میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی

فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی

جرات ڈیسک
بدھ, ۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکہ میکسیکو اور کینیڈا میں فیفا ورلڈ کپ 2026کا آغاز ہو چکا ہے تو ہر پاس شارٹ اور گول پاکستان کے لیے ایک پرسکون لنک لے کر جائے گا۔

ٹورنامنٹ کے آفیشل میچ ایڈیڈاس ٹریوینڈا سیالکوٹ میں تیار کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں تیار کی گئی فٹبال ،فیفا ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر بڑے اعزازکی بات ہے۔ برسوں پہلے کی بات ہے سیالکوٹ کے ایک نوجوان سول انجینئر تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے خاندانی کاروبار میں چچا کا ہاتھ بٹا رہے تھے ،ایک دن ان کے چچا نے فیصلہ کیا کہ وہ نوجوان اب ان کے ساتھ ان کی فٹبال فیکٹری میں کام کرے اور ان کا سہارا لینے کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، یہ نوجوان خواجہ مسعود اختر تھے جنہوں نے چچا کی فیکٹری چھوڑنے کے بعد ایک کمرے سے ہاتھ سے بنے فٹبال جوڑنے کا کام شروع کیا ابتدائی طور پر انہوں نے چند ملازمین سے فٹبال سینے کا کام شروع کیا اگلے تین سال ان کے لیے مشکل تھے، ورکرز کی تعداد 50ہو گئی اور انہوں نے 1991میں فارورڈ اسپورٹس کے نام سے ایک چھوٹی فیکٹری شروع کر دی لیکن ابھی بھی اپنی مصنوعات کو ایک مناسب مارکیٹ میں فروخت کرنا اور برآمد کرنا ان کے لیے مشکل تھا پھر ایک دن ان کی قسمت جاگی اور ان کے پاس جرمنی کی کمپنی ایڈی ڈانس جو ورلڈ کپ سمیت بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے لیے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اور دوسرے منتظمین کو فٹبال فرام کرتی ہے کا نمائندہ آیا اور اس نے خواجہ مسعود اختر سے کہا کہ کہ وہ سیالکوٹ سے فٹبال بنانے کا کچھ کام دوسری فیکٹروں کے ساتھ ساتھ ان سے بھی کروانا چاہتا تھا ۔بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی تھی لیکن اس کامیابی کے بعد کام اور وسائل کا انتظام کرنے کی پریشانی اور ایڈی ڈانس کے معیار کے مطابق فٹبال بنانے کا چیلنج بھی تھا لیکن منزل ابھی دور تھی ۔
فارورڈا سپورٹس کا کام ابھی کچھ آگے بڑا ہی تھا کہ دنیا میں ہاتھوں سے سیے گئے فٹبال کے بجائے مشینوں پر تیار کیے گئے فٹ بال کی مانگ بڑھنا شروع ہو گئی۔ چین نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور مشینوں سے فٹبال بنانے کی بڑی بڑی فیکٹریاں لگا کر پاکستان کے بیشتر آرڈر وہاں منتقل کروا لیے ۔پاکستان میں بھی دوسرے صنعت کاروں کی طرح خواجہ مسعود کو مشینری پرمنتقل ہونا پڑا اور اس کے لیے انہیں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پڑی لیکن وہ ابھی ہاتھوں سے سلائی مشینوں پر منتقل ہونے پر ہی تھے کہ دنیا فٹبال کی نئی ٹیکنالوجی تھرموبول کی طرف چل پڑی اور اس کے لیے مزید جدید مشینری کی ضرورت پڑی۔ اس مشینری کے لیے ایک وسیع سرمائے کی ضرورت تھی جو اس وقت خواجہ مسعود اختر کے پاس نہیں تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب خواجہ مسعود اختر کو اور ان کی فارورڈ سپورٹس ایک دوراہے پر آکھڑی ہو ئے یا تو وہ جدید مشینری کے لیے کہیں سے سرمائے کا بندوبست کرتے اور یا پھر دستیاب وسائل میں کام کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ایڈی ڈاس کا کانٹریکٹ کھو دیتے بلکہ عالمی مارکیٹ سے بھی باہر ہو جاتے ۔خواجہ مسعود نے ایک بڑا فیصلہ کیا، انہوں نے اس وقت کی مطلوبہ مشینری حاصل کرنے بلکہ اپنی فیکٹری کوانتہائی جدید بنانے اور بین الاقوامی سطح پر رائج ٹیکنالوجی کے حصول کا ارادہ کیا تو اس ہدف کی تکمیل کے لیے درکار سرمائے کے لیے انہوں نے بینکوں سے قرضے حاصل کیے اور جدید مشینری کی تنصیب شروع کر دی۔ اس قرضے کی وجہ سے وہ مالی مشکلات کا شکار ہو گئے اور تین سال تک بحران میں فیکٹری چلاتے رہے۔ تاہم انہوں نے معیار اور ٹیکنالوجی پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اس میں آگے بڑھتے ہی گئے۔ انہیں ایڈیڈاس کی طرف سے ورلڈ کپ کے لیے فٹبال بنانے کے آرڈرز ملنا شروع ہو گئے اور فارورڈا سپورٹس ایک پہلی مرتبہ 2014میں برازیل میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ کے میچوں کے لیے برازوکا فٹبال بنایا۔ پھر انہیں روس میں 2018میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے بھی ٹیل اسٹار 18بنانے کا آرڈر ملا اورپھر2022میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے بھی فارورڈاسپورٹس کو ہی آرڈر ملا تھا ۔واضح رہے کہ فارورڈ سپورٹس اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فٹ بال فیکٹری ہے اور وہ ماہانہ لاکھوں کی تعداد میں فٹبال برآمد کر رہے ہیں۔ فارورڈ اسپورٹس اس وقت ماہانہ تقریبا 10لاکھ فٹ بال بنا رہے ہیں۔ اس وقت یہ کمپنی دنیا کی بہترین ٹیکنیکل کمپنی ہے ۔ان کی تحقیق اور ڈیولپمنٹ بہترین ہے ۔ورلڈ کلاس لیبا ٹری میں بین الاقوامی معیار کے 90سے زائد ٹیسٹ ہوتے ہیں ۔پانچ ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن میں سے 2ہزار سے زائد خواتین ہیں۔ خواجہ مسعود اختر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ فٹبال مینوفیکچرنگ میں چین کے تیز ترین سروس فراہم کرنے کے تاثر کو شکست دے چکے ہیں اور اس وقت دنیا میں تیز ترین اور بہترین فٹبال بنانے کا اعزاز سیالکوٹ کے فارورڈ اسپورٹس کو حاصل ہے ۔ہم نے چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایڈیڈاس سے تیز رفتار پیداوار کی ٹرافی بھی لی ہے۔ ہم چین سے سستے آڈیو ویڈیو اور تحقیق پر مشتمل جدید فیکٹری ہیں۔ خواجہ مسعود کا کہنا تھا کہ دوسرے شعبوں میں بھی یہ معیار حاصل کیا جا سکتا ہے ۔اگر پاکستان صنعتوں اور اداروں میں بہترین کارکردگی والا نظام نافذ کر دے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ورکرز اچھا نہیں ہے میں کہتا ہوں ہمارے پاس نظام اچھا نہیں ہے ۔اگر اپ نظام میں کارکردگی لے آئیں تو چین کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ہمیں ورکرز نہیں سسٹم کی کارگردگی درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اپ تحقیق ورکرز کی تربیت اور تحقیق کے نتیجے میں جدید مشینری لگاتے جائیں گے تو اپ کی فیکٹریاں بہتر سے بہتر ہوتی جائیں گی۔ اس وقت پاکستان تقریبا 450ملین ڈالرز کی فٹبال برآمد کر رہا ہے ۔اگر یہاں پیداواری نظام بہتر ہو جائے تو فٹبال میں اور دیگر برآمدات میں بھی مزید بہتری لائی جا سکتی ہے ۔فارورڈ اسپورٹس نے فٹبال کی بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک انتہائی جدید لیبارٹری بنا رکھی ہے، جہاں پر اس کی حتمی پیکنگ سے پہلے متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں ۔فٹ بال کی فروخت سے پہلے اس کو مشینی انداز میں 3500 اسٹروکس لگائے جاتے ہیں ۔پانی میں پائیداری اور ٹمپریچر کی آزمائش کے لیے سات دن تک گرم ماحول میں رکھا جاتا ہے اور صرف وہی فٹبال برآمد کیے جاتے ہیں جو ان ٹیٹس پر پورا اترتے ہیں۔ قطر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا گیا فٹبال ماحول دوست اور اس میں نئی خصوصیات تھیں جو اس سے پہلے بننے والے فٹبال میں نہیں تھی ۔اس فٹ بال میں کافی سارا ریسائیکل ہونے والا مواد استعمال کیا گیا اس کے علاوہ ایسا کیمیکل مواد بھی استعمال کیا جو فٹبال کی مدت پوری ہونے کے بعد خود ہی ختم ہو جائے اورماحول کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے ۔ ایڈیڈاس نے فٹبال میں ہوا بھرنے سے بچنے کے لیے چین کو بغیر ہوا کے فٹ بال بنانے کے لیے تجویز دی تھی جس پر چینی ماہرین نے کچھ عرصہ کام کیا تاہم ایک جگہ پر جا کر وہ رک گئے اور اس سے آگے اس فٹ بال کی تیاری انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔ فارورڈ اسپورٹس نے اسے زیرو سے شروع کیا اور اس کو بنا لیا۔ یہ چھوٹے بال سے شروع ہوئی تحقیق کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔ڈیڑھ دو سال لگے مشینری بنانا پڑی اور پھر بغیر ہوا کے فٹبال بنا لیا گیا۔ اس میں 10سال تک ہوا نہیں بھرنا پڑے گی اور یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے نارمل ہوتے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ پاکستان کی فٹبال ٹیم فیفا ٹورنامنٹ میں دور دور تک نہیں ہے لیکن پاکستان کے ہنرمند کاریگروں کی وجہ سے پاکستان کا فٹبال فیفا ٹورنامنٹ میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے اور یہ حکومت پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان میں فٹبال کی ٹیم تیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں