لوک گلوکارہ مائی بھاگی کو دنیا چھوڑے 40 برس بیت گئے
شیئر کریں
1960 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے شروع ہونے والا ان کا یہ سفر انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گیا
مائی بھاگی 7جولائی 1986 میں ہم سے بچھڑ گئیں لیکن انکی منفرد آواز اور تھری لوک گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے
صحرائے تھر کی ریتلی فضاں میں اپنی سحر انگیز آواز کا جادو جگانے والی مایہ ناز لوک گلوکارہ مائی بھاگی کی چالیسویں برسی منائی گئی۔
تھرپارکر کے ایک چھوٹے سے گاں میں پیدا ہونے والی بھاگ بھری نے جو بعد میں مائی بھاگی کے نام سے مشہور ہوئیں،
غربت اور کٹھن حالات کے باوجود اپنے فن کا لوہا منوایا، انہیں تھر کی کوئل بھی کہا جاتا ہے۔
1960 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے شروع ہونے والا ان کا یہ سفر انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گیا،
مائی بھاگی نے تھری اور مارواڑی لوک موسیقی کو بین الاقوامی سطح پر منفرد پہچان دی،
ان کا لازوال گیت کھڑی نیم کے نیچے آج بھی سننے والوں پر سحر طاری کر دیتا ہے۔
تھر کی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے والی اس عظیم فنکارہ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا،
مائی بھاگی 7 جولائی 1986 میں ہم سے بچھڑ گئی تھیں لیکن ان کی منفرد آواز اور تھری لوک گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔


