میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسان کہاں کھڑا ہے؟

انسان کہاں کھڑا ہے؟

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

انسان اس کائنات کی سب سے معزز مخلوق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل، شعور، ارادہ اور اختیار کی نعمتوں سے نوازا اور زمین پر اپنا خلیفہ
مقرر فرمایا۔ انسان کو یہ مقام اس لیے عطا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے ، اس کی بندگی اختیار کرے اور زمین پر خیر، عدل
اور بھلائی کا نظام قائم کرے ۔ لیکن جب انسان اپنے مقصدِ تخلیق کو فراموش کر دیتا ہے تو وہ ظاہری ترقی کے باوجود باطنی طور پر زوال کا شکار ہو جاتا ہے ۔ آج کا انسان اسی حقیقت کا ایک واضح مظہر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جدید ترقی کے اس دور میں انسان کہاں کھڑا ہے اور اس کی
اصل منزل کیا ہے ؟

عصرِ حاضر کا انسان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے ۔ ایک طرف سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت،مواصلات اور صنعتی ترقی کی حیرت
انگیز کامیابیاں ہیں، جبکہ دوسری طرف ذہنی دباؤ، روحانی بے چینی،اخلاقی زوال، خاندانی انتشار اور معاشرتی بے حسی بڑھتی جا رہی ہے ۔
انسان نے کائنات کے بے شمار راز دریافت کر لیے ہیں، لیکن وہ اپنے وجود کے راز اور مقصدِ حیات سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ
ترقی کے باوجود سکون اور اطمینان کی دولت اس کے ہاتھ سے پھسلتی جا رہی ہے ۔
قرآنِ مجید انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے‘‘اور میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ’’)الذاریات:56)۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کابنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا کا حصول ہے ۔ اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ
ہے‘‘کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے’’؟(المؤمنون:115)۔
یہ آیت انسان کو اس کی جواب دہی اور آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جاتا ہے تو اس کی زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا بحران مادیت پرستی ہے ۔ مادیت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی تمام تر توجہ دنیاوی خواہشات، دولت،
شہرت اور آسائشوں پر مرکوز کر لے اور روحانی و اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دے ۔ آج کامیابی کا معیار کردار، تقویٰ اور اخلاق نہیں بلکہ
دولت، طاقت اور شہرت بن چکے ہیں۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ مال و دولت اسے خوشی عطا کرے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواہشات کی
کوئی انتہا نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘‘اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری کی خواہش کرے گا’’۔
یہ حدیث انسانی خواہشات کی لا محدود نوعیت کو بیان کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جتنا زیادہ حاصل کرتا ہے اتنا ہی مزیدحاصل
کرنے کی خواہش میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔مادیت کے غلبے نے روحانیت کو کمزور کر دیا ہے ۔ انسان کے پاس آسائشیں تو بڑھ گئی ہیں لیکن دل
کا سکون کم ہو گیا ہے ۔ عبادات رسمی ہوتی جا رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے ‘‘اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی’’(طٰہٰ:124)۔

اس تنگی سے مراد صرف معاشی مشکلات نہیں بلکہ روحانی بے سکونی اور ذہنی اضطراب بھی ہے ۔اسی لیے آج دنیا بھر میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن
اور بے مقصدیت کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔حقیقی سکون صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں ہے ۔ قرآنِ
کریم فرماتا ہے‘‘خبردار! اللہ کے ذکرہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے’’( الرعد: 28)۔

اخلاقی بحران بھی عصرِ حاضر کا ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ اخلاق کسی بھی معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ جب اخلاق کمزور پڑ جاتے ہیں تو
معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے ۔ آج جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی اور خود غرضی عام ہوتی جا رہی ہے ۔ بے حیائی کو آزادی اور دھوکے کو
کامیابی سمجھا جانے لگا ہے ۔ حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا‘‘میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں’’۔اسلام انسان کو سچائی،
امانت داری،عدل، احسان اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے ۔ جب یہ اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں تو معاشرے میں اعتماد، محبت اور انصاف بھی ختم
ہونے لگتے ہیں۔

خاندانی نظام کا کمزور ہونا بھی موجودہ دور کے بڑے مسائل میں شامل ہے ۔ خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اور اس کی مضبوطی
معاشرتی استحکام کی ضمانت ہوتی ہے ۔ لیکن آج والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، بزرگ تنہائی کا شکار ہیں اور تربیت کی
جگہ صرف دنیاوی تعلیم کو اہمیت دی جا رہی ہے ۔ مادہ پرستی نے انسان کو اپنے قریبی رشتوں سے بھی دور کر دیا ہے ۔ اسلام خاندانی نظام کے
استحکام اور والدین کے احترام پر زور دیتا ہے ۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے‘‘اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو’’(النساء:36)۔ یہ تعلیم
ایک متوازن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔

نوجوان نسل کا بحران بھی توجہ کا متقاضی ہے ۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان فکری اور اخلاقی طور پر مضبوط ہوں تو
قوم ترقی کرتی ہے ، لیکن اگر وہ بے مقصدیت اور گمراہی کا شکار ہو جائیں تو قوم کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔ آج بہت سے
نوجوان سوشل میڈیا، وقتی شہرت اور مادی کامیابیوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، جبکہ کردار سازی، مطالعہ، علم اور خود احتسابی سے دور ہوتے جا
رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی جوانی کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں اور کیسے
گزارا۔ یہ حدیث نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔
معلومات کے اس دور میں ایک اور مسئلہ فکری انتشار ہے ۔ آج معلومات کی فراوانی ہے لیکن حکمت اور بصیرت کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ہر شخص کو معلومات تک رسائی دے دی ہے ، لیکن صحیح اور غلط میں تمیز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ افواہیں، غلط
معلومات اور غیر مستند آراء ذہنی انتشار کا سبب بن رہی ہیں۔ قرآنِ مجید ہمیں مستند علم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے‘‘پس اگر
تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو(النحل:43)۔ اس آیت میں تحقیق، رہنمائی اور مستند علم کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سب سے بڑا بحران معاشی یا سائنسی نہیں بلکہ روحانی بحران ہے ۔ انسان اپنے خالق سے دور ہو گیا ہے اور اسی
وجہ سے وہ اپنی اصل شناخت سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے ۔ جب انسان اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کر لیتا ہے تو اس کی زندگی میں توازن پیدا ہو
جاتا ہے ۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

یہ پیغام انسان کو خود شناسی کے ذریعے خدا شناسی کی دعوت دیتا ہے ۔ خود احتسابی، تزکیۂ نفس اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہی انسان کو اس کے
حقیقی مقام سے آشنا کرتی ہے ۔ اگرچہ موجودہ حالات تشویش ناک ہیں، لیکن مایوسی مومن کا شیوہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے‘‘بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ’’(الشرح:5-6 ) اوراللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو(الزمر: 53)۔ یہی امید اور رجوع الی اللہ انسان کی
نجات کا راستہ ہے ۔ جب انسان ایمان، اخلاق، علم، خود احتسابی اور روحانیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو سنوار
لیتا ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی کردار ادا کرتا ہے ۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کا انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں پر پہنچنے کے باوجود فکری، اخلاقی اور روحانی بحران سے دوچار ہے ۔ اس
بحران کا حل صرف مادی ترقی میں نہیں بلکہ ایمان، اخلاق، روحانیت، علم اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق میں پوشیدہ ہے ۔ جب انسان اپنے
مقصدِ تخلیق کو پہچان لے گا، اپنے رب کی طرف رجوع کرے گا اور اپنی زندگی کو الٰہی ہدایات کے مطابق ڈھال لے گا تو وہ حقیقی کامیابی
حاصل کر سکے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو بے سکونی سے سکون، گمراہی سے ہدایت اور بے مقصدی سے مقصدِ حیات کی طرف لے جاتا
ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں