خلوص سے عاری قربانی
شیئر کریں
تمام عالم اسلام کے مسلمان مکہ مکرمہ اور مدینہ معظمہ حج کی سعادت حاصل کرنے اور حج کے اہم ترین مناسک میں سے عظیم عبادت
قربانی کی ادائیگی کے بعد اب دیار مقدس کو الوداع کہنے کی تیاریاں کررہے ہیں، ایک طرف ان کے دل اس فریضے کی ادائیگی پر سرشار ہیں
اور دوسری طرف دیار مقدس کی واپسی کیلئے ان کا دل نہیں مان رہا ہے۔ادھر پوری دنیا کے مسلمان قربانی کی تیاریاں کررہے ہیں ، قربانی اللہ
تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ قربانی کا حکم محض حاجیوں تک محدود نہیں بلکہ ہر صاحب استطاعت مسلمان کے لئے ہے۔
دنیا کے جس گوشے میں بھی جو مسلمان حج کی سعادت سے محروم ہوتے ہیں وہ بھی قربانی کے اس عظیم عمل کے ذریعے حج کی عبادت میں شریک ہو جاتے ہیں۔ جس طرح حاجی احرام باندھنے کے بعد بال یا ناخن نہیں ترشواتا، اسی طرح تمام مسلمان جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لئے بھی پسندیدہ
ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن نہ ترشوائیں اور اس طریقے سے ان کی حجاج سے ایک مناسبت اور مشابہت پیدا ہو جاتی
ہے۔ یہ ایک مستحب اور بابرکت عمل ہے۔ جو اس عبادت کی تعظیم کا مظہر ہے۔قربانی دراصل شعائر اسلام میں سے ہے۔
قربانی خالص روحانی تصور اور اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے، جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں بے حد مقبول اور پسندیدہ فعل ہے۔ قربانی اللہ کی رضا اور تقویٰ
حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قربانی کا تصور تمام آسمانی مذا ہب میں پایا جاتا ہے۔
قرآن حکیم میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ‘‘اور ذرا انہیںآدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم وکاست سنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہیں کی گئی۔ اس نے کہا‘‘میں تجھے مار ڈالوں گا’’۔ اس نے جواب دیا:‘‘اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے’’۔ (سورہ المائدہ آیت 27 )اس آیت سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانیت کی ابتدا میں ہی قربانی بطور عبادت زندگی کا حصہ بنا دی گئی تھی۔ قربانی اللہ کی رضا
اور تقویٰ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔قران پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون اور اسے تمہارا
تقویٰ پہنچتا ہے’’۔(سورہ حج ایت 37)قربانی سنت ابرا ہیمی کا عملی مظاہرہ ہے۔حدیث مبارکہ ہے۔‘‘رسولؐ سے بعض صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ؐ‘‘ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے’’؟آپؐ نے فرمایا:‘‘یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت
ہے’’۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا۔‘‘ہمارے لیے اس میں کیا اجر ہے’’؟آپ ؐ نے فرمایا:‘‘ہر بال کے بدلے ایک نیکی
ہے’’۔انہوں نے عرض کیا۔ ‘‘تو کیا بھیڑ کا بھی یا رسول اللہؐ یہی حساب ہے’’؟ آپ ؐ نے فرمایا‘‘ ہاں اون والے جانور کی قربانی کا اجر بھی اسی
شرح اور اسی حساب سے ملے گا کہ اس کے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی’’۔(سنن ابن ماجہ 3127)
حضورؐ نے ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں قربانی کا ہر سال باقاعدگی سے اہتمام کیا۔حدیث میں قربانی نہ کرنے والوں پر سخت وعید
ارشاد فرمائی۔نبی ؐ نے فرمایا:‘‘جس کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے۔ وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے’’۔(سنن ابن ماجہ 3123) قربانی کے ذریعے گوشت غریبوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ جس سے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا
ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لئے قربانی کی جائے اور ریا کاری سے بچیں۔ قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ
ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کر دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی جذبے اور اپنی رضا کے لیے قربانی کی
توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر میدان میں سنت ابراہیمی کے پیروکار بنائے اور ہماری زندگیوں کو اصل حقیقت میں اس عہد کی عملی
تصویر بنائے۔‘‘کہو میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جو سارے جہانوں کا رب ہے’’(سورہ الانعام 162)
قربانی‘‘قرب’’سے عبارت ہے اور اس سے ایسی قربانی مراد ہے جوصرف اللہ کے قرب، اس کی رضا اور خوشنودی کی خاطر مخصوص
اوقات اور مخصوص جانور ذبح کرنے کی ضورت میں ادا ہوتی ہے ہر سال ہرکوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق قربانی کے جانور خریدنے کے لیے
بہت مشتاق ہوتاہے ،ہر سال اربوں جانور اللہ کے نام پرقربان کیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس قربانی کا اصل
مقصد سمجھتے ہیں؟ کیا ہماری قربانی کا وہ معیار ہے جو اللہ رب العزت کو مطلوب ہے جو ہمیں صحیح معنوں میں اللہ کے قریب کر دے۔ یہ قربانی تو
علامت ہے اس قربانی کی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور پیش کی۔کیاہم نے فرماں
برداری اور سر تسلیم خم کرنے کے وہ انداز اپنائے ہیں؟جن کی بدولت اللہ رب العزت نے ان باپ بیٹے کی اس قربانی کو رہتی دنیا تک قابل
تقلید بنادیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی قربانیوں سے عبارت تھی، وہ شروع سے ہی موحد اعظم تھے، اسی وجہ سے اب کے بت
تراش،بت فروش والد نے انھیں گھر اور خاندان سے دور کر دیا تھا۔یہ خالق کی محبت میں ان کی پہلی قربانی تھی۔ وہ سچے خالق کی تلاش میں
سرگرداں رہے جب اس کو پا لیاتو‘‘انی وجھت وجھی للذی فطرالسموت والا رض’’ کہہ کر بتوں کی اس طرح تکذیب کی کہ اس دور کے جابر
حاکم نمرود نے آگ میں پھینکنے کا قصد کیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کونظر آرہا تھا اس دہکتے الاؤ میں کوئلہ بن جاؤں گا لیکن پائے استقامت
میں لرزش نہیں آئی،ان کی آزمائش ہوئی اوروہ اس میں پورے اترے، اللہ نے ان کو سرخرو کیا۔ قربانی کے ثمرات سے صحیح معنوں میں مستفید
ہونے کے لیے ہمیں اسوہ ابراہیمی کو ہی مشعل راہ بنانا ہو گا۔ ہم لاکھوں کی قربانی تو کرلیتے ہیں لیکن ہمارے اندر فرماں برداری کا وہ خالص
جذبہ موجود ہی نہیں ہے جس کو بروئے کار لا کر ہم اپنے نفس کے سر کش گھوڑے کو لگام ڈال سکیں۔ ہر سال کچھ دانشور مشورہ دیتے ہیں کہ قربانی
پر اتنا مال خرچ کرنے کے بجائے کسی غریب کی شادی ہی کروادیں، سارا سال وہ اپنے رہن سہن اور فضول تعیشات پر کوئی قدغن نہیں لگاتے
نہ ہی ان کو دوسروں کو سادگی کی ترغیب دینے کا خیال آتاہے لیکن ہرسال ان کو غریبوں کی غربت کا حل صرف اللہ کے نام پر قربانی نہ کرنے
میں نظر آتا ہے ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قربانی نہ کرنے کی صورت میں کوئی بھی اجتماعی طورپرغریب لوگوں کی اس حد تک جا کر مدد نہی کرسکتا
جتنی مدد قربانی دینے کے اس نظام سے جڑ کر کر سکتا ہے، آپ کسی بھی غریب کو ایک لاکھ کبھی نہیں دیں گے کہ وہ اس رقم سے اپنی بیٹی کی شادی
کر لے لیکن اسی غریب سے بکرا، گائے خرید کر اس کی مدد کر سکتے ہیں، چارے سے لے کرکٹائی تک پھر کھالوں کی ترسیل سے لے کر لیدر
کارخانوں میں ہر ہر طرح کی محنت اور فائدہ ان غریب مزدوروں کے حصے میں،اسی قربانی کے نظام سے ہی آتا ہے ،اس نظام سے اربوں
روپیہ امیروں کی جیب سے نکل کر غریبوں کی دسترس میں آتا ہے۔ چنانچہ جب ہم خالص اللہ رب العزت کی رضاکے لیے اسوۂ ابراہیمی کی
پیروی میں مکمل مطیع اوراخلاص نیت رکھتے ہوئے اس فرض کوادا کریں گے تو انشاء اللہ ایسی ہی قربانی اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہو گی ۔
آج اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہوئے ہمیں اپنا جائزہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے اس پر غور کرنا چاہئے کہ آج
ہماری اکثریت کس قسم کی قربانی کررہی ہے؟ کیاہم واقعی سنت ابراہیمی پر کار بند ہیں؟کیاہماری قربانی ہمارا،جینا مرنا اللہ رب العالمین کے
لیے ہے؟کیاہم گائے ذبح کرنے سے پہلے وہ چھری اپنی انا،تکبر، ریا،حسد، کینہ،بغض اور اپنے باطنی خبائث پر چلاتے ہیں؟حقیقی معنوں
میں دیکھا جائے تو ہماری بڑی اکثریت کی جانب سے کی جانے والی قربانی صرف دکھاوے کی نام ونمود کی قربانی ہوتی ہے۔ ہم میں سے
بیشتر اپنے دل میں چھپی ہوئی نام ونمود کی اس خواہش کو پوشیدہ نہیں رکھتے ۔بلکہ اپنی انا کی تسکین کیلئے اپنے جانور کو باقاعدہ سجاسنوار کراسے
لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور بڑی شان سے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ جانور ہم نے کتنے میں خریدا ہے ۔حالانکہ اللہ کانام لینے والے
ہر فرد کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کو ہمارے گوشت اور خون کی کوئی پرواہ نہیں اس کو توصرف ہمارا تقوی چاہئے’’(سورہ الحج 37)
اللہ پاک کو توہماری ایسی مکمل اطاعت مطلوب ہے جیسی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کر کے دکھائی لیکن ہم میں سے بیشتر کی حالت یہ ہوتی
ہے کہ قربانی سے پہلے اپنے جانور کی خوب اچھی طرح نمائش کرنے کے بعد بقرعید کے دن اس کو ذبح کرنے کے بعد گوشت عام طورپر
صرف ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ،جن سے کچھ دنیاوی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں،اور اس گوشت کا ایک تہائی حصہ تو کجا چند
بوٹیاں بھی ضرورت مندوں کو دینے سے احتراز ہی نہیں کیا جاتا بلکہ گوشت مانگنے کیلئے آنے والوں کو بری طرح دھتکار دیا جاتاہے ،سوچنے کا
مقام ہے کہ کیا ہمارے اس طرح کے رویہ کے باوجود ہماری قربانی بارگاہ الہٰی میں قبول ہوجائے گی،بظاہر ایسا ممکن نہیں نظر آتا ۔قربانی کے
ثمرات سے صحیح معنوں میں مستفید ہونے کے لیے ہمیں اسوہ ابراہیمی کو ہی مشعل راہ بنانا ہو گا۔ ہم لاکھوں کی قربانی تو کرلیتے ہیں لیکن ہمارے اندر فرماں برداری کا وہ خالص جذبہ موجود ہی نہیں ہے ،اللہ کو جس کی آزمائش مطلوب ہے جس کو بروئے کار لا کر ہم اپنے نفس کے
سر کش گھوڑے کو لگام ڈال سکیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب ہم خالص اللہ رب العزت کی رضاکے لیے اسوۂ ابراہیمی کی پیروی میں
مکمل مطیع اوراخلاص نیت رکھتے ہوئے اس فرض کوادا کریں گے تو ہی اللہ تعالیٰ سے امید لگائی جاسکتی ہے کہ اس کی بارگاہ میں ہماری قربانی
قبول ہو گی،ورنہ اللہ نے توخود ہی یہ واضح کردیاہے کہ اللہ کوتمہارے قربان کیے ہوئے جانور کے خون یا گوشت کی کوئی ضرورت نہیں وہ تو
صرف نیتوں کو پرکھتاہے۔
٭٭٭


