لیاری میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملہ،3 کارکن زخمی
شیئر کریں
دھمکیوں اور حملوں سے جماعت اسلامی کی جدوجہد نہیں رکے گی، منعم ظفر خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لیاری کے علاقے کلری پھول پتی لین میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین دہشت گردی قرار دیا ہے۔
انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے کارکنان کی عیادت کے لیے سول اسپتال کا دورہ کیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ حملے میں جماعت اسلامی کے تین کارکن زخمی ہوئے جن کے جسم کے مختلف حصوں پر چھرے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں حملہ آوروں کا باآسانی فرار ہو جانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں شامل ہونے والوں کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں، تاہم حق دو لیاری کو مہم اور بدل دو نظام تحریک دہشت گردی، دھمکیوں اور حملوں سے نہیں رکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی لیاری کے عوام کے حقوق کے لیے پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ سندھ حکومت گزشتہ 18 برس سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ کراچی اور سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے عوام کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہر شہری اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ یو سی 8 اور پورے لیاری میں عوام کی بڑی تعداد نے جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خدمت، عدل اور انصاف کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور لیاری میں تعلیم، دینی تربیت، نوجوانوں اور خواتین کی فلاح کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہوں نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حملہ آور گرفتار نہ ہوئے تو جماعت اسلامی آئندہ کے لائحہ عمل اور احتجاج کا اعلان کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتی ہے اور لیاری کے عوام کے حقوق کی آواز ہر حال میں بلند کرتی رہے گی۔


