسپانوی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ یہ مراکش حکومت کی مغربی صحاراکے تنازع پرہسپانیہ سے ناراضگی ہے ۔اِس بناپر اٹلی کا موقف متوازن نہیں کیونکہ شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کا مستقبل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔ مغربی صحارا کے تنازع کا پائیدار اورمنصفانہ سفارتی حل، باہمی اعتماد کی بحالی ،اقتصادی تعاون میں اضافے اور غیر قانونی مہاجرت جیسے بنیادی اسباب کے خاتمے سے ہی خطے میں استحکام آسکتا ہے کیونکہ سیوتا کی سرحد پر جو مناظر وقفے وقفے سے دکھائی دیتے ہیں وہ کل کو کسی اور سرحد پر بھی دُہرائے جا سکتے ہیں۔

مراکش ،ہسپانیہ اور الجزائر تینوں ہی اپنے اپنے قومی مفاد کے مطابق پالیساں بنارہے ہیں۔ مراکش مغربی صحارا پر اپنی خودمختاری کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کی کوشش میں ہے ۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کے انعام میں امریکہ نے اُس کا موقف مان لیا لیکن الجزائر ابھی تک اپنے روایتی موقف پر اڑاہواہے ۔ہسپانیہ یورپ کی سلامتی،اقتصادی مفادات،اور علاقائی استحکام کے درمیان توازن رکھنے کی کوشش میں ہے۔ اِن مختلف ترجیحات کے باعث تینوں ممالک کے تعلقات میں اُتارچڑھاؤ ایک فطری امر بن چکا ہے ۔اگر یہ مل کر کوشش کریں تو خطہ کسی نئی کشمکش کا مرکز بننے سے محفوظ رہ سکتا ہے اور سرحدیں بہتر طریقہ سے محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔

مراکش سے ہسپانیہ میں مہاجرت کا مسئلہ ایک بحران ہے، تاہم اِس بحران سے یہ سبق ضرورحاصل ہوتا ہے کہ سفارتی تنازعات کا بوجھ ہمیشہ عام انسان کے کندھوں پر آتاہے ۔جب ریاستیں اختلاف کرتی ہیں تو سرحدوں پر کھڑے محافظ،سمندرمیں سفر کرتے مہاجراور بہتر روزگارکی تلاش میں نکلنے والے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پس ثابت ہوا عالمی سیاست کے بڑے فیصلوں کی قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جنھیں فیصلوں پر رائے تک دینے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں