میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی کوشش!

کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی کوشش!

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۵ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور پیش رو آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے بعد پہلے عوامی پیغام میں اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے اور یہ یقینی طور پرلیا جائے گا۔ تہران اور واشنگٹن سے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ فی الحال بندوقیں خاموش ہو گئی ہیں، لیکن بیانات اور دھمکی آمیز زبان میں مزید شدت آ گئی ہے ۔

اس صورتحال نے خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ خطہ ایک بار پھر ایسے تنازع کی طرف جا سکتا ہے جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم زیادہ تشویشناک پیش رفت اب بھی واشنگٹن سے سامنے آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے قتل کے حوالے سے اسرائیل کی دی ہوئی اطلاع پر ایک بار پھر اشتعال انگیز دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ایک ہزار میزائل تیار حالت میں موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اضافی امریکی فوجی دستے بھی بھرپور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ اس قسم کی زبان ایسے خطے کے لیے کسی طور اطمینان بخش نہیں جو پہلے ہی جنگوں سے تھکا ہوا ہے۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ان ذرائع کے مطابق کسی بھی پالیسی تبدیلی کا جائزہ پہلے سے طے شدہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ ان میں لبنان کے لیے ایک ورکنگ گروپ کا قیام، آبنائے ہرمز میں ایران کے مؤقف کے مطابق بحری آمدورفت کے انتظامات، ایرانی تیل کی برآمدات کی بحالی اور تیل کی معمول کی ترسیل کی بحالی شامل ہیں۔تہران نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو ایران خود کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کا پابند نہیں سمجھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عبوری معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران کے مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تہران کبھی امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اور اگر واشنگٹن مفاہمت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔پاکستان نے بجا طور
پر تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔اسلام آباد اس تعمیری کردار کے اعتراف کا مستحق ہے جو اس نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ادا کیا۔ تاہم اگر کوئی فریق بار بار ان ہی مفاہمتوں کو کمزور کرے جن کے قیام میں اس کا کردار رہا ہوتو صرف ثالثی امن کو برقرار نہیں رکھ سکتی ۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک وسیع تر حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کی کارروائی، جو اخلاقی طور پر ناقابل دفاع اقدام تھا اور جس کا مقصد ممکنہ طور پر حکومت کی تبدیلی کو ہوا دینا تھا، اس کے بالکل برعکس نتائج کا باعث بنی۔ ایرانی ریاست کو کمزور کرنے کے بجائے اس واقعے نے ملک کے عوام کو بیرونی مداخلت کے خلاف متحد کر دیا۔واشنگٹن نے بظاہر ایران کے قومی تشخص کے احساس اور بیرونی دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کی اس کی صلاحیت کو کم سمجھا۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر کی جانب سے بدلے کے جو مطالبات سامنے آ رہے ہیں، ان کی بنیاد بھی اسی عوامی جذبات میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ سیاسی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن اب بھی آگے بڑھنے کا راستہ واضح ہے۔ موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنے کیلئے امریکہ کو فوجی حملوں، پسپائی، دھمکیوں اور مسلسل کشیدگی کے بجائے سنجیدہ اور مسلسل سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک واشنگٹن یہ ثابت نہ کرے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے تیار ہے۔لہٰذا ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا وہ اعتماد بحال کرے جو اس کی پالیسیوں کے باعث متاثر ہوا ہے۔ اس وقت وسیع تر خطے کے لیے بھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ خطے میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ مستقل تصادم کی بنیاد پر دیرپا استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری روابط کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔خلیج تعاون کونسل (GCC) کے
ممالک، ایران، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل ایک وسیع علاقائی مکالمہ، جس میں چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کو بھی شامل کیا جائے، ایک ایسے متوازن علاقائی سلامتی کے نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو بیرونی مداخلت کے مقابلے میں کم کمزور ہو۔

اگرچہ خلیج کے علاقے میں دھمکیاں اور میزائلوں کا تبادلہ جاری ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ایک دوسرے پر حملے کیے تھے، جس سے یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ جنگ بندی وقت سے پہلے اور پرتشدد انداز میں ختم ہونے والی ہے۔ تاہم ہفتے کے روز عمان میں امریکہ اور ایران کے وفود تکنیکی مذاکرات کے لیے موجود تھے، جبکہ اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلسل سخت اور دھمکی آمیز بیانات بھی سامنے آ رہے تھے۔امریکی صدر نے اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، تاہم مذاکرات جاری رہیں گے۔ ہفتے کو ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ایک ہزار میزائل ایران کو نشانہ بنانے کے لیے تیار رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر الزام عائد کیا کہ ایرانی انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو اسرائیل کی جانب سے دیا گیا یہ انتباہ بظاہر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوسوں میں شریک سوگواروں کی جانب سے لگائے گئے نعروں اور اٹھائے گئے بینروں سے متاثر ہوکر دیاگیاتھا، جن میں ان کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ایسے کشیدہ ماحول میں امن عمل کو کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو مکمل جنگ کی واپسی کا امکان سب سے زیادہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ خطے
کے ممالک جنگ بندی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سرگرم کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران دونوں اپنے اپنے مؤقف مزید سخت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد یقینی بنائیں، جبکہ قطر کا ایک وفد گزشتہ روز تہران پہنچا تاکہ سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دی جا سکے۔ علاقائی ممالک جانتے ہیں کہ دوبارہ جنگ شروع ہونے سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور ان کی اپنی سلامتی کے ساتھ ساتھ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔تاہم ایک ایسا فریق جو مسلسل امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے، وہ اسرائیل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے علاوہ تل ابیب کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو فراہم کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات چاہے وہ درست ہوں یا مبالغہ آمیز کا مقصد بھی امریکی صدر کو امن مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرنا ہے۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ مذاکراتی عمل کے اس نازک مرحلے پر، جب خطہ جنگ اور امن کے درمیان کھڑا ہے، امریکہ اور ایران دونوں
کو زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایران کو یقینی بنانا چاہیے کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے حملے نہ ہوں اور بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت جاری رہے۔ دوسری جانب امریکہ، خصوصاً اس کے سربراہ کو ایرانیوں کو دھمکیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اشتعال انگیز بیانات تہران کی جانب سے سخت ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں۔پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کشیدگی کو دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے قابلِ تعریف کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے، جبکہ عالمی برادری کو ان عناصر، خصوصاً اسرائیل کو الگ تھلگ کرنا چاہیے جو نیک نیتی سے کام نہیں کر رہے۔موجودہ صورتحال میں چیلنج صرف جنگ بندی حاصل کرنا نہیں رہا، بلکہ ایک سیاسی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ ایران جنگ سے ابھرنے والا سب سے اہم اسٹریٹجک سوال یہی ہے۔ اگر مقصد صرف لڑائی روکنا نہیں بلکہ ایک پائیدار علاقائی نظام قائم کرنا ہے، تو سیاسی فریم ورک کو تمام اہم فریقوں کے بنیادی سلامتی مفادات میں توازن پیدا کرنا ہوگا، نہ کہ کسی ایک فریق کا یک طرفہ حل مسلط کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ترغیبات کے بغیر ادارے شاذ و نادر ہی وجود میں آتے ہیں، اس لیے بڑا سوال یہ ہے کہ اہم فریقین امریکہ ، ایران اور اسرائیل رضاکارانہ طور پر کسی سیاسی فریم ورک پر اتفاق کیوں کریں گے؟ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تنازع کے تمام فریقوں کو ترغیبات اور اسٹریٹجک سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ایران کو معاشی مراعات اور پابندیوں میں نرمی دینا ہوگی، اور اس کے بدلے میں ایران کو ایسا ریاستی طرزِ عمل اختیار کرنے پر آمادہ ہونا ہوگا جو خطے کی ابھرتی ہوئی معاشی اور سلامتی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔کسی بھی پائیدار تصفیے کے لیے ایک سیاسی فریم ورک درکار ہوگا جو بنیادی اصولوں پر قائم ہو۔اس کے علاوہ
اب یہ بھی واضح ہوچکاہے کہ کسی معتبر بیرونی حمایت کے بغیر کسی بھی معاہدے کا دیرپا رہنا مشکل ہوگا۔ امریکہ اسرائیل کا اتحادی ہے، جبکہ روس اور چین ایران کے ساتھ اہم تعلقات رکھتے ہیں۔ خصوصی اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کرنے کے بجائے یہ بڑی طاقتیں اور بعض درمیانی درجے کی طاقتیں، جن میں اقوام متحدہ کے مستقل مبصرین اور یورپی یونین بھی شامل ہیں، ایک مشترکہ فورم قائم کر سکتی ہیں جو کسی بھی معاہدے کے اہم نکات کی ضمانت دے سکے۔ ان نکات میں جوہری معاہدہ، پابندیوں پر عمل درآمد اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار شامل ہو سکتے ہیں۔اس طرح ذمہ داری تقسیم ہو جائے گی اور یہ تاثر کم ہوگا کہ یہ فریم ورک صرف کسی ایک گروہ یا بلاک کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔
٭٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں