میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میں نے کوئی غلط بات نہیں کی، مجھے سرنڈر ہونے کیلئے پیدا ہی نہیں کیاگیا، مولانا فضل الرحمان

میں نے کوئی غلط بات نہیں کی، مجھے سرنڈر ہونے کیلئے پیدا ہی نہیں کیاگیا، مولانا فضل الرحمان

جرات ڈیسک
پیر, ۲۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

 

میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کررہا ہوں، تو آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کرکے میری کردار کشی کرکے سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمان سرنڈر کرجائے گا، سربراہ جے یو آئی

جس افسر کے آفس سے میرے خلاف پروپیگنڈے کیے گئے وہ معافی مانگے،تم نے علماء کو شہید کیا، عدم اعتماد کی فضاء تم نے پیدا کی، ہم لشکر کیوں بنائیں؟وکلاء کنونشن سے خطاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی، میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کررہا ہوں، تو آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کرکے میری کردار کشی کرکے سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمان سرنڈر کرجائے گا، تو یاد رکھو مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کیلئے پیدا ہی نہیں کیا،

میں نے ہمیشہ ذمہ داریوں کی بات کی ہے، جس افسر کے آفس سے میرے خلاف پروپیگنڈے کیے گئے وہ معافی مانگے، تم نے اپنے شہداء کی اور ان کی فیملی کی توہین کی ہے، میرے شہداء کی توہین کی ہے۔

اسلام آباد میں جمیعت لائر فورم کے زیرِ اہتمام وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کا سپاہی قربانی دیتا ہے تو وہ اسی لیے بھرتی ہوا ہے، چاروں صوبوں میں جاکر بات کروں گا، تم نے میرے علماء کو شہید کیا، میرے استاد مولانا حسن جان شہید ہوئے، میں نے باجوڑ میں ایک سو جنازے اٹھائے، روزانہ دو تین جنازے اٹھاتا ہوں، کیا تم کبھی میرے جنازے پر روئے ہو، میں تو آپ کے ہر جنازے پر رویا ہوں، عدم اعتماد کی فضاء تم نے پیدا کی، ہم نے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، کبھی نہیں چاہا کہ کوئی بات کریں اور وہ آئین وقانون سے تجاوز ہو۔

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہم آئین اور قانون کے اندر اپنے نظریے کے پرچار کا حق رکھتے ہیں، جو میں نے کہنا تھا، میں سمجھ رہا تھا کہ کچھ کہوں گا اور آپ کی تائید حاصل کروں گا، ہم اس ملک میں فعال سیاست کررہے ہیں، ہم نے انتہاء پسندی کی سیاست نہیں کی، اگر حق خود ارادی مانگا ہے تو عوام کی تائید کے ساتھ مانگا، آج سیاست پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنا دیا گیا ہے، ان حکمرانوں نے اپنے رویوں اور خوشامد کے ساتھ عوام، پارلیمنٹ، آئین کو کمزور کیا اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا، اپنے حق کا مطالبہ خوشامد نہیں ہے، ہم نے طویل جدوجہد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا ملک محصور ہو کر رہ گیا ہے اور ملک کے اندر اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، مقتدر حلقوں کی ناراضگی اس بات پر ہے کہ ہم نے یہ سوال اٹھایا کہ ہم لشکر کیوں بنائیں؟ مشرقی پاکستان میں عوام سے کہا گیا کہ لشکر بناؤ، جس کے نتیجے میں البدر اور الشمس بنے، جنہوں نے فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی، لیکن وہ دشمنی آج بھی موجود ہے، کیا اب تم ہمارے لیے نئے دشمن بنا رہے ہو؟

۔سربراہ جے یو آئی ف نے مزید کہا کہ یہ صوبائی حکومت کی پولیس کو تو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، بنوں میں کتنی بار چھاؤنیوں پر حملے ہوئے، وہاں پولیس نے اعلان کیا کہ اب ہم خود لڑیں گے لیکن فوج کے ساتھ مل کر نہیں لڑیں گے، بنوں کی پولیس اب اپنے افسر کی بات بھی نہیں مان رہی، یہی کچھ اور یہی حال لکی مروت میں بھی ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹانک کی ایک مسجد میں پولیس اہلکاروں نے باقاعدہ قرآن پاک پر حلف اٹھایا کہ ہمارے جنازے میں فوج شریک نہیں ہوگی، کیا یہ حالات میں نے بنائے ہیں؟ عوام اور حکمران میرے مضمون کو سمجھیں، میں نے صرف دائرہ اختیار کا احساس دلایا ہے، اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے اس پاک خون کو استعمال کر رہا ہے، ہم تو ہمیشہ عافیت مانگتے ہیں اور دشمن کا سامنا کرنے کی خواہش نہیں کرتے، لیکن اصول یہی ہے کہ جب حالات سامنے آ جائیں تو پھر پیچھے ہٹنے کے بجائے ڈٹ جاؤ، گلگت میں میرے حلقے کے بیلٹ بکس دریا سے ملے، اب ان کو کون گنے گا؟۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ایک مولوی صاحب رات کو میرے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر مجھے میرے جلسے کی کامیابی کی مبارکباد دے رہے تھے اور اگلے ہی دن وہ بیچارے رو رہے تھے،

میرا یہ کھلا دعویٰ ہے کہ تم نے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی، کیا اس ملک میں ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے ہی حکومت بنے گی؟ یہ لوگ میرے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مجھے بلوچستان میں حکومت کے اندر شمولیت کی دعوت دی گئی جسے ہم نے صاف مسترد کردیا، اسی طرح خیبر پختونخواہ کے بارے میں نے ان سے کہا کیا تم لوٹوں کے ذریعے میری حکومت بنانا چاہتے ہو؟ ہم ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں