سال 2025 میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد نے عمرہ ادا کیا
شیئر کریں
پاکستانی زائرین دوسرے نمبر پر رہے، سعودی وژن 2030 کی سالانہ رپورٹ جاری
حج زائرین کی شرح 91 فیصد جبکہ عمرہ زائرین کی شرح 94 فیصد ریکارڈ کی گئی،سعودی وزارتِ حج و عمرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعودی وژن 2030 کے تحت جاری کیے جانے والے پلگرم ایکسپیرینس پروگرام (PEP) کی سالانہ رپورٹ 2025 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر سے ایک کروڑ 80 لاکھ افراد نے عمرے کی سعادت حاصل کی، جبکہ عمرہ ویزوں پر آنے والے زائرین میںمصر پہلے، پاکستان دوسرے اور انڈونیشیا تیسرے نمبر پر رہے۔
"عزت اور اثرات” کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ میں حج و عمرہ زائرین اور حرمین شریفین آنے والے دیگر افراد کو فراہم کی جانے والی سہولیات، خدمات اور انفراسٹرکچر میں ہونے والی نمایاں بہتری کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق پلگرم ایکسپیرینس پروگرام کا مقصد زائرین کے سفر کو روانگی کی منصوبہ بندی سے لے کر وطن واپسی تک زیادہ آسان، محفوظ، بابرکت اور یادگار بنانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران 60 سے زائد سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون سے 87 مختلف منصوبوں پر کامیابی سے عمل درآمد کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 کے مقابلے میں عمرہ زائرین کی تعداد میں 114 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ایک کروڑ 80 لاکھ عمرہ زائرین سعودی عرب پہنچے، جبکہ ایک کروڑ 60 لاکھ افراد نے مدینہ منورہ میں مسجد نبویۖ کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال بھر میں مجموعی طور پرایک کروڑ 50 لاکھ 30 ہزار ویزے جاری کیے گئے، جن میں 83 فیصد ویزے عمرے کی غرض سے جاری کیے گئے۔ عمرہ ویزوں پر آنے والے زائرین میںمصر پہلے، پاکستان دوسرے اور انڈونیشیا تیسرے نمبر پر رہے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق زائرین کے اطمینان کی شرح بھی غیر معمولی رہی، جہاں حج زائرین کی اطمینان کی شرح 91 فیصد جبکہ عمرہ زائرین کی اطمینان کی شرح 94 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو وژن 2030 کے مقررہ اہداف سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تاریخی اور مذہبی مقامات کی تعداد بڑھا کر 87 کر دی گئی، جہاں 2025 کے دوران 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد دورے کیے گئے تاکہ زائرین کو اسلامی تاریخ اور تہذیب سے مزید مؤثر انداز میں روشناس کرایا جا سکے۔
مزید برآں، گزشتہ سال ایک لاکھ 84 ہزار 569مرد و خواتین رضاکاروں نے حرمین شریفین آنے والے زائرین کی خدمت میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی سیاحتی درجہ بندی میں بھی نمایاں بہتری آئی، جہاں مکہ مکرمہ دنیا کا پانچواں اورمدینہ منورہ ساتواں بڑا شہر قرار پایا جہاں سب سے زیادہ بین الاقوامی زائرین اور سیاح پہنچے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی وژن 2030 کے تحت کیے گئے اقدامات نہ صرف زائرین کو معیاری سہولیات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں بلکہ حرمین شریفین کی خدمت کے حوالے سے مملکت سعودی عرب کے تاریخی اور مذہبی کردار کو بھی مزید مستحکم کر رہے ہیں۔


