میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غریب لڑکی کیسے ملکہ بنی؟

غریب لڑکی کیسے ملکہ بنی؟

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کی سب سے خوبصورت کہانیاں وہ نہیں ہوتیں جن میں تاج ملتے ہیں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جن میں انسان اپنی تقدیر بدل دیتا ہے ۔ دنیا
میں ہزاروں بادشاہ گزرے ، سینکڑوں ملکہ بنیں، مگر کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جنہیں اقتدار نہیں، ان کا حوصلہ امر کرتا ہے ۔ تھیوڈورا بھی انہی
چند ناموں میں شامل ہے ۔

یہ چھٹی صدی عیسوی کی بات ہے ۔ مصر کی ایک غریب، بے سہارا اور غیر معمولی حسین لڑکی، جس کا نام تھیوڈورا( Theodora) تھا،
سفر کرتی ہوئی انطاکیہ پہنچی۔ اس کی منزل قسطنطنیہ، یعنی آج کا استنبول تھا، جو اس وقت بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ وہ اس سفر پر نکلی تو
اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ خاندان کا سہارا، نہ کوئی شاہی نسب۔ اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ چند برس بعد اسی سلطنت کے شاہی محل میں اس
کے سر پر ملکہ کا تاج رکھا جائے گا۔

تھیوڈورا کا تعلق معاشرے کے اس طبقے سے تھا جسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اس کے والد ہپوڈروم میں ریچھوں کی دیکھ بھال
کرتے تھے جبکہ والدہ تھیٹر میں رقص کرکے گھر کا چولہا جلاتی تھیں۔ پھر ایک دن والد کا انتقال ہوگیا اور غربت نے پورے خاندان کو اپنی
گرفت میں لے لیا۔ حالات نے تھیوڈورا کو بھی کم عمری میں تھیٹر پہنچا دیا۔ قدرت نے اسے حسن دیا تھا، مگر اس کا اصل سرمایہ ذہانت، حاضر
دماغی اور غیر معمولی خود اعتمادی تھی۔ یہی خوبیاں اسے جلد دوسروں سے ممتاز کرنے لگیں۔ جوانی میں ایک بااثر سرکاری افسر اسے اپنے ساتھ لبنان لے گیا، مگر کچھ عرصے بعد وہ بھی اسے تنہا چھوڑ گیا۔ زندگی ایک بار پھر اس کے سامنے اندھیرا بن کر کھڑی ہوگئی۔ اسی بے سروسامانی کے عالم میں وہ اسکندریہ سے ہوتی ہوئی انطاکیہ پہنچی۔ یہاں اس کی ملاقات میسیڈونیا نامی ایک فنکارہ سے ہوئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ صرف اداکارہ نہیں تھی بلکہ سلطنت کے ایک خفیہ سیاسی نیٹ ورک سے بھی وابستہ تھی۔ اسی عورت نے تھیوڈورا کو اپنے حلقے میں شامل کیا اور
یہی وہ موڑ تھا جہاں قسمت نے خاموشی سے اپنا راستہ بدلنا شروع کیا۔ انہی دنوں تھیوڈورا کی ملاقات مستقبل کے شہنشاہ جسٹینین سے ہوئی۔

جسٹینین خود بھی کسی شاہی خاندان میں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔ ان کا تعلق ایک غریب کسان گھرانے سے تھا۔ ان کے ماموں جسٹن بہتر
مستقبل کی تلاش میں برسوں پہلے قسطنطنیہ آئے ، شاہی محافظ بنے ، پھر ترقی کرتے کرتے فوج کے سربراہ اور بالآخر 518ء میں سلطنت روم
کے شہنشاہ بن گئے ۔ چونکہ ان کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے انہوں نے اپنے بھانجے جسٹینین کو تعلیم دلائی، سیاست سکھائی اور اپنا جانشین مقرر
کر دیا۔ جسٹینین پہلی ملاقات میں ہی تھیوڈورا کی شخصیت سے متاثر ہوگئے ، مگر دونوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی تھی۔ رومی قانون کے مطابق کسی سینیٹر یا شاہی خاندان کے فرد کی شادی کسی اداکارہ یا رقاصہ سے نہیں ہوسکتی تھی۔ ملکہ یوفیمیا بھی اس رشتے کی شدید مخالف تھیں۔ پھر 523ء آیا۔ ملکہ یوفیمیا کا انتقال ہوا تو حالات نے نئی کروٹ لی۔ شہنشاہ جسٹن نے پہلے تھیوڈورا کو اشرافیہ کا درجہ دیا، پھر قانون تبدیل کروایا، اور یوں وہ رکاوٹ بھی ختم ہوگئی جو دونوں کے درمیان کھڑی تھی۔ 525ء میں جسٹینین اور تھیوڈورا کی شادی ہوگئی۔ یکم اپریل 527ء کو آیا صوفیہ میں ایک تاریخی تقریب منعقد ہوئی۔ بشپ نے ایک غریب کسان کے بیٹے اور ایک سابقہ رقاصہ کے سر پر شاہی تاج رکھا۔ صرف چار ماہ بعد شہنشاہ جسٹن کا انتقال ہوگیا اور جسٹینین اور تھیوڈورا سلطنت روم کے مکمل حکمران بن گئے ۔لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ 532ء میں قسطنطنیہ کی سڑکیں آگ میں جل رہی تھیں۔ اس زمانے میں ہپوڈروم صرف گھوڑوں کی دوڑ کا میدان نہیں تھا بلکہ سیاست کا مرکز بھی تھا۔ دو بڑے گروہ، بلیوز اور گرینز، کھیل سے کہیں زیادہ سیاسی اثر رکھتے تھے ۔

سخت ٹیکس، عدالتی ناانصافیاں اور عوامی غصہ پہلے ہی بڑھ چکا تھا۔ جب دونوں گروہ ایک ہوگئے تو پورا شہر بغاوت میں تبدیل ہوگیا۔
ہر طرف ایک ہی نعرہ گونج رہا تھا۔ "نیکا، نیکا”(Nika)،یعنی "فتح، جیتو "۔ پانچ دن تک شہر جلتا رہا۔ عمارتیں راکھ ہوگئیں۔ آیا صوفیہ بھی تباہ ہوگیا۔ ہزاروں مشتعل افراد شاہی محل کے باہر جمع ہوگئے اور جسٹینین سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ دربار کے اکثر مشیر فرار کا مشورہ دے رہے تھے ۔ یہاں تک کہ مشہور سپہ سالار بیلیساریئس بھی یہی رائے رکھتے تھے ۔ اسی لمحے تھیوڈورا کھڑی ہوئی۔ اس نے صرف ایک جملہ کہا، مگر وہ جملہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ ” بادشاہت بہترین کفن ہے ۔ میں ملکہ رہتے ہوئے مرنا پسند کروں گی، مگر بھاگ کر زندہ نہیں رہوں گی”۔یہ صرف ایک تقریر نہیں تھی، یہ ایک سلطنت کے مقدر کا فیصلہ تھا۔ جسٹینین نے فرار کا ارادہ ترک کردیا۔ فوج کو حکم ملا۔ بیلیساریئس اور موندس اپنی افواج کے ساتھ ہپوڈروم پہنچے ، جہاں باغی جمع تھے ۔ چند ہی گھنٹوں میں تقریباً تیس ہزار باغی مارے گئے ، بغاوت ختم ہوگئی اور سلطنت ٹوٹنے سے بچ گئی۔ بعد ازاں جسٹینین نے نئے سرے سے آیا صوفیہ تعمیر کروایا، جو آج بھی دنیا کی عظیم ترین تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے ۔ مورخین کا خیال ہے کہ اگر اس دن تھیوڈورا خوف کے آگے جھک جاتی تو شاید بازنطینی سلطنت وہیں ختم ہوجاتی۔

تھیوڈورا نے اقتدار کو صرف محلوں کی آسائش کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اس نے جبراً جسم فروشی پر مجبور کی گئی خواتین کے لیے پناہ گاہیں قائم کروائیں، انہیں مالی مدد دی، عورتوں کو جائیداد رکھنے اور وراثت میں حصہ لینے کے حقوق دلائے ، شادی اور طلاق سے متعلق قوانین میں اصلاحات کروائیں، خیراتی اداروں اور گرجا گھروں کی سرپرستی کی، اور خواتین کے تحفظ کے لیے کئی ایسے اقدامات کیے جو اپنے زمانے سے بہت آگے تھے ۔ البتہ اقتدار کے دوسرے چہرے سے بھی وہ ناواقف نہیں تھی۔ اپنے سیاسی مخالفین کے معاملے میں اس کا رویہ سخت تھا اور اس کے خفیہ اہلکار مسلسل نگرانی کرتے رہتے تھے ۔ 548ء میں صرف 48برس کی عمر میں تھیوڈورا دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اسے قسطنطنیہ کے شاہی مقبرے میں دفن کیا گیا۔

جسٹینین اس کے بعد مزید سترہ برس زندہ رہے ۔ روایت ہے کہ وہ تقریباً ہر روز اس کی قبر پر جاتے تھے ۔ ان کے تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں سلطنتِ روم نے قانون، تعمیرات اور انتظامیہ میں بے مثال ترقی کی۔ اسی زمانے میں مرتب ہونے والا جسٹینین کوڈ بعد میں یورپی قانونی نظام کی بنیاد بنا۔
تاریخ تھیوڈورا کو صرف ایک خوبصورت عورت یا سابقہ رقاصہ کے طور پر یاد نہیں رکھتی۔ وہ اس عورت کے طور پر زندہ ہے جس نے غربت کو اپنی پہچان نہیں بننے دیا، سماجی حقارت کو اپنی تقدیر نہیں مانا، اور محل تک پہنچ کر بھی صرف تاج نہیں سنبھالا بلکہ ایک پوری سلطنت کا مستقبل بچا لیا۔ کبھی کبھی ایک عورت کی ہمت ہزاروں سپاہیوں کی طاقت پر بھاری پڑ جاتی ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں