میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۰ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا
بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو

خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آچکے ہیں، جہاں پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی رہنماء ایم پی اے فضل الہیٰ کی قیادت میں 35 سے 40 ناراض ارکانِ اسمبلی کا ایک بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ناراض ایم پی اے فضل الہیٰ نینجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی حکومت، کابینہ اور پارٹی قیادت کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا، انہوں نے صاف الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ان کے ساتھ 35 سے 40 ناراض ارکانِ اسمبلی موجود ہیں اور اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ کے پی کا بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے، جس کے نتیجے میں موجودہ صوبائی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔مبینہ ناراض گروپ کے سینیٔر رکن فضل الہیٰ نے حکومت کو بلیک میلنگ یا سیاسی سودے بازی سے ہٹ کر خالصتاً عمران خان کی رہائی سے مشروط کرتے ہوئے میٹم دیا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ، تمام صوبائی وزرائ، ایم این ایز، سینیٹرز، ایم پی ایز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی عہدیداروں کا ایک بڑا مشترکہ کنونشن بلایا جائے، اس کنونشن میں تمام قائدین اور ارکان باقاعدہ قرآن پاک پر حلف اٹھائیں کہ عمران خان کی رہائی کیلئے ایک حتمی اور فیصلہ کن احتجاج کس مخصوص دن ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ حلف میں یہ بات شامل ہونی چاہیے کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد واپسی صرف اور صرف عمران خان کی جیل سے رہائی کی صورت میں ہی ہوگی، جب تک یہ حلف نہیں لیا جاتا، ہمارا 35 سے 40 ارکان پر مشتمل گروپ صوبائی بجٹ کسی صورت منظور نہیں ہونے دے گا کیوں کہ میں پہلی دفعہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ہمارے موجودہ لیڈران عمران خان کے ساتھ مخلص ہی نہیں ہیں۔فضل الہیٰ نے انکشاف کیا کہ میں نے علیمہ آپا سے خود سوال کیا تھا کہ آپ بتائیں، سینیٹ کا ووٹ بڑا ہے یا عمران خان؟ انہوں نے جواب دیا کہ خان بڑا ہے، تو میں نے علیمہ آپا سے کہا کہ میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا، کیونکہ سینیٹ الیکشن کے لیے تو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں سب سے قرآن پاک پر حلف لیا گیا، لیکن خان کی رہائی کے لیے کوئی حلف کیوں نہیں لیا جا رہا؟۔صوبائی حکومت کی کارکردگی انہوں نے حلفیہ طور پر بدعنوانی کا اعتراف کیا اور کہا کہ کے پی میں افسر شاہی کھل کر کرپشن کر رہی ہے، یہ افسران کرپشن کرنے کے بعد اس بچگانہ کابینہ کو چاکلیٹ پکڑاتے ہیں، جس سے خوش ہو کر یہ بچے انہیں "بابا جانی” کہنا شروع کر دیتے ہیں، کے پی حکومت کی پرفارمنس خاک ہونی ہے، یہاں حالت یہ ہے کہ صوبائی وزیر خود کہتا ہے کہ میرا ڈی سی اور سیکریٹری غلط کام کر رہے ہیں لیکن میں ان کا تبادلہ تک کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، ہمیں حکومت سے کوئی چاکلیٹ یا وزارتیں نہیں چاہئیں، ہمیں صرف عمران خان کی رہائی چاہیٔے۔ناراض گروپ نے وزیرِ اعلیٰ کے وفاقی حکومت کے ساتھ رویے پر بھی سخت ترین تحفظات کا اظہار کیا، فضل الہیٰ نے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی مرکزی حکومت کا حکم ایسے مانتے ہیں جیسے وہ ان کے سگے ماں باپ ہوں، وزیرِ اعلیٰ کی وفاق کے ساتھ ہونے والی خفیہ ملاقاتیں عمران خان کی رہائی کے معاملے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں، یہ بچگانہ حرکتیں بند کی جائیں، ہم 35 سے 40 کے درمیان ایم پی ایز ہیں، معاملات کو اس حد تک نہ لے کر جائیں کہ بجٹ پاس نہ ہو سکے اور کے پی کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کو گھر جانا پڑے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں