میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کیس، ڈیانا کا دفعہ 164کا بیان سامنے آگیا

غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کیس، ڈیانا کا دفعہ 164کا بیان سامنے آگیا

جرات ڈیسک
منگل, ۲۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آگئی

مسکان کے ساتھ بحریہ ٹاؤن چلی گئی،رات 2 بجے احمد، محسن نامی افراد کے ساتھ اپارٹمنٹ گئی

مزید دو افراد آئے، ایک کا نام علی زین، دوسرے کا نام معلوم نہیں، نمرہ اور مسکان وہا ں سے چلی گئیں

محسن، احمد، علی زین نے مبینہ زیادتی کی، بعد ازاں اسے گاڑی میں بٹھایا گیا، نقدی، موبائل فون بھی لے لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مبینہ زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق تفتیشی افسر نے غیر ملکی خاتون ڈیانا کو عدالت کے روبرو پیش کیا جہاں عدالت نے اس سے نام اور بیان ریکارڈ کرانے کی وجوہات سے متعلق سوالات کیے۔ عدالت نے ڈیانا سے استفسار کیا کہ آپ کا نام کیا ہے؟  ڈیانا نے جواب دیا کہ میرا نام ڈیانا ہے، عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا اسے معلوم ہے کہ وہ عدالت کے سامنے کیوں پیش ہوئی ہے جس پر ڈیانا نے جواب دیا کہ جی ہاں، اسے معلوم ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈیانا نے عدالت کے روبرو اپنا بیان دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ عدالت نے اسے آگاہ کیا کہ ریکارڈ کرایا جانے والا بیان بعد ازاں اس کے خلاف بطور ثبوت بھی استعمال ہو سکتا ہے تاہم آگاہ کیے جانے کے باوجود ڈیانا نے بیان ریکارڈ کرانے پر اصرار کیا۔ عدالت نے اطمینان کیا کہ ڈیانا کسی دباؤ، دھمکی یا ترغیب کے بغیر رضاکارانہ طور پر بیان ریکارڈ کرا رہی ہے جس کے بعد اس کا بیان دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیا گیا۔ ڈیانا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ 13ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آگئی، اس کا منصوبہ اسکردو جانے کا تھا تاہم وہ اکیلی تھی اس لیے اس نے نمرہ اور مسکان کو پیغام بھیجا کہ لاہور میں ملاقات کرتے ہیں۔ ڈیانا کے مطابق رات تقریباً 11 بجے وہ اکیلی ایک کیفے میں گئی، جہاں مسکان اس کے پاس آئی، اس نے مسکان سے کھانا کھانے اور کافی پینے کا کہا، تاہم مسکان نے بتایا کہ اس کی دوست نمرہ انتظار کر رہی ہے، ڈیانا کے مطابق وہ مسکان کے ساتھ بحریہ ٹائون چلی گئی۔ بیان کے مطابق رات تقریباً 2 بجے سفید رنگ کی ایک گاڑی وہاں آئی، جس میں احمد اور محسن نامی دو افراد سوار تھے، ڈیانا نے بتایا کہ وہ ان کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں گئی، جہاں کھانا کھایا، بعد ازاں وہاں مزید دو افراد آئے، جن میں ایک کا نام علی زین تھا جبکہ دوسرے کا نام اسے معلوم نہیں۔ ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ نمرہ اور محسن نے الگ کمرے میں بات کی، جبکہ مسکان بھی ان کے پاس چلی گئی، نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور اسے بتایا کہ یہ رقم پارٹی کے لیے ہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اس نے کہا کہ اسے پیسوں اور شراب کی ضرورت نہیں، محسن نے اسے چھونے کی کوشش کی اور اسے ایک الگ کمرے میں بند کردیا۔ ڈیانا نے بتایا کہ اس نے نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ دونوں جا چکی ہیں، اس نے جانے کی اجازت مانگی تو مبینہ طور پر اسے بتایا گیا کہ وہ نہیں جا سکتی کیونکہ اس کی دوست پیسے لے گئی ہے۔ بیان کے مطابق ڈیانا نے کہا کہ وہ انہیں 30 ہزار روپے دے دیتی ہے تاہم اس کے الزام کے مطابق علی زین نے اسے دھمکی دی اور بلیک میل کیا، ڈیانا کے مطابق اسے کہا گیا کہ پہلے ان کے ساتھ شراب پیو، اس کے بعد اسے جانے دیا جائے گا۔ ڈیانا نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق بعد ازاں اسے گاڑی میں بٹھایا گیا، محسن گاڑی چلا رہا تھا جبکہ احمد اور علی زین بھی گاڑی میں موجود تھے۔ ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بیگ میں دو لاکھ پاکستانی روپے، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل فون موجود تھا، بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ملزمان نے اس کا بیگ اس کے حوالے نہیں کیا۔عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق ڈیانا نے کہا کہ ملزمان نے بیگ واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اس سے پولیس میں شکایت نہ کرنے کا کہا گیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ واقعات متاثرہ خاتون کی جانب سے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان میں عائد کیے گئے الزامات پر مبنی ہیں، ان الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین شواہد اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں