طاقت انسان کو نگل لیتی ہے!
شیئر کریں
طاقت کی کوئی روح نہیں ہوتی، کوئی ضمیر نہیں ہوتا، کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ وہ نہ محبت جانتی ہے، نہ رحم، نہ وفاداری۔ طاقت صرف ایک چیز جانتی
ہے: اپنا وجود۔ اور اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے وہ ہر مقدس چیز کو ناپاک کر سکتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ وہ طاقت کو استعمال کرتا ہے، مگر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ یہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت ہمیشہ انسان کو استعمال کرتی ہے۔ بادشاہ تخت پر نہیں بیٹھتا، تخت بادشاہ پر بیٹھ جاتا ہے۔ تاج سر پر نہیں رکھا جاتا، تاج آہستہ آہستہ دماغ پر قبضہ کر لیتا ہے۔طاقت کی سوچ بہت سادہ ہے: "جو میرے ساتھ نہیں، وہ میرے خلاف ہے۔” اس کی لغت میں اختلاف جرم ہے، سوال بغاوت ہے، آزادی خطرہ ہے، اور سچ سب سے بڑا دشمن۔اسی لیے فرعون نے خود کو خدا کہا۔ نمرود نے آسمان سے جنگ کا اعلان کیا۔ رومی شہنشاہوں نے انسانوں کو جانوروں کے سامنے پھینکا۔ چنگیز خان نے شہروں کو راکھ میں بدلا۔ ہٹلر نے نسلوں کو بھٹیوں میں جلایا۔ اسٹالن نے اپنے ہی لوگوں کو قبرستانوں میں بدل دیا۔ ماؤ کے تجربات نے کروڑوں زندگیاں نگل لیں۔ پول پاٹ نے تعلیم یافتہ انسان کو جرم بنا دیا۔ ہر دور میں نام بدلتے رہے، مگر طاقت کا دماغ نہیں بدلا۔طاقت کبھی قتل کو قتل نہیں کہتی، وہ اسے "امن”، "قومی سلامتی”، "ریاستی مفاد”، "نظم و ضبط”، "ترقی” یا "نجات” کا نام دیتی ہے۔
طاقت ہمیشہ اپنے جرائم کے لیے خوبصورت الفاظ ایجاد کرتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ تلوار سے زیادہ خطرناک زبان ہوتی ہے۔طاقت کو خون سے نفرت نہیں، خاموشی سے محبت ہے۔ اسے لاشوں سے مسئلہ نہیں، گواہوں سے مسئلہ ہوتا ہے۔ وہ صحافی سے ڈرتی ہے، شاعر سے ڈرتی ہے، فلسفی سے ڈرتی ہے، استاد سے ڈرتی ہے، کیونکہ یہ سب انسان کو سوچنا سکھاتے ہیں، اور سوچنے والا انسان کبھی مکمل غلام نہیں بنتا۔ طاقت کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ایک سلطنت مل جائے تو دوسری چاہیے، ایک خزانہ مل جائے تو دوسرا چاہیے، ایک قوم جھک جائے تو دوسری کو جھکانا ضروری ہو جاتا ہے۔ طاقت سمندر کا وہ پانی ہے جسے جتنا پیو، پیاس اتنی بڑھتی جاتی ہے۔انسانی تاریخ دراصل طاقت کے جرائم کی تاریخ ہے۔ اہرامِ مصر ہوں یا دیوارِ چین، کولوسیم ہو یا نوآبادیاتی سلطنتیں، افریقہ کی غلام منڈیاں ہوں یا ایشیا کی لوٹی ہوئی دولت، دو عالمی جنگیں ہوں یا ایٹم بم، ہر عظیم تعمیر کے پیچھے کہیں نہ کہیں طاقت کا خوف، جبر یا خون ضرور بہہ رہا ہے۔طاقت کبھی مطمئن نہیں ہوتی، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچی ہے، کوئی دوسرا بھی اسی راستے سے اسے گرا سکتا ہے۔ اسی خوف میں وہ ہر طرف دشمن تلاش کرتی ہے، حتیٰ کہ آخرکار اپنے دوستوں سے بھی ڈرنے لگتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے بادشاہ اپنی رعایا سے نہیں، اپنے درباریوں کے ہاتھوں مارے گئے۔طاقت کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ
وہ دنیا کو انسانوں کی بستی نہیں، شطرنج کا بورڈ سمجھتی ہے۔ اس کے لیے سپاہی، مزدور، کسان، بچے، عورتیں، بوڑھے، سب محض مہرے ہیں۔
مہرے مر جائیں تو کھیل جاری رہتا ہے، کیونکہ طاقت کو انسان نہیں، فتح عزیز ہوتی ہے۔مگر تاریخ کا سب سے بے رحم فیصلہ یہ ہے کہ طاقت کبھی
جیتتی نہیں، صرف کچھ دیر کے لیے غالب آتی ہے۔ فرعون کے محلات آج کھنڈرات ہیں، قیصر کی سلطنت مٹی میں دفن ہے، ہٹلر کی ہزار سالہ
سلطنت بارہ برس بھی نہ چل سکی، سوویت یونین ٹوٹ گیا، برطانوی سلطنت سکڑ گئی، اور ہر وہ طاقت جو خود کو ابدی سمجھتی تھی، وقت نے اسے عجائب
گھر کی ایک چیز بنا دیا۔طاقت کی سب سے بڑی شکست جنگ میں نہیں ہوتی، بلکہ اس لمحے ہوتی ہے جب وہ یہ یقین کر بیٹھتی ہے کہ اب اسے
کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ اسی لمحے اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔طاقت کا انجام ہمیشہ ایک جیسا ہے: تخت بچ جاتے ہیں، مگر تخت نشین بدل
جاتے ہیں؛ محل کھڑے رہتے ہیں، مگر ان کے مالک مٹی ہو جاتے ہیں۔ آخرکار قبرستان ہر سلطنت سے بڑا ثابت ہوتا ہے، کیونکہ زمین نے آج
تک کسی طاقتور کو اپنے قانون سے مستثنیٰ نہیں کیا۔
فریڈرک نطشے نے لکھا تھا: "ہر وہ شخص جو طاقت حاصل کر لیتا ہے، آخرکار یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ حقیقت وہی ہے جو وہ کہتا ہے۔” نطشے
کے نزدیک طاقت صرف حکومت کا نام نہیں، بلکہ انسان کی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جو اپنے وجود کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔صدیوں پہلے
ابن خلدون نے یہی بات ایک اور زبان میں کہی تھی۔ اس نے لکھا کہ ریاستیں باہر سے کم اور اندر سے زیادہ مرتی ہیں۔ جب اقتدار خدمت سے
نکل کر غلبے میں بدل جائے، جب ریاست قبیلے، خاندان یا طبقے کی جاگیر بن جائے، جب طاقت قانون سے بلند ہو جائے، تو زوال شروع ہو
جاتا ہے، اگرچہ سلطنت اپنی ظاہری شان و شوکت برقرار رکھے۔اگر نطشے انسانی نفس کا فلسفی تھا تو ابن خلدون تاریخ کا طبیب تھا۔ ایک نے
طاقت کی نفسیات کو سمجھا، دوسرے نے طاقت کی موت کو۔ ان دونوں کو ساتھ رکھ کر اگر پاکستان کی تاریخ پڑھی جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے
آتی ہے: پاکستان کی تاریخ جمہوریت اور آمریت کی نہیں، طاقت کی مسلسل ہجرت کی تاریخ ہے۔ طاقت صرف ہاتھ بدلتی رہی، مگر اس کی
نفسیات نہیں بدلی۔1947ء میں ایک ریاست وجود میں آئی۔ خواب یہ تھا کہ یہاں قانون حکمران سے بڑا ہوگا، ادارے افراد سے بڑے
ہوں گے، اور ریاست عوام کی امانت ہوگی۔ لیکن تاریخ کا پہلا المیہ یہ تھا کہ ریاست ابھی اپنے پاؤں پر کھڑی بھی نہ ہو سکی تھی کہ طاقت نے اس
کے کندھوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ پاکستان کی بدقسمتی صرف یہ نہیں تھی کہ اس نے اپنے عظیم رہنما جلد کھو دیے، بلکہ یہ بھی تھی کہ ان کے بعد
پیدا ہونے والا خلا اداروں نے نہیں، طاقت کے مختلف مراکز نے بھرنا شروع کر دیا۔یہاں سے پاکستان کی اصل تاریخ شروع ہوتی ہے۔ایک
ایسی تاریخ جہاں ہر بحران کے بعد آئین نہیں، طاقت مضبوط ہوئی؛ ہر حادثے کے بعد ادارے نہیں، افراد طاقتور ہوئے؛ ہر نعرہ عوام کے نام پر
لگا، مگر فائدہ طاقت کے مراکز کو پہنچا۔ کبھی وردی طاقت کی علامت بنی، کبھی سیاسی خاندان، کبھی بیوروکریسی، کبھی سرمایہ، کبھی مذہبی بیانیہ، کبھی
احتساب، کبھی انقلاب، اور کبھی تبدیلی۔ لیکن ہر نئے چہرے کے پیچھے طاقت کا وہی پرانا چہرہ کھڑا رہا جسے ابن خلدون نے "عصبیت” اور نطشے
نے "ارادہ قوت” کہا تھا۔1958ء صرف ایک مارشل لا نہیں تھا؛ وہ اس سوچ کا اعلان تھا کہ ریاست کو عوام کی بجائے طاقت کے ذریعے
زیادہ مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ 1971ء صرف مشرقی پاکستان کی علیحدگی نہیں تھی؛ وہ طاقت کے غرور کی تاریخی شکست تھی۔ جب
طاقت نے یہ سمجھا کہ بندوق شناخت، زبان اور سیاسی حق کو ہمیشہ خاموش رکھ سکتی ہے، تب تاریخ نے ثابت کیا کہ خوف سے زمین فتح کی جا سکتی
ہے، دل نہیں۔1977ء آیا تو طاقت نے پھر لباس بدلا۔ 1988ء کے بعد جمہوریت لوٹی، مگر طاقت کی نفسیات واپس نہ آئی۔ منتخب حکومتیں
بدلتی رہیں، لیکن ریاست کے اصل سوال وہی رہے: فیصلہ کون کرتا ہے؟ اختیار کہاں مرتکز ہے؟ اور قانون کس پر نافذ ہوتا ہے؟پاکستان کی تاریخ
کا سب سے بڑا سانحہ غربت نہیں، قرض نہیں، مہنگائی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہاں اکثر طاقت نے خود کو قانون سے بڑا سمجھا، اور قانون اکثر طاقت
سے چھوٹا ثابت ہوا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ریاست آہستہ آہستہ عوام سے دور اور اقتدار کے مراکز کے قریب ہونے لگتی ہے۔
طاقت کا سب سے بڑا کمال یہ نہیں کہ وہ حکومت کرتی ہے؛ اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے ہر دور کو ناگزیر ثابت کر دیتی ہے۔ ہر
دور میں قوم کو بتایا گیا کہ یہی آخری راستہ ہے، یہی قومی مفاد ہے، یہی استحکام ہے، یہی نجات ہے۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ مختلف نکلا۔ حکومتیں
بدل گئیں، نظریات بدل گئے، نعرے بدل گئے، مگر بحران اپنی جگہ موجود رہا، کیونکہ مسئلہ چہروں کا نہیں، طاقت کی نفسیات کا تھا۔پاکستان کی
تاریخ کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید ابن خلدون مسکرا کر کہے: "یہ ریاست دشمنوں سے کم، طاقت کی بے لگام خواہش سے زیادہ زخمی
ہوئی۔” اور نطشے شاید یہ اضافہ کرے: "جہاں طاقت خود کو سچ سمجھنے لگے، وہاں سچ سب سے پہلے قتل ہوتا ہے۔”
٭٭٭


