آج پاکستان میں ہر طرف تھکن نظر آتی ہے!
شیئر کریں
انسانی تاریخ صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی تاریخ نہیں۔ اصل تاریخ اُن ذہنوں کی تاریخ ہے جنہوں نے اندھیروں میں
کھڑے ہو کر سوچنے کی جرأت کی۔ ایسے لوگ جن کے پاس نہ فوج تھی، نہ خزانہ، نہ اقتدارمگر اُن کے پاس ایک سوال تھا۔ اور بعض اوقات
ایک سوال پوری دنیا کی ہزار سالہ خاموشی توڑ دیتا ہے۔ تہذیبوں کو اصل میں تلواروں نے نہیں، خیالات نے بنایا ہے۔ دنیا کو بدلنے والے اکثر لوگ محلوں میں نہیں بلکہ تنہائی، جلاوطنی، غربت، قید، تضحیک اور مسلسل اذیت میں پیدا ہوئے۔ وہ انسان کے جسم سے نہیں بلکہ اُس کے شعور سے لڑتے تھے۔
قبل از مسیح اگر ہم نگاہ ڈالیں تو سب سے پہلے ہمیں یونان کی گلیوں میں ایک بوڑھا آدمی نظر آتا ہے جس کا نام سقراط تھا۔ اُس کے پاس
نہ کوئی کتاب تھی مگر اُس نے انسان کو پہلی بار یہ سکھایا کہ ‘‘اندھی تقلید سے بڑا جرم کوئی نہیں’’۔ سقراط نے سوال پوچھنے کا فن ایجاد کیا۔ اُس نے
نوجوانوں کو سکھایا کہ ہر طاقتور سچ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ ریاست اُس سے خوفزدہ ہو گئی۔ آخرکار اسے زہر کا پیالہ پلا دیا گیا۔ مگر عجیب بات
یہ ہے کہ زہر سقراط کے جسم کو مار سکا، اُس کے سوالات کو نہیں۔ آج پوری جدید فلسفیانہ روایت کہیں نہ کہیں سقراط کے اُس جملے سے نکلتی ہے
کہ ‘‘غیر آزمودہ زندگی جینے کے قابل نہیں ہوتی’’۔پھر افلاطون آیا۔ اُس نے پہلی بار ریاست، انصاف، اخلاقیات اور مثالی معاشرے کا تصور پیش کیا۔ اُس کی کتاب ‘‘ریپبلک’’ صرف فلسفہ نہیں، اقتدار کے چہرے سے نقاب اتارنے کی کوشش تھی۔ اُس نے سمجھ لیا تھا کہ اگر جاہل لوگ حکمران بن جائیں تو ریاستیں تباہ ہو جاتی ہیں۔اس کے بعد ارسطو آیا، جس نے انسانی علم کو منظم کیا۔ منطق، حیاتیات، اخلاقیات، سیاست، طبیعات شاید ہی کوئی میدان ہو جہاں ارسطو نے بنیاد نہ رکھی ہو۔ اُس نے انسان کو بتایا کہ علم محض خواب نہیں بلکہ مشاہدہ، دلیل اور تحقیق کا نام ہے۔
مشرق میں کنفیوشس نے انسان کو اخلاق، نظم اور سماجی ذمہ داری کا سبق دیا۔ چین کی تہذیب ہزاروں سال تک اُس کی فکر پر کھڑی رہی۔ جبکہ گوتم بدھ نے انسان کے اندر موجود دکھ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اُس نے بتایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ باہر نہیں، انسان کے اندر چلتی ہے۔ بدھ نے روحانی نفسیات کی وہ بنیاد رکھی جسے آج جدید نفسیات بھی نئے انداز میں دریافت کر رہی ہے۔پھر وقت آگے بڑھا اور دنیا اندھیروں میں ڈوب گئی۔ مذہبی جبر، بادشاہت اور خوف نے انسان کی سوچ کو قید کر لیا۔پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ آئی۔ انسان نے پہلی بار آسمان کی طرف دیکھ کر سوال کیا کہ کیا واقعی زمین کائنات کا مرکز ہے؟ نکولس کوپرنیکس نے اعلان کیا کہ زمین نہیں بلکہ سورج مرکز ہے۔ یہ صرف ایک سائنسی نظریہ نہیں تھا، یہ مذہبی اقتدار کے خلاف بغاوت تھی۔ پھر گیلیلیو گیلیلی آیا، جس نے دوربین اٹھا کر آسمان کو دیکھا اور پوری دنیا کے عقائد ہلا دیے۔ چرچ نے اُسے خاموش کر دیا، مگر حقیقت کو قید نہ کر سکا۔پھر آئزک نیوٹن آیا۔ اُس نے کائنات کو پہلی بار قوانین کی زبان میں سمجھایا۔ کششِ ثقل کا قانون صرف سیب گرنے کی کہانی نہیں تھا؛ یہ اعلان تھا کہ کائنات اتفاق پر نہیں بلکہ اصولوں پر چلتی ہے۔ نیوٹن نے انسان کو بتایا کہ عقل کے ذریعے فطرت کو سمجھا جا سکتا ہے۔بعد میں چارلس ڈارون نے انسانی غرور توڑ دیا۔
اُس نے کہا کہ انسان اچانک آسمان سے نہیں اترا بلکہ ارتقا کا حصہ ہے۔ دنیا ہل گئی۔ انسان کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ کائنات کا بادشاہ نہیں بلکہ فطرت کے ایک طویل سفر کی پیداوار ہے۔پھر کارل مارکس آیا۔ اُس نے سرمایہ، طاقت اور طبقاتی ظلم کا تجزیہ کیا۔ اُس نے بتایا کہ تاریخ صرف اخلاقیات سے نہیں بلکہ معاشی طاقت سے بھی بنتی ہے۔ روسی انقلاب سے لے کر دنیا کی مزدور تحریکوں تک مارکس کے خیالات نے کروڑوں انسانوں کی سیاست بدل دی۔پھر فریڈرک نطشے آیا۔ اُس نے انسانی منافقت، مذہبی جمود اور اخلاقی کمزوریوں پر حملہ کیا۔ نطشے نے کہا کہ اکثر لوگ سچ نہیں بلکہ تسلی چاہتے ہیں۔ اُس نے انسان کو اپنی ذات سے لڑنے کا چیلنج دیا۔ اُس کی تحریروں نے جدید ادب، نفسیات اور فلسفے کو ہلا کر رکھ دیا۔پھر سگمنڈ فرائیڈ آیا، جس نے انسان کے اندر چھپے اندھیروں کو بے نقاب کیا۔ اُس نے کہا کہ انسان خود اپنے شعور کا مالک بھی نہیں۔ اُس کے اندر خواہشات، خوف اور لاشعور کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔
جدید نفسیات، ادب اور فلم سب فرائیڈ کے اثر سے گزرے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔اور پھر بیسویں صدی میں البرٹ آئن اسٹائن نمودار ہوا۔ اُس نے وقت، خلا اور حقیقت کے تصورات بدل دیے۔ نظریہ اضافیت نے انسان کو بتایا کہ کائنات ہماری سادہ عقل سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایٹم بم سے لے کر جدید خلائی سائنس تک، دنیا آئن اسٹائن کے تصورات کے بغیر ناقابلِ تصور ہے۔مگر دنیا صرف سائنسدانوں نے نہیں بدلی۔ مہاتما گاندھی نے سامراج کے خلاف عدم تشدد کو ہتھیار بنایا۔ نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کے خلاف ستائیس سال قید کاٹی۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے سیاہ فام انسان کے خواب کو آواز دی۔ ان لوگوں نے دنیا کو یہ سمجھایا کہ بعض اوقات ایک کمزور انسان بھی پوری ظالم ریاست سے بڑا ہو جاتا ہے۔پھر ٹیکنالوجی کا دور آیا۔ ایلن ٹیورنگ نے کمپیوٹر سوچ کی بنیاد رکھی۔ اسٹیو جابز نے ٹیکنالوجی کو انسان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا۔ ٹم برنرز لی نے انٹرنیٹ کو عوام تک پہنچایا۔ آج دنیا ایک اسکرین میں سمٹ چکی ہے، اور یہ چند ذہنوں کی صدیوں پر پھیلی ہوئی فکری محنت کا نتیجہ ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو ہمیشہ اُن لوگوں نے بدلا جو اپنے وقت میں پاگل، خطرناک، گستاخ یا ناممکن خواب دیکھنے والے سمجھے گئے۔ ہر عظیم ذہن نے اپنے دور کی ‘‘عام عقل’’ کو چیلنج کیا۔ سقراط نے سوال اٹھایا، گیلیلیو نے آسمان دیکھا، مارکس نے سرمایہ کو سمجھا، فرائیڈ نے انسان کے باطن میں جھانکا، آئن اسٹائن نے وقت کو توڑا۔اور شاید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دنیا ہمیشہ اکثریت نہیں بدلتی، چند بے چین ذہن بدلتے ہیں۔ وہ لوگ جو ہجوم سے مختلف سوچنے کی سزا برداشت کر لیتے ہیں۔ کیونکہ تہذیبیں طاقت سے قائم رہ سکتی ہیں، مگر آگے صرف خیال بڑھاتا ہے۔
دنیا کی ہر عظیم تہذیب اُس دن مرنا شروع ہوتی ہے جب وہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتی ہے۔ جب معاشرے میں کتاب کی جگہ شور، تحقیق کی جگہ افواہ، دلیل کی جگہ نفرت اور شعور کی جگہ اندھی تقلید لے لے تو پھر زوال صرف معیشت کا نہیں ہوتا، پورا انسان اندر سے ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ یہاں ریاستیں بنائی گئیں، حکومتیں بدلیں، نعرے لگے، انقلابوں کے دعوے ہوئے، مگر علم کبھی قومی ترجیح نہ بن سکا۔ یہاں سڑکیں بنیں مگر لائبریریاں ویران رہیں، طاقت کے مراکز مضبوط ہوئے مگر یونیورسٹیاں کمزور، مذہبی شور بڑھتا گیا مگر فکری گہرائی ختم ہوتی گئی۔دنیا کی کامیاب قوموں نے اپنی بنیاد علم، تحقیق اور سوال پر رکھی۔ جاپان نے جنگ کے بعد کتاب کو ہتھیار بنایا۔ جرمنی نے تباہی کے بعد یونیورسٹیوں کو دوبارہ زندہ کیا۔
جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ مگر پاکستان میں دہائیوں تک قوم کو یہ سکھایا جاتا رہا کہ صرف جذبات کافی ہیں، صرف نعروں سے ترقی آ جائے گی، صرف ماضی کی عظمت کے قصے مستقبل بنا دیں گے۔پاکستان میں سب سے زیادہ تباہی شاید سوچ کی ہوئی۔ یہاں سوال پوچھنے والا اکثر مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والا تنہا رہ جاتا ہے۔ کتاب پڑھنے والا غیر ضروری انسان بن جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں تحقیق کم اور ڈگریوں کی تجارت زیادہ ہونے لگی۔ نوجوانوں کو تخلیق کار بنانے کے بجائے صرف نوکری ڈھونڈنے والی مشینیں بنا دیا گیا۔ جب معاشرہ اپنے نوجوان ذہنوں کو آزاد سوچنے کی اجازت نہیں دیتا تو پھر وہی نوجوان یا تو مایوسی میں ڈوب جاتے ہیں یا شدت پسندی، نفرت اور اندھی تقلید کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سب سے خطرناک تباہی یہ ہوئی کہ یہاں انسان کی روح سکڑ گئی۔ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جہاں دولت کردار سے بڑی ہو گئی، طاقت علم سے بڑی، تعلق قابلیت سے بڑا، اور شور دلیل سے زیادہ اہم ہو گیا۔ یہاں ایک استاد غریب ہو سکتا ہے مگر ایک کرپٹ طاقتور شخص عزت دار سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومیں اخلاقی طور پر مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ جس معاشرے میں عالم بے عزت اور جاہل طاقتور ہو جائے، وہاں زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید سب سے کم سرمایہ علم پر لگایا گیا۔ لائبریریاں ختم ہوتی گئیں، تحقیقی ادارے کمزور ہوتے گئے، سائنس اور فلسفہ غیر اہم سمجھے جانے لگے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوم مسلسل دوسروں کے نظریات، ٹیکنالوجی، معیشت اور سیاسی ماڈلز کی محتاج بنتی گئی۔ جو قوم خود سوچنا چھوڑ دے وہ ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں پر زندہ رہتی ہے۔آج پاکستان میں ہر طرف ایک عجیب تھکن نظر آتی ہے۔ نوجوان بے یقینی کا شکار ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ گفتگو میں برداشت کم اور غصہ زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تو دیں مگر شعور نہیں دیا۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ہر طرف رائے موجود ہے مگر تحقیق ناپید۔ یہی وجہ ہے کہ پورا سماج ذہنی انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔یہ صرف معاشی بحران نہیں، یہ فکری بحران ہے۔ کیونکہ قومیں صرف مہنگائی سے تباہ نہیں ہوتیں، وہ اُس وقت تباہ ہوتی ہیں جب اُن کے لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب خواب مر جائیں، جب سوال ختم ہو جائیں، جب نوجوانوں کو صرف زندہ رہنے کی فکر ہو اور جینے کی نہیں، تب تاریخ اندر ہی اندر گلنا شروع ہو جاتی ہے۔پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں وسائل کم ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں شعور کمزور کر دیا گیا۔ یہاں انسان کو سوچنے سے زیادہ ماننے کی تربیت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے بہترین ذہن یا تو خاموش کر دیے، یا ملک سے باہر دھکیل دیے، یا مایوسی میں دفن کر دیے۔مگر تاریخ کا ایک اصول ہمیشہ زندہ رہتا ہے، کوئی بھی قوم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں رہتی اگر اُس کے اندر چند لوگ اب بھی سوال پوچھنے، سچ بولنے اور علم پیدا کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ زوال کا علاج صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں، شعور کی بیداری ہے۔ کیونکہ آخرکار قومیں ایٹم بموں سے نہیں، کتابوں سے بنتی ہیں۔
٭٭٭


