میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کہیں مسماری، کہیں چشم پوشی اتھارٹی کی پالیسی پر اعتراضات

سندھ بلڈنگ، کہیں مسماری، کہیں چشم پوشی اتھارٹی کی پالیسی پر اعتراضات

جرات ڈیسک
هفته, ۲۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ناظم آباد نمبر 5، بلاک اے ، پلاٹ نمبر 2/31پر قائم دُکانیں انہدامی کارروائی کی زد میں

پلاٹ نمبر 433 پر دُکانیں کمرشل یونٹس محفوظ ،الطاف کھوکھر ملوث ،بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے ناظم آباد نمبر 5میں مبینہ دُہرے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

جرأت سروے کے مطابق بلاک اے کے پلاٹ نمبر 2/31پر قائم دُکانوں کے خلاف انہدامی کارروائی کرتے ہوئے دکانوں پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے جبکہ اسی علاقے کے پلاٹ نمبر 433پر قائم مبینہ خلافِ ضابطہ دکانوں پر قائم کمرشل یونٹس تاحال ہر قسم کی کارروائی سے محفوظ ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے تو اس کا اطلاق تمام خلافِ ضابطہ عمارتوں اور کمرشل یونٹس پر یکساں ہونا چاہیے ۔

ان کے مطابق منتخب مقامات پر کاروائی اور دیگر مقامات پر خاموشی سے ایس بی سی اے کی کارکردگی اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ۔

مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بااثر عناصر کو ڈائریکٹر وسطی الطاف کھوکھر کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے ، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، جبکہ کمزور فریقین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے ادارے کی غیر جانبداری متاثر ہو رہی ہے ۔علاقہ مکینوں نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد میں قائم تمام خلافِ ضابطہ تعمیرات کا غیر جانبدارانہ سروے کرایا جائے اور بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

جرأت نے اس حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ حکام سے مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم خبر فائل ہونے تک ان کا مؤقف موصول نہیں ہو سکا۔ اگر ادارہ اپنا مؤقف جاری کرتا ہے تو اسے بھی مناسب اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
سندھ بلڈنگ


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں