میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تقدیر سے فرار

تقدیر سے فرار

جرات ڈیسک
جمعرات, ۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

قدیم یونان میں ایک بادشاہ تھا، لائیئس۔ وہ تھیبس کا بادشاہ تھا اور اس کی بیوی جوکاسٹا ملکہ۔ بظاہر اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کے لیے انسان زندگی بھر بھاگتا ہے ، اقتدار، دولت، محل، رعایا اور نام۔ مگر بعض اوقات انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے اور پھر بھی اس کے پاس اپنے مستقبل کا اختیار نہیں ہوتا۔
ایک دن لائیئس نے دیوتا اپالو کے اوریکل سے اپنی قسمت پوچھی۔ جواب ایسا تھا جس نے ایک بادشاہ کے قدموں تلے سے زمین نکال دی۔ پیش گوئی ہوئی کہ اس کا اپنا بیٹا اسے قتل کرے گا اور پھر اسی کی بیوی، یعنی اپنی ماں، سے شادی کرے گا۔لائیئس اور جوکاسٹا نے اس پیش گوئی کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔

انہیں جب بیٹا پیدا ہوا تو انہوں نے اس کے ٹخنوں کو چھید کر باندھا اور ایک چرواہے کے حوالے کر دیا کہ بچے کو پہاڑ پر چھوڑ آئے تاکہ وہ مر جائے ۔ بچے کے پاؤں زخمی اور سوجے ہوئے تھے ۔ یہی وجہ بنی کہ بعد میں اسے اوڈیپس کہا گیا، جس کا تعلق یونانی لفظ سے ہے اور عام طور پر اس کا مفہوم "سوجے ہوئے پاؤں والا” بیان کیا جاتا ہے ۔لیکن تقدیر کو شاید انسانوں کے فیصلوں سے زیادہ انسانوں کی کمزوریوں کا علم ہوتا ہے ۔
چرواہے کو بچے پر رحم آ گیا۔ اس نے اسے قتل کرنے کے بجائے ایک دوسرے چرواہے کے حوالے کر دیا۔ وہ بچہ کورنتھ پہنچا جہاں بادشاہ پولی بس اور ملکہ میروپ نے اسے اپنا بیٹا بنا کر پال لیا۔اوڈیپس بڑا ہوا تو اسے اپنی اصل شناخت کا علم نہیں تھا۔ وہ سمجھتا رہا کہ پولی بس اور میروپ ہی اس کے حقیقی والدین ہیں۔ پھر ایک دن کسی نے اسے طعنہ دیا کہ تم اپنے والدین کے حقیقی بیٹے نہیں ہو۔ یہ معمولی سا جملہ اس کی پوری زندگی کا رخ بدل گیا۔

اوڈیپس حقیقت جاننے کے لیے اپالو کے اوریکل کے پاس گیا، مگر اسے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے حقیقی والدین کون ہیں۔ اسے صرف یہ خوفناک پیش گوئی سنائی گئی کہ وہ اپنے باپ کو قتل کرے گا اور اپنی ماں سے شادی کرے گا۔اوڈیپس نے سوچا کہ پولی بس اور میروپ ہی اس کے والدین ہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کبھی کورنتھ واپس نہیں جائے گا۔ وہ اپنے والدین کو قتل کرنے اور اپنی ماں سے شادی کرنے کے گناہ سے بچنا چاہتا تھا۔ وہ تقدیر سے بچنے کے لیے گھر سے نکل گیا۔ مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ جس گھر سے وہ بھاگ رہا ہے ، وہ اس کا حقیقی گھر تھا ہی نہیں۔ یہیں سے اس المیے کی اصل ابتدا ہوتی ہے ۔

سفر کے دوران ایک تنگ راستے پر اوڈیپس کا ایک شاہی قافلے سے سامنا ہوا۔ راستہ تنگ تھا، دونوں طرف سے گزرنے کی کوشش ہوئی، بات تلخی تک پہنچی اور پھر جھگڑے میں بدل گئی۔ اوڈیپس نے غصے میں ایک بوڑھے شخص اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔ وہ آگے بڑھ گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ جس بوڑھے شخص کو اس نے قتل کیا ہے وہ اس کا حقیقی باپ، تھیبس کا بادشاہ لائیئس تھا۔ پیش گوئی کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا تھا۔ بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا تھا، مگر بیٹا اس حقیقت سے بے خبر تھا۔

اوڈیپس آگے بڑھتے ہوئے تھیبس پہنچا۔ شہر ایک خوفناک مخلوق، اسفنکس، کے عذاب میں مبتلا تھا۔ اسفنکس مسافروں سے ایک پہیلی پوچھتی اور جو شخص جواب نہ دے پاتا، اسے قتل کر دیتی۔ اس نے اوڈیپس سے پوچھا۔ وہ کون سی مخلوق ہے جو صبح چار ٹانگوں پر، دوپہر دو ٹانگوں پر اور شام تین ٹانگوں پر چلتی ہے ؟ اوڈیپس نے جواب دیا۔ انسان۔۔ بچپن میں وہ چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہے ، جوانی میں دو ٹانگوں پر اور بڑھاپے میں لاٹھی کے سہارے تین پر۔ اسفنکس شکست کھا گئی۔ تھیبس آزاد ہو گیا۔ شہر کے لوگوں نے اوڈیپس کو اپنا نجات دہندہ سمجھا اور اسے بادشاہ بنا دیا۔ سابق بادشاہ لائیئس مر چکا تھا، اس لیے اوڈیپس نے اس کی بیوہ، ملکہ جوکاسٹا، سے شادی کر لی۔ تقدیر نے پیش گوئی کا دوسرا دروازہ بھی کھول دیا تھا۔ اوڈیپس نے اپنی ماں سے شادی کر لی تھی۔ مگر ابھی تک اسے حقیقت معلوم نہیں تھی۔

سال گزرتے گئے ۔ اوڈیپس ایک طاقتور بادشاہ بن گیا۔ اس کے بچے ہوئے ۔ زندگی بظاہر مکمل تھی۔ وہ جس مصیبت سے بچنا چاہتا تھا، وہ اس کے محل کے اندر آ چکی تھی، لیکن انسان کی سب سے بڑی عجیب بات یہی ہے کہ کبھی کبھی حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور ہم اسے دیکھنے کے باوجود پہچان نہیں پاتے ۔پھرتھیبس میں وبا پھیل گئی۔ لوگ مرنے لگے ۔ اوڈیپس نے وجہ معلوم کرنے کے لیے دوبارہ اپالو کے اوریکل سے رجوع کیا۔ جواب آیا کہ تھیبس اس وقت تک اس وبا سے نجات نہیں پا سکتا جب تک سابق بادشاہ لائیئس کے قاتل کو تلاش کرکے سزا نہ دی جائے ۔ اوڈیپس نے اعلان کیا کہ قاتل خواہ کوئی بھی ہو، اسے تلاش کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔ یہیں سے کہانی کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوتا ہے ۔ اوڈیپس قاتل کو تلاش کر رہا تھا۔ اور قاتل خود اوڈیپس تھا۔ اس نے نابینا پیغمبر ٹائریسیاس کو بلایا۔ ٹائریسیاس حقیقت جانتا تھا مگر اسے بیان کرنے سے گریز کرتا رہا۔ آخرکار اس نے اوڈیپس کو بتایا کہ لائیئس کا قاتل وہ خود ہے ۔ اوڈیپس کو یقین نہ آیا۔ اس نے اسے سازش سمجھا۔ بادشاہ کو اپنی طاقت پر یقین تھا، اپنی عقل پر یقین تھا، اپنی عدالت پر یقین تھا، مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ جس مقدمے کا وہ منصف بنا بیٹھا ہے ، اس کا ملزم خود وہی ہے ۔ تحقیقات آگے بڑھیں۔ پرانے چرواہے سامنے آئے ۔ پرانے واقعات دوبارہ جوڑے گئے ۔ پرانے زخموں کی گواہی سامنے آئی۔ اور پھر وہ شخص بھی مل گیا جسے برسوں پہلے لائیئس کے نومولود بچے کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ راز کھل گیا۔ وہ بچہ مرا نہیں تھا۔ وہ بچہ اوڈیپس تھا۔ اوڈیپس لائیئس کا بیٹا تھا۔ جوکاسٹا اس کی ماں تھی۔ اس نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا۔ اور اپنی ماں سے شادی کی تھی۔

وہ تقدیر سے بھاگتا رہا تھا، مگر ہر موڑ پر اسی کی طرف بڑھتا رہا۔ جوکاسٹا نے حقیقت جاننے کے بعد خودکشی کر لی۔ اوڈیپس نے اسے مردہ دیکھا تو اس کے لباس میں لگے ہوئے زیورات کی پنوں سے اپنی آنکھیں پھوڑ لیں۔ اب وہ اندھا تھا۔ مگر شاید پہلی مرتبہ حقیقت دیکھ رہا تھا۔
یہاں سوفوکلیز کا المیہ ایک گہرا فلسفیانہ سوال بن جاتا ہے ۔ زیادہ اندھا کون تھا ؟ وہ شخص جس کی آنکھیں تھیں مگر حقیقت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ یا وہ شخص جس کی آنکھیں نہیں رہیں مگر حقیقت سمجھ میں آ گئی؟

اوڈیپس کی داستان کا اصل کمال یہ نہیں کہ ایک پیش گوئی پوری ہو گئی۔ اصل کمال یہ ہے کہ اوڈیپس نے پیش گوئی سے بچنے کے لیے جو فیصلے کیے ، وہی فیصلے بالآخر اس پیش گوئی کی تکمیل کا ذریعہ بن گئے ۔اس نے سوچا کہ اگر وہ کورنتھ واپس نہیں جائے گا تو اپنے والدین کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مگر اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کورنتھ کے بادشاہ اس کے حقیقی والد نہیں تھے ۔

وہ اپنے حقیقی باپ سے راستے میں ملا۔ اس کو پتہ ہی نہیں تھا۔ کہ یہ میرا باپ ہے ۔ باتوں باتوں میں ہی تلخ کلامی پر طیش میں آکر اس نے اسے قتل کر دیا۔ پھر تھیبس پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی حقیقی ماں سے شادی کرلی۔یعنی جس راستے کو وہ تقدیر سے فرار کا راستہ سمجھ رہا تھا، وہی راستہ اسے تقدیر کے مرکز تک لے جا رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اوڈیپس صرف ایک یونانی بادشاہ کی کہانی نہیں۔ یہ انسان کی اس دائمی حالت کی کہانی ہے جس میں وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر مکمل علم کے بغیر۔ ہم مستقبل نہیں دیکھ سکتے ۔ ہم اپنے ماضی کا پورا سچ نہیں جانتے ۔ نہ ماضی کو بدل سکتے ہیں۔ ہم اپنے فیصلوں کے تمام نتائج سے واقف نہیں ہوتے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آج کا ایک معمولی فیصلہ دس سال بعد ہماری زندگی میں کیا شکل اختیار کرے گا۔

اسی لیے انسان ہمیشہ صرف تقدیر کا شکار نہیں ہوتا، کبھی کبھی اپنی لاعلمی کا بھی شکار ہوتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے معمار ہیں، مگر ہمارے پاس نقشہ مکمل نہیں ہوتا۔ ہم دیواریں اٹھاتے رہتے ہیں، دروازے بناتے رہتے ہیں، راستے منتخب کرتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ جس عمارت کو ہم اپنی مرضی سے تعمیر کر رہے تھے ، اس کی بنیاد کسی ایسے راز پر رکھی ہوئی تھی جس سے ہم خود بے خبر تھے ۔
شاید اسی لیے شیکسپیئر نے جولیس سیزر میں ایک اور زاویہ پیش کیا تھا۔ اے برٹس، قصور صرف ستاروں کا نہیں، ہمارے اپنے اندر بھی ہے ۔

لیکن اوڈیپس کی کہانی اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے ۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ انسان آزاد ہے یا مجبور۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان کے فیصلے نامکمل علم کے ساتھ کیے جائیں تو اس کی آزادی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور تقدیر کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے ؟

شاید زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان کو فیصلے ہمیشہ مستقبل دیکھے بغیر کرنا پڑتے ہیں۔ وہ آج فیصلہ کرتا ہے اور کل کا نتیجہ بھگتتا ہے ۔ وہ ایک دروازہ اس خیال سے کھولتا ہے کہ شاید اس کے پیچھے نجات ہو، مگر کبھی کبھی وہ دروازہ اسے اسی جگہ لے جاتا ہے جہاں سے وہ پوری زندگی بھاگتا رہا تھا۔اوڈیپس ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ انسان کے پاس اختیار نہیں۔ وہ ہمیں اس سے زیادہ خطرناک حقیقت بتاتا ہے ۔ انسان کے پاس اختیار تو ہوتا ہے ، مگر مکمل علم نہیں ہوتا۔ اور شاید اسی لیے انسان کی سب سے بڑی جنگ تقدیر سے نہیں، اپنے محدود علم کے ساتھ کیے گئے فیصلوں سے ہے ۔

اوڈیپس ساری زندگی تقدیر سے بھاگتا رہا۔ آخر میں معلوم ہوا کہ تقدیر کہیں باہر کھڑی نہیں تھی۔ وہ اس کے اپنے قدموں کے نیچے راستہ بن رہی تھی۔ وہ خود اس کے فیصلوں میں منزل بنا رہی تھی۔ فیصلے جو بھی ہوں۔ "تقدیر سے فرار "ممکن نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں