میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اختلافات کے ماحول میں ترکیہ میں نیٹو کا سربراہ اجلاس کتنا مفید؟

اختلافات کے ماحول میں ترکیہ میں نیٹو کا سربراہ اجلاس کتنا مفید؟

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت
انقرہ پہنچ گئے ہیں۔

امریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس  میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ائر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت ۔سمجھا جاتا ہے،

جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ ماضی  میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں
سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

انقرہ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ  ہم نے نیٹو میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی تاکہ یورپ محفوظ رہے۔ نیٹو نے بہت مایوس کیا ہے، نھوں نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ اپنے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ موجود رہتا ہے تو پھر ایسے مواقع پر نیٹو ممالک امریکہ کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ  امریکہ اتحادیوں پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اس کے باوجود اسے مطلوبہ تعاون نہیں ملتا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ میں ہمیں کسی کی ضرورت نہیں تھی تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کہ جب انھیں ضرورت نہیں تھی تو پھر وہ باربار نیٹو کے رکن ممالک سے تعاون کرنے اور اس جنگ میں ساتھ دینے کے مطالبات کیوں کررہے تھے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ نیٹو اجلاس میں بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے  معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک  کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریںگے،  جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات  بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکہ کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو
سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔

اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے  دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکہ اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے یورپ کی سلامتی میں امریکی کردار محدود کرنے کی پالیسی اپنائی، جس کے تحت یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی  تعداد کم کرنے، نیٹو کے دفاعی منصوبوں کے لیے فراہم کیے جانے والے وسائل محدود کرنے اور یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا جامع  جائزہ لینے جیسے اقدامات کیے گئے تھے۔تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا
حامل ہے کہ اس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی، ایران اور یوکرین کی صورتحال سمیت اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 رکن ممالک کے سربراہان یا اعلیٰ نمائندے شریک ہیں، جب کہ نیٹو میں شامل نہ ہونے کے باوجود یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزرائے دفاع یا وزرائے خارجہ کو بھیجا ہے، جبکہ بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی خلیجی ممالک کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر مسلسل تنقید اور اتحاد سے علیحدگی کے اشاروں کے بعد یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے کہ اگر امریکہ واقعی نیٹو سے نکل جائے تو اس کے دنیا اور یورپ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکہ کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکہ کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی
یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے کم وبیش ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق  یورپ کی دفاعی صنعتیں اس وقت بھی مطلوبہ رفتار سے پیداوار بڑھانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کئی یورپی ممالک کی افواج کو نئے فوجیوں کی بھرتی اور موجودہ اہلکاروں کو برقرار رکھنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکہ کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے۔ امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی۔ماہرین کے مطابق فی الحال ایسا ہونا آ سان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکہ کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 36 ویں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ میں موجودگی کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور شام کے صدر احمد الشرع کے ساتھ بھی دو طرفہ ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔ زیلنسکی کے ساتھ ملاقات یوکرین کے لیے امریکی حمایت اور روس کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان ہوگی جب کہ احمد اشرع کے ساتھ ملاقات اسد حکومت کے خاتمے کے بعد کسی امریکی صدر اور شام کی نئی قیادت کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ دورہ صرف ترک صدر رجب طیب اردوان کی وجہ سے کر رہا ہوں امریکی صدر نے ترک صدر کو اپنا دوست اور ایک باوقار رہنما قرار دیا۔ انقرہ میں 2 روزہ نیٹو اجلاس میں روس سے متعلق سیکورٹی خدشات، یورپی دفاع اور علاقائی تنازعات پر بات چیت کے علاوہ اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدوں کے اعلان کی بھی توقع ہے۔

شمالی اوقیانوس معاہدہ سے متعلق تنظیم (نیٹو) کایہ2 روزہ سربراہی اجلاس ایک ایسی صورت حال میں شروع ہو اہے، جب بحرِ اوقیانوس کے گرد واقع ملکوں کے درمیان قائم اس اتحاد کے اندرونی اختلافات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ اجلاس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر امریکہ اور نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے تعلقات کو ‘‘مضحکہ خیز’’اور‘‘غیر باہمی’’ قرار دیاتھا۔ امریکہ کی جانب سے دفاعی معاملات میں نیٹو اتحادیوں پر مفت سواری کرنے کے بار بار الزامات اور امریکہ کی سلامتی سے متعلق وابستگیوں پر نظرِ ثانی کی دھمکیوں نے اس اجلاس پر غیر یقینی کا سایہ ڈال دیا ہے، حالانکہ اس اجلاس کا مقصد اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا۔ گزشتہ سال دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں تقریباً تمام رکن ممالک نے امریکی دباؤ کے تحت 2035 تک اپنے دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے5 فیصد تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھایہ ہدف سرد جنگ کے بعد فوجی اخراجات کی سب سے بڑی سطح سمجھا جاتا ہے۔

انقرہ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق اس اجلاس میں اس وعدے پر عمل درآمد کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔نیٹو کے کئی رکن ممالک نے تسلیم کیا ہے کہ فنڈز کی تقسیم اور مالی پائیداری کے مسائل کے باعث 5 فیصد کے ہدف کا حصول ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسپین اس ہدف سے الگ ہو چکا ہے، جبکہ اٹلی
ایک بڑے پل کے منصوبے کو دفاعی اخراجات میں شامل کر کے نیٹو کے اخراجاتی ہدف کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے توقع ہے  کہ انقرہ اجلاس کو دفاعی اخراجات کے منصوبے میں پیش رفت کے حوالے سے سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ یورپ اس اتحاد کے اخراجات پورے کرنے کیلئے مالی طور پر زیادہ حصہ ڈالے اور امریکی ہدایات پر عمل کرے، جبکہ یورپ نیٹو کے فریم ورک میں امریکہ کو شامل رکھنے کے باوجود اپنے مفاد میں خودمختار فیصلہ سازی کا خواہاں ہے۔ یہ متضاد مطالبات اتحاد کے اختلافات کو پاٹنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کے باعث اجلاس کے نتائج غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم امریکہ اور ایران کی جنگ کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اتحاد کے تمام ممالک خاص طورپر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اپنے رویّے پر غور کریں اور مشرق کی جانب توسیع کے کمزور جواز ترکیا جائے۔ نیٹو میں شامل تمام ممالک خاص طورپر امریکہ کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ آج کی دنیا وہ نہیں رہی جس میں نیٹو قائم ہوا تھا۔ پرانے طریقوں کے ذریعے خود کو برقرار رکھنے کی کوشش نہ صرف فرسودہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اگر نیٹومیں شامل ممالک واقعی امن اور استحکام کا خواہاں ہیں تونیٹو کو مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کو اپنانا چاہیے، نہ کہ وہ محدود اور مخصوص سلامتی جسے وہ اپنے بعض ارکان کے لیے فروغ دیتا ہے۔ اتحاد کو تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔ فوجی، تکنیکی اور معاشی طاقت اخلاقی برتری کے مترادف نہیں ہوتی۔ جب تک نیٹو عدم مداخلت، باہمی احترام اور مختلف ترقیاتی راستوں کو سلامتی کی بنیاد کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، تب تک وہ ایک ایسی جنگی مشین کے طور پر جو اپنی سلامتی کے لیے دوسروں کی سلامتی کو قربان کرتی رہے سرد جنگ کی سوچ، یکطرفہ پن اور بلاک سیاست میں پھنسا رہے گا ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں