پنک بس کی سہولت
شیئر کریں
چند روز پہلے میں سوچ رہی تھی کہ کسی بھی شہر کی اصل پہچان کیا ہوتی ہے؟
کیا بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں یا بڑے شاپنگ مال؟ نہیں، کسی شہر کی اصل شناخت اس کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام سے ہوتی ہے ۔ جب ایک طالب علم، ملازم، مزدور، دکاندار، بزرگ اور خاتون سکون، تحفظ، وقت کی پابندی اور آسانی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکیں تو سمجھ لیجیے ، وہ شہر ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔
کوئٹہ کا نام آتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں دھماکوں، گرد و غبار، بے ہنگم ٹریفک اور محرومیوں کی تصویر ابھرتی ہے ، لیکن شہروں کی قسمت ہمیشہ بڑے منصوبوں سے نہیں بدلتی، بعض اوقات ایک درست فیصلہ بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے ۔10دسمبر 2025کو حکومت ِبلوچستان نے کوئٹہ میں خواتین کے لیے پہلی پنک بس سروس کا آغاز کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اسے خواتین کو محفوظ، باوقار اور معیاری سفری سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ اور واقعی یہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صاحب کا ایک قابل تعریف اور احسن اقدام ہے ۔ بظاہر یہ شہر میں چند بسوں کا اضافہ ہے ، مگر حقیقت میں یہ اس سوچ کا اظہار ہے کہ خواتین کی محفوظ نقل و حرکت ہی انہیں تعلیم، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کا موقع فراہم کرتی ہے ۔
جو لوگ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتے ، شاید وہ اس دشواری کا اندازہ نہ لگا سکیں جس کا سامنا ایک طالبہ ، ایک ملازمت پیشہ خاتون اور ایک عورت کو روزانہ کرنا پڑتا ہے ۔ ہجوم، مہنگائی، غیر یقینی صورتحال اور طویل انتظار ان کے معمول کا حصہ ہیں۔ ایسے ماحول میں محفوظ، آرام دہ اور باوقار سفری سہولت صرف آمدورفت آسان نہیں بناتی، بلکہ خوداعتمادی اور اطمینان بھی پیدا کرتی ہے ۔
دنیا کے کامیاب شہروں نے یہی سبق دیا ہے ۔ سنگاپور میں لاکھوں افراد روزانہ بسوں اور ریل کے ذریعے وقت پر اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔ لندن کی سرخ ڈبل ڈیکر بسیں ایک منظم شہری نظام کی علامت ہیں۔ سیؤل جو جنوبی کوریا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے ۔ اس نے جدید بس نیٹ ورک اور اسمارٹ ٹیکنالوجی سے شہری زندگی کو آسان بنایا، جبکہ کوریتیبا جو برازیل کے صوبہ پارانہ کا دارالحکومت ہے ، اس نے محدود وسائل کے باوجود ایسا پبلک ٹرانسپورٹ ماڈل قائم کیا جسے آج بھی دنیا مثال کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ ان شہروں نے ثابت کیا کہ ترقی کا معیار صرف سڑکیں بنانا نہیں بلکہ شہریوں کے سفر کو آسان بنانا ہے ۔
کوئٹہ میں پنک بس سروس کا ابتدائی روٹ بلیلی سے بلوچستان یونیورسٹی سریاب روڈ تک رکھا گیا، جسے بعد میں پولی ٹیکنیک کالج تک توسیع دی گئی۔ یہ خوش آئند آغاز ہے ، لیکن کسی بھی منصوبے کی اصل کامیابی اس کے تسلسل، وسعت، بہتر انتظام اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے ۔
میری وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے چند گزارشات ہیں۔ پنک بس کا روٹ گاہی خان چوک تک بڑھایا جائے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبات اور خواتین اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہر پانچ منٹ بعد ایک بس دستیاب ہو۔ ہر بس اسٹاپ پر سایہ دار انتظار گاہ، بیٹھنے کی جگہ، صاف پانی، شجرکاری، روشنی، بیت الخلا اور مناسب سکیورٹی کا انتظام کیا جائے ۔ اگر ممکن ہو تو پنک بس کا ڈرائیور، کنڈکٹر اور معاون عملہ بھی خواتین پر مشتمل ہو تاکہ خواتین مسافر مزید اعتماد کے ساتھ سفر کر سکیں۔ اس کے ساتھ موبائل ایپ، ڈیجیٹل ٹکٹنگ اور وقت کی پابندی کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے ۔
اگر ایک طالبہ اس بس کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکے ، ایک خاتون محفوظ طریقے سے اپنے دفتر پہنچ سکے یا ایک ماں اطمینان کے ساتھ اسپتال جا سکے تو یہ منصوبہ اپنی افادیت ثابت کر دے گا۔ کامیاب حکومتیں صرف منصوبوں کا افتتاح نہیں کرتیں بلکہ انہیں مستقل، مؤثر اور عوام دوست بھی بناتی ہیں۔شہروں کی ترقی فلائی اوورز سے نہیں، انسانوں کی آسانیوں سے ناپی جاتی ہے ۔ اور کبھی کبھی ایک شہر کا مستقبل واقعی ایک بس کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہے ۔
آخر میں یہ گزارش بھی ہے کہ جس طرح خواتین کی سہولت اور تحفظ کے لیے پنک بس سروس متعارف کرائی گئی ہے ، اسی طرح گرین بس سروس کو مرد مسافروں کے لیے مخصوص کرنے پر بھی غور کیا جائے تاکہ دونوں طبقات کو اپنی ضروریات کے مطابق بہتر اور منظم سفری سہولت میسر آسکے ۔
٭٭٭


