خلیج کی نازک صورت حال، تازہ کشیدگی کے بعد غیر یقینی صورت حال
شیئر کریں
ایران پر امریکہ کے حملوں اور اس کے جواب ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کے بعدایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی تازہ ترین کشیدگی نے ایک دفعہ پھر پوری دنیا کو ایک غیریقینی اور، انتہائی افسوسناک صورت حال سے دوچار کردیاہے ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی اور اچانک دیے گئے بیانات نے بظاہر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حال ہی میں قائم ہونے والے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو اپناواحد انتظامی اختیارقرار دینے کی ایران کی پوزیشن نے علاقائی ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکہ کے فوجی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے درجنوں فضائی کارروائیوں کا آغاز، اور واشنگٹن کی جانب سے تہران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے والے لائسنس کی منسوخی نے نازک جنگ بندی کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
صورتحال کو مزید خراب کرنے والی باتیں امریکی صدر کے انقرہ میں دیے گئے بیانات تھے، جہاں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل انہوں نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔یہ صورتحال طاقت آزمائی کی سیاست کا نتیجہ ہے، جس کے باعث دوبارہ سفارت کاری کی طرف واپس جانا ضروری ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی میں بار بار تبدیلیوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی سپلائی چینز کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔تاہم ایران بھی اپنے تحفظات کی ایک طویل فہرست کے ساتھ سامنے آیا ہے اور اس نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس
نے اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کی ہے جس میں 60 دن کے اندر ایک جامع تصفیے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تنازع کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں ایران کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی ضابطہ کار پالیسیوں کو کئی ممالک شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ بین الاقوامی قانون اور سمندری حدود سے متعلق عالمی اصولوں سے انحراف ہے۔بحیرہ عرب کے دہانے پر موجود سمندری راستوں سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ اور تمام بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہیں جب امن مذاکرات پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اس کا اثر و رسوخ بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ایران اور امریکہ دونوں کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ یہی ہے کہ وہ جنگ بندی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ثالثی میں پاکستان اور قطر کی مخلصانہ کوششوں پر اعتماد جاری رکھیں۔ غیر یقینی کی یہ مسلسل کیفیت ثالثی کے اصولوں کے منافی ہے اور آخرکار دونوں فریقوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔نیٹو کے رکن ممالک کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ صدر ٹرمپ پر زور دیں اور انہیں احساس دلائیں کہ برسوں کی سفارتی کوششوں سے حاصل ہونے والی رعایتوں اور پیش رفت کو ختم کرنا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی پالیسیاں دراصل دونوں فریقوں کو باہمی تباہی کے
راستے پر لے جا سکتی ہیں۔
تازہ ترین تشدد کا آغاز آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے شبہ کے بعد ہوا۔ بظاہر ان بحری جہازوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں پر سفر نہیں کر رہے تھے۔ امریکہ نے اس کو جواز بناکر ایرانی تنصیبات پر حملہ کرکے اپنی طاقت کامظاہرہ کیا، جس کے بعد تہران نے کویت اور بحرین میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اس نے امریکی تنصیبات قرار دیا۔ تاہم جس بات نے سب کی توجہ حاصل کی، وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) ختم ہو چکی ہے اور اسلامی جمہوریہ کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع تھے۔دنیا جانتی ہے کہ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دل میں بغض وکینہ بہت پرانا ہے صدر ٹرمپ اپنی پہلی صدارت کے دوران بھی ایران کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے، اس لیے ان کی دھمکیوں کو معمولی نہیں لیا جا سکتا۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ ہلاکت خیز حملوں کو پامردی کے ساتھ مقابلہ کرکے ایرانیوں نے ثابت کیا کہ وہ ترنوالہ نہیں ہیں اور اعلیٰ قیادت کی شہادت نے ان کے جذبے کو مزید مہمیز بخشی ہے،ایران کی یہی استقامت تھی جس کی وجہ سے ایرانیوں کے لیے سخت اور غیر سفارتی زبان استعمال کرنے کے باوجود امریکی صدر مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے، جو ایک متضاد رویہ ہے۔ یہ بات واضح ہے اور امریکہ اور ایران کی قیادت کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ دوبارہ جنگی کشیدگی سوائے اسرائیل میں موجود ہ ان دائمی جنگ پسند
عناصر کے کسی کے مفاد میں نہیں ۔یہ بات بھی دونوں فریق اچھی طرح جانتے ہوئیکہ دونوں فریقوں کو کشیدگی کم کرنے اور تشدد کے اس چکر کو مزید بڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے،لیکن موجودہ صورت حال نے دونوں ہی فریقوں کی ساکھ داؤ پر لگادی ہے ،اب آنے والے چند دن یہ طے کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا مفاہمت کی یادداشت اور جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ٹرمپ کو ایک بڑی طاقت کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ایران کے حوالے سے اپنے بیانات میں سختی کم کرنی چاہیے اور سفارت کاری کے عمل کو آگے بڑھنے دینا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کی جارحانہ دھمکیاں امن عمل میں مددگار نہیں بلکہ اس کے برعکس ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر کے مؤقف کو تقویت دیتی ہیں جو طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان امن کے امکانات سے خوش نہیں، اور وہ اس سمت میں ہونے والی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی کوشش کرتارہاہے اس لئے دونوں فریقوں کو تل ابیب کی تخریبی صلاحیتوں سے محتاط رہنا ہوگا۔امریکہ کو چاہیے کہ وہ ایران کو دی گئی اس رعایت کی بحالی پر غور کرے جو مفاہمت کی یادداشت کے تحت اسے اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت دیتی تھی اور حالیہ کشیدگی کے دوبارہ آغاز کے بعد یہ رعایت ختم کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملے بھی بند ہونے چاہئیں، کیونکہ ایران نے عرب ملک میں جاری تشدد کو امن عمل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کو جنگ بندی بچانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنی چاہئیں۔ جنگ بندی کو کامیاب بنانا کبھی بھی آسان نہیں تھا، لیکن یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن کی کوششوں کو ناکام ہونے سے بچایا جائے۔ اس کا متبادل دوبارہ جنگ کی طرف واپسی ہے، جس کے خطے کے عوام اور عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے والے فریقوں کے ساتھ ساتھ علاقائی ممالک کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خلیج میں امن کے حصول کی کوششیں جاری رکھیں۔
ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی امریکہ کی صلاحیت پر کوئی شبہ نہیں، لیکن اب تک امریکہ یہ نہیں کر سکا کہ وہ ایرانی حکومت کو اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرے، جن میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کنٹرول کا معاملہ بھی شامل ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کی بنیادی وجہ تہران حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے والی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی۔ایرانی حکومت آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کو روکنے کی صلاحیت ایران کو عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کا ایک طاقتور ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ یہ اختیار اس امکان کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ استعمال ہتھیار سمجھا جاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرے گا۔ اب تک کی صورت حال سے یہ واضح ہوچکاہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مفاہمت کی یادداشت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے بھی تیار ہے، حالانکہ اس معاہدے میں ایران کے لیے کئی ممکنہ مراعات شامل ہیں۔ تہران دراصل یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب حالات ماضی کی طرف واپس نہیں جائیں گے۔ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے خیال کے مطابق حقوق کے تحفظ کے لیے طویل جنگ کا خطرہ مول لینے کو بھی تیار دکھائی دیتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی حکومت کو
ختم کرنے کی کوششوں کی ناکامی نے تہران حکومت کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ اسلامی جمہوری نظام کو اب بھی ایک مضبوط حمایت حاصل ہے۔ٹرمپ کے تازہ سخت بیانات کے درمیان ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے اور خلیج میں امریکہ کے بعض عرب اتحادیوں کی شمولیت کے بعد کیا مذاکرات ختم ہو چکے ہیں؟ تو انھوں نے اپنے مذاکرات کاروں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کئی روزہ سوگ کی تقریبات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں لیکن یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی بہتر راستہ موجود نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران حکومت کو کمزور کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن ان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں ۔ اس وقت مذاکراتی عمل انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔ مذاکرات کا ماحول ‘انتہائی کشیدہ’ ہے۔
سفارتی زبان میں اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دو ایسے ممالک کے درمیان مذاکرات ہو رہے
ہیں جن کے درمیان اعتماد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور دونوں فریق اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں دوسرا فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جا سکے توشاید ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ممکن ہوسکے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری رہ سکے۔ تاہم اس کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی ضرورت ہوگی جس میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا اور، ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینا شامل ہو اور سب سے بڑھ کر تہران کے لیے یہ تسلیم کیا جائے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا اختیار برقرار رہے گا۔تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ ایسے معاہدے تک پہنچنا بہت مشکل ہوگا۔
٭٭٭


