سندھ بلڈنگ،گلشن اقبال میں بلڈنگ مافیا بے لگام، نقشوں میں رد و بدل
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جملانی کی سرپرستی، قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان
بلاک 5پلاٹ نمبر 174اور 302پر کھلی خلاف ورزیاں، کارروائی صفر
۔۔۔۔۔۔۔۔
گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سرکاری دعوے ایک بار پھر کھوکھلے ثابت ہونے لگے ہیں۔
بلاک 5 میں واقع پلاٹ نمبر A174 اور A302 پر مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں میں رد و بدل کرکے خلافِ ضابطہ تعمیرات کا سلسلہ نہ صرف جاری
ہے بلکہ متعلقہ ڈائریکٹر سمیع جملانی کی مبینہ سرپرستی میں قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جا رہی ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگکنٹرول اتھارٹی کے ذمہ دار افسران کی خاموشی نے بلڈنگ مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ، جس کے باعث غیر قانونی منزلیں، اضافی تعمیرات اور نقشوں کی کھلی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔
شہریوں کے مطابق متعدد بار شکایات کے باوجود نہ تو تعمیرات رک سکیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی، جس سے ادارے کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر متعلقہ افسران اپنی قانونی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرتے تو نہ قومی خزانے کو محصولات کی مد میں بھاری نقصان ہوتا اور نہ ہی بلڈنگ مافیا اس قدر بے خوف ہو کر قوانین کی دھجیاں اڑاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں قانون کی حکمرانی کے بجائے بااثر عناصر کی مرضی چل رہی ہے ، جبکہ عام شہری انصاف کے لیے دربدر ہیں۔
شہریوں نے واضح کیا کہ جب متعلقہ ادارہ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے تو ایسے ادارے کے وجود کا مقصد ہی سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔
ان کے مطابق اگر فوری اور بلاامتیاز کارروائی نہ کی گئی تو یہ رجحان پورے علاقے میں خطرناک مثال بن جائے گا۔
علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد سے فوری نوٹس لینے، بلاک 5 کے پلاٹ نمبر A174 اور A302 پر جاری مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو فی الفور سیل کرنے، ذمہ دار افسران اور تعمیراتی ٹھیکیداروں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر تعمیراتی مافیا اور اس کے مبینہ سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو وہ احتجاج، عدالت سے رجوع اور دیگر قانونی اقدامات سمیت ہر آئینی راستہ اختیار کریں گے ، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔


